Skip to main content

اَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِيْنَۙ

أَفَمَا
کیا بھلا نہیں
نَحْنُ
ہم ہیں
بِمَيِّتِينَ
مرنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو کیا ہمیں مرنا نہیں،

احمد علی Ahmed Ali

پس کیا اب ہم مرنے والے نہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا (یہ صحیح ہے) ہم مرنے والے ہی نہیں؟ (١)

٥٨۔١ جہنمیوں کا حشر دیکھ کر جنتی کے دل میں رشک کا جذبہ مذید بیدار ہو جائے گا اور کہے گا کہ ہمیں جو جنت کی زندگی اور اس کی نعمتیں ملی ہیں کیا یہ دائمی نہیں؟ اب ہمیں موت آنے والی نہیں؟ جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور جہنمی ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، نہ انہیں موت آئے گی کہ جہنم کے عذاب سے چھوٹ جائیں، اور نہ ہمیں کہ جنت کی نعمتوں سے محروم ہوجائیں۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں دوزخ اور جنت کے درمیان لا کر ذبح کر دیا جائے گا کہ اب موت کسی کو نہیں آئے گی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا (یہ صحیح ہے) کہ ہم مرنے والے ہی نہیں؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(جنتی لوگ) کہیں گے کیا اب تو ہم نہیں مریں گے؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم اب مرنے والے نہیں ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

سو (جنّتی خوشی سے پوچھیں گے:) کیا اب ہم مریں گے تو نہیں،