Skip to main content

وَقَالَ الَّذِىْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِۚ

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِىٓ
اس شخص نے
ءَامَنَ
جو ایمان لایا
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
ٱتَّبِعُونِ
پیروی کرو میری
أَهْدِكُمْ
میں رہنمائی کروں گا تمہاری
سَبِيلَ
راستے کی طرف
ٱلرَّشَادِ
درست

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ شخص جو ایمان لایا تھا، بولا "اے میری قوم کے لوگو، میری بات مانو، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ شخص جو ایمان لایا تھا، بولا "اے میری قوم کے لوگو، میری بات مانو، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور وہ ایمان والا بولا، اے میری قوم! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں،

احمد علی Ahmed Ali

اوراس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا اے میری قوم تم میری پیروی کرو میں تمہیں نیکی کی راہ بتاؤں گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اس ایماندار شخص نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راہ کی طرف تمہاری رہبری کرونگا (١)

٣٨۔١ فرعون کی قوم سے ایمان لانے والا پھر بولا اور کہا کہ دعویٰ تو فرعون بھی کرتا ہے کہ میں تمہیں سیدھے راستے پر چلا رہا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرعون بھٹکا ہوا ہے، میں جس راستے کی نشاندہی کر رہا ہوں وہ سیدھا راستہ ہے اور وہ وہی راستہ ہے، جس کی طرف تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام دعوت دے رہے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤ ں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اس مومن شخص نے کہا کہ اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راه کی طرف تمہاری رہبری کروں گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جو شخص ایمان لا چکا تھا اس نے کہا اے میری قوم! میری پیروی کرو۔ میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جو شخص ایمان لے آیا تھا اس نے کہا کہ اے قوم والو میرا اتباع کرو تو میں تمہیں ہدایت کا راستہ دکھاسکتا ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! تم میری پیروی کرو میں تمہیں خیر و ہدایت کی راہ پر لگا دوں گا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت۔
فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بےرعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہوجانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت لبدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا بدلہ تو اس کے برابر ہی دیا جاتا ہے ہاں نیکی کا بدلہ بےحساب دیا جاتا ہے۔ نیکی کرنے والا چاہے مرد ہو۔ چاہے عورت ہو۔ ہاں یہ شرط ہے کہ ہو باایمان۔ اسے اس نیکی کا ثواب اس قدر دیا جائے گا جو بیحد وبے حساب ہوگا۔