Skip to main content

قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَاۤءَنِىَ الْبَيِّنٰتُ مِنْ رَّبِّىْ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

قُلْ
کہہ دیجیے
إِنِّى
بیشک میں
نُهِيتُ
میں روکا گیا ہوں
أَنْ
کہ
أَعْبُدَ
میں عبادت کروں
ٱلَّذِينَ
ان ہستیوں کی
تَدْعُونَ
جنہیں تم پکارتے ہو
مِن
کے
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
لَمَّا
جبکہ۔ اس بناء پر کہ
جَآءَنِىَ
آگئیں میرے پاس
ٱلْبَيِّنَٰتُ
کھلی نشانیاں
مِن
سے
رَّبِّى
میرے رب کی طرف سے
وَأُمِرْتُ
اور مجھے حکم دیا گیا ہے
أَنْ
کہ
أُسْلِمَ
میں اسلام لاؤں
لِرَبِّ
رب کے لیے
ٱلْعَٰلَمِينَ
العالمین (کے لیے)

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تو اُن ہستیوں کی عبادت سے منع کر دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو (میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں) جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات آ چکی ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سرِ تسلیم خم کر دوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تو اُن ہستیوں کی عبادت سے منع کر دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو (میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں) جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات آ چکی ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سرِ تسلیم خم کر دوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں،

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو مجھے تو ان چیزوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے جن کو تم الله کے سوا پکارتے ہو جب کہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس کھلی کھلی نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے سامنے سر جھکاؤں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو (١) اس بنا پر کہ میرے پاس میرے رب کی دلیلیں پہنچ چکی ہیں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا تابع فرمان ہو جاؤں۔ (۲)

٦٦۔١ چاہے وہ پتھر کی مورتیاں ہوں، انبیاء علیہم السلام اور صلحا ہوں اور قبروں میں مدفون اشخاص ہوں۔ مدد کے لئے کسی کو مت پکارو، ان کے ناموں کی نذر نیاز مت دو ان کے ورد نہ کرو ان سے خوف مت کھاؤ اور ان سے امیدیں وابستہ نہ کرو کیونکہ یہ سب عبادت کی قسمیں ہیں جو صرف ایک اللہ کا حق ہے۔
٦٦۔۲ یہ وہی عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے اللہ کی توحید یعنی اللہ کے واحد الہ اور رب ہونے کا اثبات ہوتا ہے جو قرآن میں جا بجا ذکر کیے گئے ہیں اسلام کے معنی ہیں اطاعت وانقیاد کے لیے جھک جانا سر اطاعت خم کر دینا یعنی اللہ کے سامنے میں جھک جاؤں ان سے سرتابی نہ کروں آگے پھر توحید کے کچھ دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے محمدﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان کی پرستش کروں (اور میں ان کی کیونکر پرستش کروں) جب کہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو اس بنا پر کہ میرے پاس میرے رب کی دلیلیں پہنچ چکی ہیں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا تابع فرمان ہو جاؤں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ مجھے منع کر دیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو جبکہ میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس کھلی ہوئی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دوں (اس کا فرمانبردار بندہ بنوں)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پرستش کے قابل بنائے ہوئے ہو جب کہ میرے پاس کِھلی ہوئی نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کا اطاعت گزار بندہ رہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اُن کی پرستش کروں جن بتوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی جانب سے واضح نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری کروں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشرکین کو دعوت توحید۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے ( وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۝) 22 ۔ الحج ;5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔