Skip to main content

وَاٰيَةٌ لَّهُمُ الَّيْلُ ۖ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ

وَءَايَةٌ
اور ایک نشانی
لَّهُمُ
ان کے لئے
ٱلَّيْلُ
رات ہے
نَسْلَخُ
ہم نکال لیتے ہیں/ کھینچتے ہیں
مِنْهُ
اس سے
ٱلنَّهَارَ
دن کو
فَإِذَا
تو تب
هُم
وہ
مُّظْلِمُونَ
اندھیرے میں داخل ہوجاتے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور ان کے لیے ایک نشانی رات ہے ہم اس پر سے دن کھینچ لیتے ہیں جبھی وہ اندھیروں میں ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

اور ان کے لیے رات بھی ایک نشانی ہے کہ ہم اس کے اوپرسے دن کو اتار دیتے ہیں پھر ناگہاں وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھنچ دیتے ہیں تو یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (١)

٣٧۔١ یعنی اللہ کی قدرت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ دن کو رات سے الگ کر دیتا ہے، جس سے فوراً اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ دن کو رات سے الگ کر دیتا ہے۔ اَظْلَمَ کے معنی ہیں، اندھیرے میں داخل ہونا۔ جیسے اَصْبَحَ اور اَمْسَیٰ اور اَظْھَرَ کے معنی ہیں، صبح شام اور ظہر کے وقت میں داخل ہونا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں تو وه یکایک اندھیرے میں ره جاتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور ان کیلئے ایک نشانی رات بھی ہے جس سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو ایک دم وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے جس میں سے ہم کھینچ کر دن کو نکال لیتے ہیں تو یہ سب اندھیرے میں چلے جاتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ایک نشانی اُن کے لئے رات (بھی) ہے، ہم اس میں سے (کیسے) دن کو کھینچ لیتے ہیں سو وہ اس وقت اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

گردش شمس و قمر۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک اور نشانی بیان ہو رہی ہے اور وہ دن رات ہیں جو اجالے اور اندھیرے والے ہیں اور برابر ایک دوسرے کے پیچھے جا رہے ہیں جیسے فرمایا (يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهٗ حَثِيْثًا 54؀) 7 ۔ الاعراف ;54) رات سے دن کو چھپاتا ہے اور رات دن کو جلدی جلدی ڈھونڈتی آتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا رات میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں، دن تو ختم ہوا اور رات آگئی اور ہر طرف سے اندھیرا چھا گیا۔ حدیث میں ہے جب ادھر سے رات آجائے اور دن ادھر سے چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزے دار افطار کرلے۔ ظاہر آیت تو یہی ہے لیکن حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب مثل آیت ( يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۭ وَهُوَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ ۝) 57 ۔ الحدید ;6) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کردیتا ہے۔ حضرت امام ابن جریر اس قول کو ضعیف بتاتے ہیں اور فرماتے اس آیت میں جو لفظ ایلاج ہے اس کے معنی ایک کی کمی کر کے دوسری میں زیادتی کرنے کے ہیں اور یہ مراد اس آیت میں نہیں، امام صاحب کا یہ قول حق ہے۔ مستقر سے مراد یا تو مستقر مکانی یعنی جائے قرار ہے اور وہ عرش تلے کی وہ سمت ہے پس ایک سورج ہی نہیں بلکہ کل مخلوق عرش کے نیچے ہی ہے اس لئے کہ عرش ساری مخلوق کے اوپر ہے اور سب کو احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ کرہ نہیں ہے جیسے کہ ہئیت داں کہتے ہیں۔ بلکہ وہ مثل قبے کے ہے جس کے پائے ہیں اور جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں انسانوں کے سروں کے اوپر اوپر والے عالم میں ہے، پس جبکہ سورج فلکی قبے میں ٹھیک ظہر کے وقت ہوتا ہے اس وقت وہ عرش سے بہت قریب ہوتا ہے پھر جب وہ گھوم کر چوتھے فلک میں اسی مقام کے بالمقابل آجاتا ہے یہ آدھی رات کا وقت ہوتا ہے جبکہ وہ عرش سے بہت دور ہوجاتا ہے پس وہ سجدہ کرتا ہے اور طلوع کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ احادیث میں ہے۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں سورج کے غروب ہونے کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں تھا تو آپ نے مجھ سے فرمایا جانتے ہو یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتا ہے، آپ نے فرمایا وہ عرش تلے جا کر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر آپ نے آیت والشمس الخ، تلاوت کی اور حدیث میں ہے کہ آپ سے حضرت ابوذر (رض) نے اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے فرمایا اس کی قرار گاہ عرش کے نیچے ہے، مسند احمد میں اس سے پہلے کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے واپس لوٹنے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے۔ گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ جاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا تو وہ اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے نکلتا ہے اور یہی اس کا مستقر ہے، پھر آپ نے اس آیت کے ابتدائی فقرے کو پڑھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے لیکن قبول نہ کیا جائے اور اجازت مانگے لیکن اجازت نہ دی جائے بلکہ کہا جائے جہاں سے آیا ہے وہیں لوٹ جا پس وہ مغرب سے ہی طلوع ہوگا یہی معنی ہیں اس آیت کے۔ عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ سورج طلوع ہوتا ہے اسے انسانوں کے گناہ لوٹا دیتے ہیں وہ غروب ہو کر سجدے میں پڑتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے، ایک دن یہ غروب ہو کر بہ عاجزی سجدہ کرے گا اور اجازت مانگے گا لیکن اجازت نہ دی جائے گی وہ کہے گا کہ راہ دور ہے اور اجازت ملی نہیں تو پہنچ نہیں سکوں گا پھر کچھ دیر روک رکھنے کے بعد اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے غروب ہوا تھا وہیں سے طلوع ہوجا۔ یہی قیامت کا دن ہوگا جس دن ایمان لانا محض بےسود ہوگا اور نیکیاں کرنا بھی ان کے لئے جو اس سے پہلے ایمان دار اور نیکو کار نہ تھے بیکار ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقر سے مراد اس کے چلنے کی انتہا ہے پوری بلندی جو گرمیوں میں ہوتی ہے اور پوری پستی جو جاڑوں میں ہوتی ہے۔ پس یہ ایک قول ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آیت کے اس لفظ مستقر سے مراد اس کی چال کا خاتمہ ہے قیامت کے دن اس کی حرکت باطل ہوجائے گی یہ بےنور ہوجائے گا اور یہ عالم کل کا کل ختم ہوجائے گا۔ یہ مستقر زمانی ہے۔ حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں وہ اپنے مستقر پر چلتا ہے یعنی اپنے وقت اور اپنی میعاد پر جس سے تجاوز کر نہیں سکتا جو اس کے راستے جاڑوں کے اور گرمیوں کے مقرر ہیں انہی راستوں سے آتا جاتا ہے، ابن مسعود اور ابن عباسی (رض) کی قرأت لامستقرلھا ہے یعنی اس کے لئے سکون وقرار نہیں بلکہ دن رات بحکم اللہ چلتا رہتا ہے نہ رکے نہ تھکے جیسے فرمایا ( وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ 33؀ۚ ) 14 ۔ ابراھیم ;33) یعنی اس نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کیا ہے جو نہ تھکیں نہ ٹھہریں قیامت تک چلتے پھرتے ہی رہیں گے۔ یہ اندازہ اس اللہ کا ہے جو غالب ہیں جس کی کوئی مخالفت نہیں کرسکتا جس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا، وہ علیم ہے، ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا اس نے اپنی حکمت کاملہ سے اس کی چال مقرر کی ہے جس میں نہ اختلاف واقع ہو سکے نہ اس کے برعکس ہو سکے جیسے فرمایا ( فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْـبَانًا ۭذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ 96؀) 6 ۔ الانعام ;96) صبح کا نکالنے والا جس نے رات کو راحت کا وقت بنایا اور سورج چاند کو حساب سے مقرر کیا، یہ ہے اندازہ غالب ذی علم کا۔ حم سجدہ کی آیت کو بھی اسی طرح ختم کیا۔ پھر فرماتا ہے چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں وہ ایک جداگانہ چال چلتا ہے جس سے مہینے معلوم ہوجائیں جیسے سورج کی چال سے رات دن معلوم ہوجاتے ہیں، جیسے فرمان ہے کہ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو جواب دے کہ وقت اور حج کے موسم کو بتانے کے لئے ہے اور آیت میں فرمایا اس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور دیا ہے اور اس کی منزلیں ٹھہرا دی ہیں تاکہ تم سالوں کو اور حساب کو معلوم کرلو۔ ایک آیت میں ہے ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنادیا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے دھندلا کردیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن کیا ہے تاکہ تم اس میں اپنے رب کی نازل کردہ روزی کو تلاش کرسکو اور برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرسکو ہم نے ہر چیز کو خوب تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ پس سورج کی چمک دمک اس کے ساتھ مخصوص ہے اور چاند کی روشنی اسی میں ہے۔ اس کی اور اس کی چال بھی مختلف ہے۔ سورج ہر دن طلوع و غروب ہوتا ہے اسی روشنی کے ساتھ ہوتا ہے ہاں اس کے طلوع و غروب کی جگہیں جاڑے میں اور گرمی میں الگ الگ ہوتی ہیں، اسی سبب سے دن رات کی طولانی میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے سورج دن کا ستارہ ہے اور چاند رات کا ستارہ ہے اس کی منزلیں مقرر ہیں۔ مہینے کی پہلی رات طلوع ہوتا ہے بہت چھوٹا سا ہوتا ہے روشنی کم ہوتی ہے، دوسری شب روشنی اس سے بڑھ جاتی ہے اور منزل بھی ترقی کرتی جاتی ہے، پھر جوں جوں بلند ہوتا جاتا ہے روشنی بڑھتی جاتی ہے، گو اس کی نورانیت سورج سے لی ہوئی ہوتی ہے آخر چودہویں رات کو چاند کامل ہوجاتا ہے اور اسی کی چاندنی بھی کمال کی ہوجاتی ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوتا ہے اور اسی طرح درجہ بدرجہ بتدریج گھلتا ہوا مثل کھجور کے خوشے کی ٹہنی کے ہوجاتا ہے جس پر تر کھجوریں لٹکتی ہوں اور وہ خشک ہو کر بل کھا گئی ہو۔ پھر اسے نئے سرے سے اللہ تعالیٰ دوسرے مہینے کی ابتداء میں ظاہر کرتا ہے، عرب میں چاند کی روشنی کے اعتبار سے مہینے کی راتوں کے نام رکھ لئے گئے ہیں، مثلاً پہلی تین راتوں کا نام غرر ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام نفل ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام تسع ہے، اس لئے کہ ان کی آخری رات نویں ہوتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام عشر ہے، اس لئے کہ اس کا شروع دسویں سے ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام بیض ہے، اس لئے کہ ان راتوں میں چاندنی کی روشنی آخر تک رہا کرتی ہے، اس کے بعد کی تین راتوں کا نام ان کے ہاں ورع ہے، یہ لفظ ورعاء کی جمع ہے، ان کا یہ نام اس لئے رکھا ہے کہ سولہویں کو چاند ذرا دیر سے طلوع ہوتا ہے تو تھوڑی دیر تک اندھیرا یعنی سیاہی رہتی ہے اور عرب میں اس بکری کو جس کا سر سیاہ ہو شاۃ درعاء کہتے ہیں، اس کے بعد کی تین راتوں کو ظلم کہتے ہیں، پھر تین کو ضاوس پھر تین کو دراری پھر تین کو محاق اس لئے کہ اس میں چاند ختم ہوجاتا ہے اور مہینہ بھی ختم ہوجاتا ہے ابو عبیدہ (رض) ان میں سے تسع اور عشر کو قبول نہیں کرتے، ملاحظہ ہو کتاب غریب المصنف۔ سورج چاند کی حدیں اس نے مقرر کی ہیں ناممکن ہے کہ کوئی اپنی حد سے ادھر ادھر ہوجائے یا آگے پیچھے ہوجائے، اس کی باری کے وقت وہ گم ہے اس کی باری کے وقت یہ خاموش ہے۔ حسن کہتے ہیں یہ چاند رات کو ہے۔ ابن مبارک کا قول ہے ہوا کے پر ہیں اور چاند پانی کے غلاف تلے جگہ کرتا ہے، ابو صالح فرماتے ہیں اس کی روشنی اس کی روشنی کو پکڑ نہیں سکتی، عکرمہ فرماتے ہیں رات کو سورج طلوع نہیں ہوسکتا۔ نہ رات دن سے سبقت کرسکتی ہے، یعنی رات کے بعد ہی رات نہیں آسکتی بلکہ درمیان میں دن آجائے گا، پس سورج کی سلطنت دن کو ہے اور چاند کی بادشاہت رات کو ہے، رات ادھر سے جاتی ہے ادھر سے دن آتا ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں، لیکن نہ تصادم کا ڈر ہے نہ بےنظمی کا خطرہ ہے، نہ یہ کہ دن ہی دن چلا جائے رات نہ آئے نہ اس کے خلاف، ایک جاتا ہے دوسرا آتا ہے، ہر ایک اپنے اپنے وقت پر غائب و حاضر ہوتا رہتا ہے، سب کے سب یعنی سورج چاند دن رات فلک آسمان میں تیر رہے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں۔ زید بن عاصم کا قول ہے کہ آسمان و زمین کے درمیان فلک میں یہ سب آ جا رہے ہیں، لیکن یہ بہت غریب بلکہ منکر قول ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں فلک مثل چرخے کے تکلے کے ہے بعض کہتے ہیں مثل چکی کے لوہے کے پاٹ کے۔