Skip to main content

اَللّٰهُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَّشَيْبَةً ۗ يَخْلُقُ مَا يَشَاۤءُ ۚ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ

ٱللَّهُ
اللہ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
خَلَقَكُم
جس نے پیدا کیا تم کو
مِّن
سے
ضَعْفٍ
کمزوری
ثُمَّ
پھر اس نے
جَعَلَ
بنایا
مِنۢ
سے
بَعْدِ
بعد
ضَعْفٍ
کمزوری کے
قُوَّةً
قوت کو
ثُمَّ
پھر
جَعَلَ
بنایا
مِنۢ
بَعْدِ
بعد
قُوَّةٍ
قوت کے
ضَعْفًا
کمزوری کو
وَشَيْبَةًۚ
اور بڑھاپا
يَخْلُقُ
وہ پیدا کرتا ہے
مَا
جو
يَشَآءُۖ
وہ چاہتا ہے
وَهُوَ
اور وہی
ٱلْعَلِيمُ
جاننے والا ہے
ٱلْقَدِيرُ
قدرت رکھنے والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اللہ ہے جس نے تمہیں ابتداء میں کمزور بنایا پھر تمہیں ناتوانی سے طاقت بخشی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا، بناتا ہے جو چاہے اور وہی علم و قدرت والا ہے،

احمد علی Ahmed Ali

الله ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا بنایا جو چاہتاہے پیدا کرتا ہے اوروہی جاننے والا قدرت والا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اللہ تعالٰی وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں (١) پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی (٢) دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا (۳) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (٤) وہ سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے۔

٥٤۔١ یہاں سے اللہ تعالٰی اپنی قدرت کا ایک اور کمال بیان فرما رہا ہے اور وہ ہے مختلف اطوار سے انسان کی تخلیق۔ ضعف (کمزوری کی حالت) سے مراد نطفہ یعنی قطرہ آب ہے یا عالم طفولیت۔
٥٤۔٢ یعنی جوانی، جس میں قوائے عقلی و جسمانی کی تکمیل ہو جاتی ہے۔ ٥٤۔۳ کمزوری سے مراد کہولت کی عمر ہے جس میں عقلی و جسمانی قوتوں میں نقصان کا آغاز ہو جاتا ہے اور بڑھاپے سے مراد شیخوخت کا وہ دور ہے جس میں ضعف بڑھ جاتا ہے۔ ہمت پست ہاتھ پیروں کی حرکت اور گرفت کمزور، بال سفید اور تمام ظاہری و باطنی صفات متغیر ہو جاتی ہیں۔ قرآن نے انسان کے یہ چار بڑے اطوار بیان کیے ہیں۔ بعض علماء نے دیگر چھوٹے چھوٹے اطوار بھی شمار کر کے انہیں قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے جو قرآن کے اجمال کی توضیح اور اس کے اعجاز بیان کی شرح ہے مثلا امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ انسان یکے بعد دیگرے ان حالات واطوار سے گزرتا ہے۔ اس کی اصل مٹی ہے یعنی اس کے باپ آدم علیہ السلام کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی یا انسان جو کچھ کھاتا ہے جس سے وہ منی پیدا ہوتی ہے جو رحم مادر میں جاکر اس کے وجود و تخلیق کا باعث بنتی ہے، وہ سب مٹی ہی کی پیداوار ہے پھر وہ نطفہ، نطفہ سے علقہ پھر مضغہ پھر ہڈیاں جنہیں گوشت کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ پھر ماں کے پیٹ سے اس حال میں نکلتا ہے کہ نحیف و نزار اور نہایت نرم ونازک ہوتا ہے۔ پھر بتدریج نشوونما پاتا، بچپن، بلوغت اور جوانی کو پہنچتا ہے اور پھر بتدریج رجعت قہقری کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ کہولت، شیخوخت اور پھر کبر سنی تاآنکہ موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔
٥٤۔٣ انہی اشیاء میں ضعف و قوت بھی ہے، جس سے انسان گزرتا ہے جیسا کہ ابھی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وه سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اللہ ہی وہ ہے جس نے کمزوری کی حالت سے تمہاری پیدائش کا آغاز کیا۔ پھر کمزوری کے بعد (تمہیں جوانی کی) قوت بخشی اور پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ بڑا جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اللرُ ہی وہ ہے جس نے تم سب کو کمزوری سے پیدا کیا ہے اور پھر کمزوری کے بعد طاقت عطا کی ہے اور پھر طاقت کے بعد کمزوری اور ضعیفی قرار دی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے کہ وہ صاحب هعلم بھی ہے اور صاحب قدرت بھی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں کمزور چیز (یعنی نطفہ) سے پیدا فرمایا پھر اس نے کمزوری کے بعد قوتِ (شباب) پیدا کیا، پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ خوب جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

پیدائش انسان کی مرحلہ وار روداد
انسان کی ترقی وتنزل اس کی اصل تو مٹی سے ہے۔ پھر نطفے سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے پھر اسے ہڈیاں پہنائی جاتی ہیں پھر ہڈیوں پر گوشت پوست پہنایا جاتا ہے پھر روح پھونکی جاتی ہے پھر ماں کے پیٹ سے ضعیف ونحیف ہو کر نکلتا ہے پھر تھوڑا تھوڑا بڑھتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے پھر بچپن کے زمانے کی بہاریں دیکھتا ہے پھر جوانی کے قریب پہنچتا ہے پھر جوان ہوتا ہے آخر نشوونما موقوف ہوجاتی ہے۔ اب قوی پھر مضمحل ہونے شروع ہوتے ہیں طاقتیں گھٹنے لگتی ہیں ادھیڑ عمر کر پہنچتا ہے پھر بڈھا ہوتا پھونس ہوجاتا ہے طاقت کے بعد یہ کمزوری بھی قابل عبرت ہوتی ہے۔ کہ ہمت پست ہے، دیکھنا سننا چلنا پھرنا اٹھنا اچکنا پکڑنا غرض ہر طاقت گھٹ جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ بالکل جواب دے جاتی ہے اور ساری صفتیں متغیر ہوجاتی ہے۔ بدن پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ رخسار پچک جاتے ہیں دانت ٹوٹ جاتے ہیں بال سفید ہوجاتے ہیں۔ یہ قوت کے بعد کی ضعیفی اور بڑھاپا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ بنانا بگاڑنا اس کی قدرت کے ادنی کرشمے ہیں۔ ساری مخلوق اس کی غلام وہ سب کا مالک وہ عالم و قادر نہ اس کا سا کسی کا علم نہ اس جیسی کسی کی قدرت۔ حضرت عطیہ عوفی کہتے ہیں میں نے اس آیت کو ضعفا تک حضرت ابن عمر (رض) کے سامنے پڑھا تو آپ نے بھی اسے تلاوت کی اور فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس آیت کو اتناہی پڑھا تھا جو آپ پڑھنے لگے جس طرح میں نے تمہاری قرأت پر قرأت شروع کردی (ابوداؤد ترمذی مسند احمد )