Skip to main content

اَٮِٕنَّكُمْ لَـتَأْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِيْلَ ۙ وَتَأْ تُوْنَ فِىْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ ۗ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ

أَئِنَّكُمْ
کیا بیشک تم
لَتَأْتُونَ
البتہ آتے ہو
ٱلرِّجَالَ
مردوں کے پاس
وَتَقْطَعُونَ
اور تم کاٹتے ہو
ٱلسَّبِيلَ
راستے کو
وَتَأْتُونَ
اور تم آتے ہو
فِى
میں
نَادِيكُمُ
اپنی مجلسوں میں
ٱلْمُنكَرَۖ
برائی کو
فَمَا
تو نہ
كَانَ
تھا
جَوَابَ
جواب
قَوْمِهِۦٓ
اس کی قوم کا
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
قَالُوا۟
انہوں نے کہا
ٱئْتِنَا
لے آتے ہمارے پاس
بِعَذَابِ
عذاب
ٱللَّهِ
اللہ کا
إِن
اگر
كُنتَ
ہے تو
مِنَ
سے
ٱلصَّٰدِقِينَ
سچوں میں (سے)

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟" پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا "لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟" پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا "لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا تم مردوں سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو اور اپنی مجلس میں بری بات کرتے ہو تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو

احمد علی Ahmed Ali

کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو اور تم ڈاکے ڈالتے ہو اور اپنی مجلس میں برا کام کرتے ہو پھر اس کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ تو ہم پر الله کا عذاب لے آ اگر تو سچا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا تم مردوں کے پاس بد فعلی کے لئے آتے ہو (١) اور راستے بند کرتے ہو (٢) اور اپنی عام مجلسوں میں بےحیائیوں کا کام کرتے ہو (۳) اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا بس (٤) جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالٰی کا عذاب لے آ۔

٢٩۔١ یعنی تمہاری شہوت پرستی اس انتہاء تک پہنچ گئی ہے کہ اس کے لئے طبعی طریقے تمہارے لئے ناکافی ہیں اور غیر طبعی طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ جنسی شہوت کی تسکین کے لئے طبعی طریقہ اللہ تعالٰی نے بیویوں سے مباشرت کی صورت میں رکھا ہے۔ اسے چھوڑ کر اس کام کے لئے مردوں کی دبر استعمال کرنا غیر طبعی طریقہ ہے۔
٢٩۔٢ اس کے ایک معنی تو یہ کیے گے ہیں کہ آنے جانے والے مسافروں، نو واردوں اور گزرنے والوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر تم ان سے بےحیائی کا کام کرتے ہو، جس سے لوگوں کے لئے راستوں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے، قطع طریق کے ایک معنی قطع نسل کے بھی کئے گئے ہیں، یعنی عورتوں کی شرم گاہوں کو استعمال کرنے کی بجائے مردوں کی دبر استعمال کر کے تم اپنی نسل بھی منقطع کرنے میں لگے ہوئے ہو (فتح القدیر)
۲۹۔۲ یہ بےحیائی کیا تھی؟ اس میں بھی مختلف اقوال ہیں، مثلا لوگوں کو کنکریاں مارنا، اجنبی مسافر کا استہزاء و استخفاف، مجلسوں میں پاد مارنا، ایک دوسرے کے سامنے اغلام بازی، شطرنج وغیرہ قسم کی قماربازی، رنگے ہوئے کپڑے پہننا، وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ وہ یہ تمام ہی منکرات کرتے رہے ہوں،
۲۹۔۳حضرت لوط علیہ السلام نے جب انہیں ان منکرات سے منع کیا تو اس کے جواب میں کہا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لیے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو؟ اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تم (عورتوں کو چھوڑ کر) مردوں کے پاس جاتے ہو؟ اور راہزنی کرتے ہو اور اپنے مجمع میں برے کام کرتے ہو۔ تو ان کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا (اے لوط) اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لاؤ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

تم لوگ مذِدوں سے جنسی تعلّقات پیدا کررہے ہو اور راستے قطع کررہے ہو اور اپنی محفلوں میں برائیوں کو انجام دے رہے ہو .... تو ان کی قوم کے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا کہ اگر تم صادقین میں سے ہو تو وہ عذاب هالٰہی لے آؤ جس کی خبر دے رہے ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا تم (شہوت رانی کے لئے) مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی (بھری) مجلس میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو، تو ان کی قوم کا جواب (بھی) اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے: تم ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہو،