Skip to main content

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَاۖ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍۗ بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ وَّلٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ

فَإِذَا
پھر جب
مَسَّ
چھو جاتا ہے
ٱلْإِنسَٰنَ
انسان کو
ضُرٌّ
کوئی نقصان۔ تکلیف
دَعَانَا
وہ پکارتا ہے ہم کو
ثُمَّ
پھر
إِذَا
جب
خَوَّلْنَٰهُ
ہم عطا کرتے ہیں اس کو
نِعْمَةً
کوئی نعمت
مِّنَّا
اپنی جانب سے
قَالَ
کہتا ہے
إِنَّمَآ
بیشک
أُوتِيتُهُۥ
میں دیا گیا ہوں اس کو
عَلَىٰ
پر
عِلْمٍۭۚ
علم کی بنا (پر)
بَلْ
بلکہ
هِىَ
وہ
فِتْنَةٌ
فتنہ ہے۔ آزمائش ہے
وَلَٰكِنَّ
لیکن
أَكْثَرَهُمْ
اکثر ان میں سے
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
علم رکھتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے بلکہ وہ تو آزمائش ہے مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں

احمد علی Ahmed Ali

پھر جب آدمی پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ تومجھے میری عقل سے ملی ہے بلکہ یہ نعمت آزمائش ہے ولیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے (۱) تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیں تو کہنے لگتا ہے (۲) کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں (۳) بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ (٤)

٤٩۔١یہ انسان کا بہ اعتبار جنس ذکر ہے یعنی انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بیماری فقر و فاقہ یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے نجات پانے کے لیے اللہ سے دعائیں کرتا اور اس کے سامنے گڑگڑاتا ہے۔
٤٩۔۲ یعنی نعمت ملتے ہی سرکشی اور طغیان کا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں اللہ کا کیا احسان؟ یہ تو میری اپنی دانائی کا نتیجہ ہے۔ یا جو علم و ہنر میرے پاس ہے، اس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا مجھے معلوم تھا کہ دنیا میں یہ چیزیں مجھے ملیں گی کیونکہ اللہ کے ہاں میرا بہت مقام ہے۔
٤٩۔۳ یعنی بات وہ نہیں ہے جو تو سمجھ رہا یا بیان کر رہا ہے بلکہ یہ نعمتیں تیرے لیے امتحان اور آزمائش ہیں کہ تو شکر کرتا ہے یا کفر؟
٤٩۔٤ اس بات سے کہ یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور امتحان ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور پھر جب ہم اسے اپنی جانب سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر دی گئی ہے بلکہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے اور اس کے بعد جب ہم کوئی نعمت دیدیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم کے زور پر دی گئی ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہے اور اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے (میرے) علم و تدبیر (کی بنا) پر ملی ہے، بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

انسان کا ناشکرا پن۔
اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ مشکل کے وقت تو وہ آہ وزاری شروع کردیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہوجاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہوگئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم حاصل ہے لیکن تاہم ہم اسے ظہور میں لانا چاہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس نعمت کا یہ شکر ادا کرتا ہے یا ناشکری ؟ لیکن یہ لوگ بےعلم ہیں۔ دعوے کرتے ہیں منہ سے بات نکال دیتے ہیں لیکن اصلیت سے بیخبر ہیں، یہی دعویٰ اور یہی قول ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کیا اور کہا، لیکن ان کا قول صحیح ثابت نہ ہوا اور ان نعمتوں نے، کسی اور چیز نے اور ان کے اعمال نے انہیں کوئی نفع نہ دیا، جس طرح ان پر وبال ٹوٹ پڑا اسی طرح ان پر بھی ایک دن ان کی بداعمالیوں کا وبال آپڑے گا اور یہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ نہ تھکا اور ہرا سکتے ہیں۔ جیسے کہ قارون سے اس کی قوم نے کہا تھا کہ اس قدر اکڑ نہیں اللہ تعالیٰ خود پسندوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو خرچ کرکے آخرت کی تیاری کر اور وہاں کا سامان مہیا کر۔ اس دنیا میں بھی فائدہ اٹھاتا رہ اور جیسے اللہ نے تیرے ساتھ سلوک کیا ہے، تو بھی لوگوں کے ساتھ احسان کرتا رہ۔ زمین میں فساد کرنے والا مت بن اللہ تعالیٰ مفسدوں سے محبت نہیں کرتا۔ اس پر قارون نے جواب دیا کہ ان تمام نعمتوں اور جاہ و دولت کو میں نے اپنی دانائی اور علم و ہنر سے حاصل کیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ قوت اور اس سے زیادہ جمع جتھا والوں کو میں نے ہلاک و برباد کردیا ہے، مجرم اپنے گناہوں کے بارے میں پوچھے نہ جائیں گے۔ الغرض مال و اولاد پر پھول کر اللہ کو بھول جانا یہ شیوہ کفر ہے۔ کفار کا قول تھا کہ ہم مال و اولاد میں زیادہ ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا، کیا انہیں اب تک یہ معلوم نہیں کہ رزق کا مالک اللہ تعالیٰ ہے جس کیلئے چاہے کشادگی کرے اور جس پر چاہے تنگی کرے۔ اس میں ایمان والوں کیلئے طرح طرح کی عبرتیں اور دلیلیں ہیں۔