Skip to main content

وَالَّذٰنِ يَأْتِيٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا ۚ فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا ۗ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا

وَٱلَّذَانِ
اور وہ دو
يَأْتِيَٰنِهَا
جو آئیں اس کو (یعنی بےحیائی کو)
مِنكُمْ
تم میں سے
فَـَٔاذُوهُمَاۖ
تو اذیت دو ان دونوں کو
فَإِن
پھر اگر
تَابَا
وہ دونوں توبہ کرلیں
وَأَصْلَحَا
اور اصلاح کرلیں
فَأَعْرِضُوا۟
تو منہ موڑ لو۔ اعراض کرو
عَنْهُمَآۗ
ان دونوں سے
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
تَوَّابًا
توبہ قبول کرنے والا
رَّحِيمًا
مہربان

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور تم میں سے جو دو مرد وہی بدکاری کریں تو ان کو تکلیف دو پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو بےشک الله توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کرلیں (١) انہیں ایذا دو (٢) اگر وہ توبہ اور اصلاح کرلیں تو ان سے منہ پھیر لو بیشک اللہ تعالٰی توبہ قبول کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔

١٦۔١ بعض نے اس میں اغلام بازی مراد لی ہے یعنی عمل لواطت۔ دو مردوں کا ہی آپس میں بد فعلی کرنا اور بعض نے اسے باکرہ مرد و عورت مراد لیئے ہیں اور اس سے قبل کی آیت کو انہوں نے محصنات یعنی شادی کے ساتھ کیا ہے اور بعض نے اس تثنیہ کے صیغے سے مراد لیا ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ باکرہ ہوں یا شادی شدہ (ابن جریر طبری) نے دوسرے مفہوم یعنی باکرہ (مرد و عورت) کو ترجیح دی ہے اور پہلی آیت میں بیان کردہ سزا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتلائی ہوئی سزا سزائے رجم سے اور اس آیت میں بیان کردہ سزا کو سورۃ نور میں بیان کردہ سو کوڑے کی سزا سے منسوخ قرار دی ہے۔ (تفسیر طبری)
١٦۔٢ یعنی زبان سے زجر و توبیخ اور ملامت یا ہاتھ سے کچھ زدوکوب کر لینا۔ اب یہ منسوخ ہے، جیسا کہ گزرا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کر لیں انہیں ایذا دو اگر وه توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منھ پھیر لو، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور تم میں سے جو دو شخص (مرد و عورت) بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو انہیں چھوڑ دو بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور تم میں سے جو آدمی بدکاری کریں انہیں اذیت دو پھر اگر توبہ کرلیں اور اپنے حال کی اصلاح کرلیں تو ان سے اعراض کرو کہ خدا بہت توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور تم میں سے جو بھی کوئی بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں تو انہیں سزا دینے سے گریز کرو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے،