Skip to main content

وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَلِقَاۤٮِٕهٖۤ اُولٰۤٮِٕكَ يَٮِٕسُوْا مِنْ رَّحْمَتِىْ وَاُولٰۤٮِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ

وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
بِـَٔايَٰتِ
آیات کا
ٱللَّهِ
اللہ کی
وَلِقَآئِهِۦٓ
اور اس کی ملاقات کا
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
يَئِسُوا۟
مایوس ہوگئے ہیں
مِن
سے
رَّحْمَتِى
میری رحمت (سے)
وَأُو۟لَٰٓئِكَ
اور یہی لوگ
لَهُمْ
ان کے لئے
عَذَابٌ
عذاب ہے
أَلِيمٌ
درد ناک

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور وہ جنہوں نے میری آیتوں اور میرے ملنے کو نہ مانا وہ ہیں جنہیں میری رحمت کی آس نہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور جن لوگو ں نے الله کی آیتوں اور اس کے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نا امید ہو گئے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جو لوگ اللہ تعالٰی کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وہ میری رحمت سے نا امید ہوجائیں (١) اور ان لئے دردناک عذاب ہے۔

٢٣۔١ اللہ تعالٰی کی رحمت، دنیا میں عام ہے جس سے کافر اور مومن، منافق اور مخلص اور نیک اور بد سب یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں اللہ تعالٰی سب کو دنیا کے وسائل، آسائش اور مال و دولت عطا کر رہا ہے یہ رحمت الٰہی کی وہ وسعت ہے جسے اللہ تعالٰی نے دوسرے مقام پر فرمایا ' میری رحمت نے ہرچیز کو گھیر لیا ہے ' لیکن آخر میں چونکہ دارالجزاء ہے، انسان نے دنیا کی کھیتی میں جو کچھ بویا ہوگا اسی کی فصل اسے وہاں کاٹنی ہوگی، جیسے عمل کئے ہونگے اس کی جزاء اسے وہاں ملے گی۔ اللہ کی بارگاہ میں بےلاگ فیصلے ہوں گے۔ دنیا کی طرح اگر آخرت میں بھی نیک وبد کے ساتھ یکساں سلوک ہو اور مومن وکافر دونوں ہی رحمت الہی کے مستحق قرار پائیں تو اس سے ایک تو اللہ تعالٰی کی صفت عدل پر حرف آتا ہے، دوسرے قیامت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ قیامت کا دن تو اللہ نے رکھا ہی اس لیے ہے کہ وہاں نیکوں کو ان کی نیکیوں کے صلے میں جنت اور بدوں کو انکی بدیوں کی جزا میں جہنم دی جائے۔ اس لیے قیامت والے دن اللہ تعالٰی کی رحمت صرف اہل ایمان کے لیے خاص ہوگی۔ جسے یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ آخرت اور معاد کے ہی منکر ہوں گے وہ میری رحمت سے نا امید ہوں گے یعنی ان کے حصے میں رحمت الہی نہیں آئے گی۔ سورہ اعراف میں اس کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ (فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ) 7۔ الاعراف;156) میں یہ رحمت (آخرت میں) ان لوگوں کے لیے لکھوں گا جو متقی، زکوۃ ادا کرنے والے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہوں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جن لوگوں نے خدا کی آیتوں سے اور اس کے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نااُمید ہوگئے ہیں اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وه میری رحمت سے ناامید ہو جائیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوگئے ہیں اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جو لوگ خدا کی نشانیوں اور اس کی ملاقات کا انکار کرتے ہیں وہ میری رحمت سے مایوس ہیں اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہ لوگ میری رحمت سے مایوس ہوگئے اور ان ہی لوگوں کے لئے درد ناک عذاب ہے،