ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے اس وجہ سے کہ انہوں نے اس چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرایا ہے جس کے لئے اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا (وہ) ٹھکانا بہت ہی برا ہے،
English Sahih:
We will cast terror into the hearts of those who disbelieve for what they have associated with Allah of which He had not sent down [any] authority. And their refuge will be the Fire, and wretched is the residence of the wrongdoers.
1 Abul A'ala Maududi
عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے اللہ کے ساتھ اُن کو خدائی میں شریک ٹھیرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہوگی
2 Ahmed Raza Khan
کوئی دم جاتا ہے کہ ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈالیں گے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس پر اس نے کوئی سمجھ نہ اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا برا ٹھکانا ناانصافوں کا،
3 Ahmed Ali
اب ہم کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دیں گے اس لیے کہ انہوں نے الله کا شریک ٹھیرایا جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا وہ بہت بڑاٹھکانا ہے
4 Ahsanul Bayan
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری (١) ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور ان ظالموں کی بری جگہ ہے۔
١٥١۔١ مسلمانوں کی شکست دیکھتے ہوئے بعض کافروں کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ موقع مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے بڑا اچھا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالٰی نے کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا پھر انہیں اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ نہ ہوا (فتح القدیر)۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ "نصرت بالرعب مسیرۃ شھر "دشمن کے دل میں ایک مہینے کی مسافت پر میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی ہے۔"اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب مستقل طور پر دشمن کے دل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت یعنی مسلمانوں کا رعب بھی مشرکوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا شرک ہے۔ گویا شرک کرنے والوں کا دل دوسروں کی ہیبت سے لرزاں و ترساں رہتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہوئی ہے، دشمن ان سے مرعوب ہونے کی بجائے، وہ دشمنوں سے مرعوب ہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ ظالموں کا بہت بُرا ٹھکانا ہے
6 Muhammad Junagarhi
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور ان ﻇالموں کی بری جگہ ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
(تم پریشان نہ ہو) ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے اس لئے کہ انہوں نے خدائی میں ان بتوں کو شریک بنایا ہے۔ جن کے بارے میں خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے اور ان کا انجام جہّنم ہوگا اور وہ ظالمین کا بدترین ٹھکانہ ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کہ انہوں نے اس کو خدا کا شریک بنایا ہے جس کے بارے میں خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے اور ان کا انجام جہّنم ہوگا اور وہ ظالمین کا بدترین ٹھکانہ ہے
9 Tafsir Jalalayn
ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی ان کا ٹھکانہ ددزخ ہے وہ ظالموں کا بہت برا ٹھکانہ ہے سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الرُّعْبَ (الآیۃ) دشمنان دین کے دلوں میں القاء رعب کی یہ واضح مثال تاریخ کے صفحات میں یوں محفوظ ہے کہ معرکہ احد میں جب آخری فتح بظاہر مشرکین مکہ کو ہوگئی تھی۔ اب قدرتی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ وہ لوگ وہیں سے شہر مدینہ پر چڑھ دوڑتے، لیکن انہیں اس کی ہمت نہ پڑی، اور بلا کسی ظاہری سبب کے مکہ کی طرف واپس لوٹ گئے، پھر جب کچھ راستہ طے کرچکے تو اپنی حماقت پر افسوس کرنے لگے کہ جب مسلمانوں کو شکست ہو ہی چکی تھی تو اس وقت وہاں سے واپس آنا کوئی دانشمندی نہیں تھی۔ اور پھر مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا ارادہ کیا تو اللہ نے ان کے دلوں پر ایسا رعب ڈالا کہ مدینہ کی طرف بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ کسی راہ گیر کو کچھ مال دے کر اس بات پر راضی کرلیا کہ تم مدینہ جا کر مسلمانوں کو ڈرا دو کہ وہ پھر لوٹ کر واپس آرہے ہیں، یہاں یہ سارا واقعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے تعاقب کے لیے مقام حمراء الاسد تک پہنچے مگر وہ بھاگ چکے تھے یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی۔
10 Tafsir as-Saadi
پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا جو کفار کے دلوں میں رعب ڈالنے کا موجب تھا ﴿بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا﴾ یعنی اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا لیے اور اپنی خواہشات نفس اور اپنے فاسد ارادوں کے مطابق بتوں کو رب بنا لیا۔ جس پر کوئی حجت اور برہان نہیں تھی اور اس طرح وہ اللہ واحد و رحمٰن کی سرپرستی سے محروم ہوگئے۔ اسی وجہ سے مشرک اہل ایمان سے مرعوب ہوجاتا تھا اور اسے کوئی مضبوط سہارا حاصل نہیں تھا۔ کسی شدت اور تنگی کے وقت کوئی اس کی پناہ گاہ نہیں تھی۔ یہ اس کا دنیا میں حال ہے۔ آخرت کا حال اس سے زیادہ برا اور سخت ہوگا اس لیے فرمایا : ﴿وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ﴾ یعنی ان کا ٹھکانا جہاں یہ پناہ لیں گے، جہنم ہے، اور پھر وہاں سے نکل نہیں سکیں گے﴿وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ ﴾ ” اور برا ہے ٹھکانا ظالموں کا“ ان کے ظلم اور تعدی کے سبب جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا۔
11 Mufti Taqi Usmani
jinn logon ney kufr apnaya hai , hum unqareeb unn kay dilon mein roab daal den gay kiyonkay unhon ney Allah ki khudai mein aesi cheezon ko shareek thehraya hai jinn kay baaray mein Allah ney koi daleel nahi utaari . unn ka thikana jahannum hai , aur woh zalimon ka bad-tareen thikana hai .