Skip to main content

وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۙ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَاعَةٍ ۗ كَذٰلِكَ كَانُوْا يُؤْفَكُوْنَ

وَيَوْمَ
اور جس دن
تَقُومُ
قائم ہوگی
ٱلسَّاعَةُ
قیامت
يُقْسِمُ
قسمیں کھائیں گے
ٱلْمُجْرِمُونَ
مجرم
مَا
نہیں
لَبِثُوا۟
وہ ٹھہرے
غَيْرَ
سوائے
سَاعَةٍۚ
ایک گھڑی کے
كَذَٰلِكَ
اسی طرح
كَانُوا۟
تھے وہ
يُؤْفَكُونَ
پھیرے جاتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم قسم کھائیں گے کہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی وہ ایسے ہی اوندھے جاتے تھے

احمد علی Ahmed Ali

اورجس دن قیامت قائم ہو گی گناہگار قسمیں کھائیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے بھی زیادہ نہیں ٹھہرے تھے اسی طرح وہ الٹے جاتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جس دن قیامت (۱) برپا ہو جائے گی گناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے (۲) اسی طرح بہکے ہوئے ہی رہے (۳)۔

٥٥۔١ ساعت کے معنی ہیں گھڑی، لمحہ، مراد قیامت ہے، اس کو ساعت اس لئے کہا گیا کہ اس واقعہ کو جب اللہ چاہے گا، ایک گھڑی میں ہو جائے گا۔ یا اس لئے کہ یہ اس گھڑی میں ہوگی جو دنیا کی آخری گھڑی ہوگی۔
٥٥۔۲دنیا میں یا قبروں میں یہ اپنی عادت کے مطابق جھوٹی قسم کھائیں گے اس لیے کہ دنیا میں وہ جتنا عرصہ رہے ہوں گے ان کے علم میں ہی ہوگا اور اگر مراد قبر کی زندگی ہے تو ان کا حلف جہالت پر ہوگا کیونکہ وہ قبر کی مدت نہیں جانتے ہوں گے۔ بعض کہتے کہ آخرت کے شدائد اور ہولناک احوال کے مقابلے میں دنیا کی زندگی انہیں گھڑی کی طرح ہی لگے گی۔
٥٥۔۳ اَفَکَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں۔ سچ سے پھر گیا، مطلب ہوگا، اسی پھرنے کے مثل وہ دنیا میں پھرتے رہے یا بہکے رہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ اسی طرح وہ (رستے سے) اُلٹے جاتے تھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جس دن قیامت برپا ہو جائے گی گناه گار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے، اسی طرح یہ بہکے ہوئے ہی رہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ قَسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا) میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے۔ یہ لوگ (دنیا میں بھی) اسی طرح الٹے چلا کرتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرمین قسم کھاکر کہیں گے کہ وہ ایک ساعت سے زیادہ دنیا میں نہیںٹہرے ہیں درحقیقت یہ اسی طرح دنیا میں بھی افترا پردازیاں کیا کرتے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جس دن قیامت برپا ہوگی مُجرم لوگ قَسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) پھرے رہتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

واپسی ناممکن ہوگی
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24؀) 41 ۔ فصلت ;24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔