Skip to main content

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَاۤءَۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِىُّ وَهُوَ يُحْىِ الْمَوْتٰىۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ

أَمِ
یا
ٱتَّخَذُوا۟
انہوں نے بنا رکھا ہے
مِن
دُونِهِۦٓ
اس کے سوا
أَوْلِيَآءَۖ
کچھ سرپرست
فَٱللَّهُ
پس اللہ تعالیٰ
هُوَ
وہی
ٱلْوَلِىُّ
سرپرست ہے
وَهُوَ
اور وہ
يُحْىِ
زندہ کرے گا
ٱلْمَوْتَىٰ
مردوں کو
وَهُوَ
اور وہ
عَلَىٰ
پر
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز
قَدِيرٌ
قدرت والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا یہ (ایسے نادان ہیں کہ) اِنہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنا رکھے ہیں؟ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا یہ (ایسے نادان ہیں کہ) اِنہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنا رکھے ہیں؟ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا اللہ کے سوا اور والی ٹھہرالیے ہیں تو اللہ ہی والی ہے اور وہ مُردے جِلائے گا، اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

احمد علی Ahmed Ali

کیا انہوں نے اس کے سوا اوربھی مددگار بنا رکھے ہیں پھر الله ہی مددگار ہے اور وہی مردووں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالٰی کے سوا اور کارساز بنا لئے ہیں (حقیقتاً تو) اللہ تعالٰی ہی کارساز ہے وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہرچیز کا قادر ہے (١)

٩۔١ جب یہ بات ہے تو پھر اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو ولی اور کار ساز مانا جائے نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور جو سننے اور جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں، نہ نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز بنالیے ہیں، (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے وہی مُردوں کو زنده کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور سرپرست (کارساز) بنا لئے ہیں (حالانکہ) حقیقی سرپرست (اور کارساز) تواللہ ہی ہے اور وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا ان لوگوں نے اس کو چھوڑ کر اپنے لئے سرپرست بنائے ہیں جب کہ وہی سب کا سرپرست ہے اور وہی اَمردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اولیاء بنا لیا ہے، پس اللہ ہی ولی ہے (اسی کے دوست ہی اولیاء ہیں)، اور وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر بڑا قادر ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مشرکین کا شرک
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس مشرکانہ فعل کی قباحت بیان فرماتا ہے جو وہ اللہ کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور دوسروں کی پرستش کرتے تھے۔ اور بیان فرماتا ہے کہ سچا ولی اور حقیقی کارساز تو میں ہوں۔ مردوں کو جلانا میری صفت ہے ہر چیز پر قابو اور قدرت رکھنا میرا وصف ہے پھر میرے سوا اور کی عبادت کیسی ؟ پھر فرماتا ہے جس کسی امر میں تم میں اختلاف رونما ہوجائے اس کا فیصلہ اللہ کی طرف لے جاؤ یعنی تمام دینی اور دنیوی اختلاف کے فیصلے کی چیز کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو مانو۔ جیسے فرمان عالی شان ہے آیت (فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 59؀ ) 4 ۔ النسآء ;59) اگر تم میں کوئی جھگڑا ہو تو اسے اللہ کی اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لے جاؤ پھر فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو ہر چیز پر حاکم ہے وہی میرا رب ہے۔ میرا توکل اسی پر ہے اور اپنے تمام کام اسی کی طرف سونپتا ہوں اور ہر وقت اسی کی جانب رجوع کرتا ہوں وہ آسمانوں و زمین اور ان کے درمیان کی کل مخلوق کا خالق ہے اس کا احسان دیکھو کہ اس نے تمہاری ہی جنس اور تمہاری ہی شکل کے تمہارے جوڑے بنا دئیے یعنی مرد و عورت اور چوپایوں کے بھی جوڑے پیدا کئے جو آٹھ ہیں وہ اسی پیدائش میں تمہیں پیدا کرتا ہے یعنی اسی صفت پر یعنی جوڑ جوڑ پیدا کرتا جا رہا ہے نسلیں کی نسلیں پھیلا دیں قرنوں گذر گئے اور سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے ادھر انسانوں کا ادھر جانوروں کا۔ بغوی (رح) فرماتے ہیں مراد رحم میں پیدا کرتا ہے بعض کہتے ہیں پیٹ میں بعض کہتے ہیں اسی طریق پر پھیلانا ہے حضرت مجاہد فرماتے ہیں نسلیں پھیلانی مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں یہاں (فیہ) معنی (بہ) کے ہے یعنی مرد اور عورت کے جوڑے سے نسل انسانی کو وہ پھیلا رہا اور پیدا کر رہا ہے حق یہ ہے کہ خالق کے ساتھ کوئی اور نہیں وہ فرد و صمد ہے وہ بےنظیر ہے وہ سمیع وبصیر ہے آسمان و زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھوں میں ہیں سورة زمر میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے مقصد یہ ہے کہ سارے عالم کا متصرف مالک حاکم وہی یکتا لا شریک ہے جسے چاہے کشادہ روزی دے جس پر چاہے تنگی کر دے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کسی حالت میں وہ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں اس کا وسیع علم ساری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔