Skip to main content
ARBNDEENIDRUTRUR

وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۤؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۤءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۗ وَسَاۤءَ سَبِيْلًا

وَلَا
اور نہ
تَنكِحُوا۟
تم نکاح کرو
مَا
جس سے
نَكَحَ
نکاح کرچکے
ءَابَآؤُكُم
تمہارے باپ (دادا وغیرہ)
مِّنَ
سے
ٱلنِّسَآءِ
عورتوں میں
إِلَّا
مگر
مَا
جو
قَدْ
تحقیق
سَلَفَۚ
گزر چکا
إِنَّهُۥ
بیشک
كَانَ
وہ ہے
فَٰحِشَةً
بےحیائی کا کام
وَمَقْتًا
اور دشمنی کا سبب
وَسَآءَ
اور بہت برا ہے
سَبِيلًا
راستہ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا در حقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا در حقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ

احمد علی Ahmed Ali

ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے ماں باپ نکاح کر چکے ہیں مگر جو پہلے ہو چکا بے حیائی ہے اور غضب کا کام ہے اور برا چلن ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے (١) مگر جو گزر چکا ہے یہ بےحیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے۔

٢٢۔١ زمانہ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی سے (یعنی سوتیلی ماں سے) نکاح کر لیتے تھے، اس سے روکا جا رہا ہے، کہ یہ بہت بےحیائی کا کام ہے اسلام ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا لیکن دخول سے قبل ہی طلاق دے دی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ سے بھی یہ بات مروی ہے اور علماء اسی کے قائل ہیں (تفسیر طبری)

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راه ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں۔ ان سے شادی (نکاح) نہ کرو۔ سوا اس کے جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ کھلی بے حیائی اور (خدا کی) ناراضی کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور خبردار جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نے نکاح(جماع) کیا ہے ان سے نکاح نہ کرنا مگر وہ جو اب تک ہوچکا ہے... یہ کھلی ہوئی برائی اور پروردگار کا غضب اور بدترین راستہ ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں مگر جو (اس حکم سے پہلے) گزر چکا (وہ معاف ہے)، بیشک یہ بڑی بے حیائی اور غضب (کا باعث) ہے اور بہت بری روِش ہے،