Skip to main content

اَ فَمَنْ يَّتَّقِىْ بِوَجْهِهٖ سُوْۤءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۗ وَقِيْلَ لِلظّٰلِمِيْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْـتُمْ تَكْسِبُوْنَ

أَفَمَن
کیا بھلا وہ جو
يَتَّقِى
بچاتا ہے
بِوَجْهِهِۦ
اپنے چہرے کو
سُوٓءَ
برے
ٱلْعَذَابِ
عذاب سے
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِۚ
قیامت کے
وَقِيلَ
اور کہا جائے گا
لِلظَّٰلِمِينَ
ظالموں سے
ذُوقُوا۟
چکھو
مَا
جو
كُنتُمْ
تھے تم
تَكْسِبُونَ
، تم کمائی کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا نجات والے کی طرح ہوجائے گا اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو

احمد علی Ahmed Ali

بھلا جو شخص اپنے منہ کو قیامت کے دن برے عذاب کی سپر بنائے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا جو کچھ تم کیا کرتے تھے اس کا مزہ چکھو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بھلا جو شخص قیامت کے دن ان کے بدترین عذاب کی (ڈھال) اپنے منہ کو بنائے گا (ایسے) ظالموں سے کہا جائے گا اپنے کئے کا (وبال) چکھو (١)

٢٤۔١ یعنی کیا یہ شخص، اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو قیامت والے دن بالکل بےخوف اور امن میں ہوگا؟ یعنی محذوف عبارت ملا کر اس کا مفہوم ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بھلا وہ (احمق) شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرہ سے اپنے آپ کو سخت عذاب سے بچاتا ہے؟ (اس عذاب سے محفوظ شخص کی مانند ہو سکتا ہے؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ (آج) مزہ چکھو اس کمائی کا جو تم کیا کرتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا وہ شخص جو روز هقیامت بدترین عذاب کا بچاؤ اپنے چہرہ سے کرنے والا ہے نجات پانے والے کے برابر ہوسکتا ہے اور ظالمین سے تو یہی کہا جائے گا کہ اپنے کرتوت کا مزہ چکھو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن (آگ کے) برے عذاب کو اپنے چہرے سے روک رہا ہوگا (کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہونگے، اس کا کیا حال ہوگا؟) اور ایسے ظالموں سے کہا جائے گا: اُن بداعمالیوں کا مزہ چکھو جو تم انجام دیا کرتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن وامان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ جیسے فرمایا اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں۔ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن وامان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا ؟ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے بھی اللہ کی باتوں کو نہ مانا تھا اور رسولوں کو جھوٹا کہا تھا پھر دیکھو کہ ان پر کس طرح ان کی بیخبر ی میں مار پڑی ؟ عذاب اللہ نے انہیں دنیا میں بھی ذلیل و خوار کیا اور آخرت کے سخت عذاب بھی ان کے لئے باقی ہیں۔ پس تمہیں ڈرتے رہنا چاہئے کہ اشرف رسل کے ستانے اور نہ ماننے کی وجہ سے تم پر کہیں ان سے بھی بدتر عذاب برس نہ پڑیں۔ تم اگر ذی علم ہو تو ان کے حالات اور تذکرے تمہاری نصیحت کے لئے کافی ہیں۔