Skip to main content

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَۚ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
ضَرَبْنَا
بیان کی ہم نے
لِلنَّاسِ
لوگوں کے لئے
فِى
میں
هَٰذَا
اس
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن
مِن
كُلِّ
ہر
مَثَلٍ
قسم کی مثالیں/ ہر قسم کی مثال میں سے
لَّعَلَّهُمْ
شاید کہ وہ
يَتَذَكَّرُونَ
نصیحت پکڑیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو

احمد علی Ahmed Ali

اورہم نے لوگو ں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں کیا عجب کہ وہ نصیحت حاصل کرلیں (١)

٢٧۔١ یعنی لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں باتیں بیٹھ جائیں اور وہ نصیحت حاصل کریں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دیں ہیں کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور بے شک ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں پیش کی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے کہ شاید یہ عبرت اور نصیحت حاصل کرسکیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور درحقیقت ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سکیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

فیصلے روز قیامت کو ہوں گے۔
چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آجاتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چناچہ ارشاد ہے ( ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28؀) 30 ۔ الروم ;28) اللہ نے تمہارے لئے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو۔ ایک اور آیت میں ہے ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لئے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کرلیں۔ اس کے عذاب کی آیتوں کو سامنے رکھ کر برائیاں چھوڑیں اور اس کے ثواب کی آیتوں کی طرف نظریں رکھ کر نیک اعمال میں محنت کریں۔ اس کے بعد جناب باری عزاسمہ موحد اور مشرک کی مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک تو وہ غلام جس کے مالک بہت سارے ہوں اور وہ بھی آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہوں اور دوسرا وہ غلام جو خالص صرف ایک ہی شخص کی ملکیت کا ہو اس کے سوا اس پر دوسرے کسی کا کوئی اختیار نہ ہو۔ کیا یہ دونوں تمہرے نزدیک یکساں ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح موحد جو صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ہی عبادت کرتا ہے۔ اور مشرک جس نے اپنے معبود بہت سے بنا رکھے ہیں۔ ان دونوں میں بھی کوئی نسبت نہیں۔ کہاں یہ مخلص موحد ؟ کہاں یہ در بہ در بھٹکنے والا مشرک ؟ اس ظاہر باہر روشن اور صاف مثال کے بیان پر بھی رب العالمین کی حمد و ثنا کرنی چاہئے کہ اس نے اپنے بندوں کو اس طرح سمجھا دیا کہ معاملہ بالکل صاف ہوجائے۔ شرک کی بدی اور توحید کی خوبی ہر ایک کے ذہن میں آجائے۔ اب رب کے ساتھ وہی شرک کریں گے جو محض بےعلم ہوں جن میں سمجھ بوجھ بالکل ہی نہ ہو۔ اس کے بعد کی آیت کو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتقال کے بعد پڑھ کر پھر دوسری آیت (وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ\014\04 ) 3 ۔ آل عمران ;144) کی آخر آیت تک تلاوت کر کے لوگوں کو بتایا تھا۔ مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ سب اس دنیا سے جانے والے ہیں اور آخرت میں اپنے رب کے پاس جمع ہونے والے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ مشرکوں اور موحدوں میں صاف فیصلہ کر دے گا اور حق ظاہر ہوجائے گا۔ اس سے اچھے فیصلے والا اور اس سے زیادہ علم والا کون ہے ؟ ایمان اخلاص اور توحید و سنت والے نجات پائیں گے۔ شرک و کفر انکار و تکذیب والے سخت سزائیں اٹھائیں گے۔ اسی طرح جن دو شخصوں میں جو جھگڑا اور اختلاف دنیا میں تھا روز قیامت وہ اللہ عادل کے سامنے پیش ہو کر فیصل ہوگا اس آیت کے نازل ہونے پر حضرت زبیر (رض) نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ قیامت کے دن پھر سے جھگڑے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یقینا تو حضرت عبداللہ نے کہا پھر تو سخت مشکل ہے (ابن ابی حاتم) مسند احمد کی اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ آیت ( ثُمَّ لَتُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ۝ۧ) 102 ۔ التکاثر ;8) ۔ یعنی پھر اس دن تم سے اللہ کی نعمتوں کا سوال کیا جائے گا، کے نازل ہونے پر آپ ہی نے سوال کیا کہ وہ کون سی نعمتیں ہیں جن کی بابت ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ ہم تو کھجوریں کھا کر اور پانی پی کر گذارہ کر رہے ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اب نہیں ہیں تو عنقریب بہت سی نعمتیں ہوجائیں گی۔ یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے اور امام ترمذی (رح) اسے حسن بتاتے ہیں۔ مسند کی اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت زبیر بن عوام (رض) نے آیت ( اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ 30؀ۡ) 39 ۔ الزمر ;30) ، کے نازل ہونے پر پوچھا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا جو جھگڑے ہمارے دنیا میں تھے وہ دوبارہ وہاں قیامت میں دوہرائے جائیں گے ؟ ساتھ ہی گناہوں کی بھی پرستش ہوگی۔ آپ نے فرمایا ہاں وہ ضرور دوہرائے جائیں گے۔ اور ہر شخص کو اس کا حق پورا پورا دلوایا جائے گا تو آپ نے کہا پھر تو سخت مشکل کام ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں سب سے پہلے پڑوسیوں کے آپس میں جھگڑے پیش ہوں گے اور حدیث میں ہے اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سب جھگڑوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔ یہاں تک کہ دوبکریاں جو لڑی ہوں گی اور ایک نے دوسری کو سینگ مارے ہوں گے ان کا بدلہ بھی دلوایا جائے گا (مسند احمد) مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے کہ دو بکریوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوذر (رض) سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو یہ کیوں لڑ رہی ہیں ؟ حضرت ابوذر (رض) نے جواب دیا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کیا خبر ؟ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے اور وہ قیامت کے دن ان میں بھی انصاف کرے گا۔ بزار میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعیت قیامت کے دن جھگڑا کرے گا۔ بزار میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ظالم اور خائن بادشاہ سے اس کی رعایت قیامت کے دن جھگڑا کرے گی اور اس پر وہ غالب آجائے گی اور اللہ کا فرمان ضرور ہوگا کہ جاؤ اسے جہنم کا ایک رکن بنادو۔ اس حدیث کے ایک راوی اغلب بن تمیم کا حافظہ جیسا چاہئے ایسا نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ما فرماتے ہیں ہر سچا جھوٹے سے، ہر مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب مظلوم ظالم سے، ہر ہدایت والا گمراہی والے سے، ہر کمزور زورآور سے اس روز جھگڑے گا۔ ابن مندہ رحمتہ اللہ اپنی کتاب الروح میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت لاتے ہیں کہ لوگ قیامت کے دن جھگڑیں گے یہاں تک کہ روح اور جسم کے درمیان بھی جھگڑا ہوگا۔ روح تو جسم کو الزام دے گی کہ تو نے یہ سب برائیاں کیں اور جسم روح سے کہے گا ساری چاہت اور شرارت تیری ہی تھی۔ ایک فرشتہ ان میں فیصلہ کرے گا کہے گا سنو ایک آنکھوں والا انسان ہے لیکن اپاہج بالکل لولا لنگڑا چلنے پھرنے سے معذور ہے۔ دوسرا آدمی اندھا ہے لیکن اس کے پیر سلامت ہیں چلتا پھرتا ہے دونوں ایک باغ میں ہیں۔ لنگڑا اندھے سے کہتا ہے بھائی یہ باغ تو میوؤں اور پھلوں سے لدا ہوا ہے لیکن میرے تو پاؤں نہیں جو میں جا کر یہ پھل توڑ لوں۔ اندھا کہتا ہے آؤ میرے پاؤں ہیں تجھے اپنی پیٹھ پر چڑھا لیتا ہوں اور لے چلتا ہوں۔ چناچہ یہ دونوں اس طرح پہنچے اور جی کھول کر پھل توڑے بتاؤ ان دونوں میں مجرم کون ہے ؟ جسم و روح دونوں جواب دیتے ہیں کہ جرم دونوں کا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے بس اب تو تم نے اپنا فیصلہ آپ کردیا۔ یعنی جسم گویا سواری ہے اور روح اس پر سوار ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے پر ہم تعجب میں تھے کہ ہم میں اور اہل کتاب میں تو جھگڑا ہے ہی نہیں پھر آخر روز قیامت میں کس سے جھگڑے ہوں گے ؟ اس کے بعد جب آپس کے فتنے شروع ہوگئے تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہی آپس کے جھگڑے ہیں جو اللہ کے ہاں پیش ہوں گے۔ ابو العالیہ (رح) فرماتے ہیں اہل قبلہ غیر اہل قبلہ سے جھگڑیں گے اور ابن زید (رح) سے مروی ہے کہ مراد اہل اسلام اور اہل کفر کا جھگڑا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ فی الواقع یہ آیت عام ہے۔
الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور فضل و رحم سے تفسیر محمدی کا تیسواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہماری تقصیر کی معافی کا سبب اس تفسیر کو بنا دے۔ ہمیں اپنے پاک کلام کی تلاوت کا ذوق، اس کے معنی کے سمجھنے کا شوق عطا فرمائے، علم و عمل کی توفیق دے، عذاب سے نجات دے، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین !