Skip to main content

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِى الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۗ اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِىْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۗ وَكَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ

فَأَمَّا
تو رہے
عَادٌ
عاد
فَٱسْتَكْبَرُوا۟
پس انہوں نے تکبر کیا
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
بِغَيْرِ
بغیر
ٱلْحَقِّ
حق کے۔ (نا)حق
وَقَالُوا۟
اور انہوں نے کہا
مَنْ
کون
أَشَدُّ
زیادہ شدید ہوسکتا ہے
مِنَّا
ہم سے
قُوَّةًۖ
قوت میں
أَوَلَمْ
کیا نہیں
يَرَوْا۟
انہوں نے دیکھا
أَنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
خَلَقَهُمْ
جس نے پیدا کیا ان کو
هُوَ
وہ
أَشَدُّ
زیادہ شدید ہے
مِنْهُمْ
ان سے
قُوَّةًۖ
قوت میں
وَكَانُوا۟
اور تھے وہ
بِـَٔايَٰتِنَا
ہماری آیات کا
يَجْحَدُونَ
وہ انکار کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے "کون ہے ہم سے زیادہ زور آور" اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے "کون ہے ہم سے زیادہ زور آور" اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے؟ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تو وہ جو عاد تھے انہیں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زور، اور کیا انہوں نے نہ جانا کہ اللہ جس نے انہیں بنایا ان سے زیادہ قوی ہے، اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے،

احمد علی Ahmed Ali

پس قوم عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اورکہا ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہے کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ الله جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے طاقت میں کہیں بڑھ کر ہے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اب قوم عاد نے تو بےوجہ زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے ہم سے زور آور کون ہے؟ (۱) کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے اسے پیدا کیا وہ ان سے (بہت ہی) زیادہ زور آور ہے، (۲) وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا (۳) انکار ہی کرتے رہے۔

١٥۔١ اس فقرے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ عذاب روک لینے پر قادر ہیں کیونکہ وہ دراز قد اور نہایت زور آور تھے یہ انہوں نے اس وقت کہا جب ان کے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام نے ان کو انذار وتنبیہ کے لیے عذاب الہی سے ڈرایا۔
١٥۔١ یعنی کیا وہ اللہ سے بھی زیادہ زور آور ہیں، جس نے انہیں پیدا کیا اور انہیں قوت و طاقت سے نوازا۔ کیا ان کے بنانے کے بعد اس کی اپنی قوت و طاقت ختم ہوگئی ہے؟ یہ استفہام استنکار اور توبیخ کے لیے ہے۔
١٥۔۲ ان معجزات کا جو انبیاء کو ہم نے دیئے تھے یا ان دلائل کا جو پیغمبروں کے ساتھ نازل کیے تھے یا ان آیات تکوینیہ کا جو کائنات میں پھیلی اور بکھری ہوئی ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اب عاد نے تو بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وه ان سے (بہت ہی) زیاده زور آور ہے، وه (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

سو قومِ عاد نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور کہا کہ ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہے؟ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ (اور نہ یہ سوچا) کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے کہ وہ ان سے بڑھ کر طاقتور ہے وہ (ہمیشہ) ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پھر قوم عاد نے زمین میں ناحق بلندی اور برتری سے کام لیا اور یہ کہنا شروع کردیا کہ ہم سے زیادہ طاقت والا کون ہے .... تو کیا ان لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے وہ بہرحال ان سے زیادہ طاقت رکھنے والا ہے لیکن یہ لوگ ہماری نشانیوں کا انکار کرنے والے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

پس جو قومِ عاد تھی سو انہوں نے زمین میں ناحق تکبر (و سرکشی) کی اور کہنے لگے: ہم سے بڑھ کر طاقتور کون ہے؟ اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس نے انہیں پیدا فرمایا ہے وہ اُن سے کہیں بڑھ کر طاقتور ہے، اور وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے،