Skip to main content

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَاۤ اِلَيْهِ ۗ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ هٰذَاۤ اِفْكٌ قَدِيْمٌ

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
لَوْ
اگر
كَانَ
ہوتا وہ
خَيْرًا
اچھا
مَّا
نہ
سَبَقُونَآ
وہ سبقت لے جاتے ہم پر
إِلَيْهِۚ
طرف اس کے
وَإِذْ
اور جبکہ
لَمْ
نہیں
يَهْتَدُوا۟
انہوں نے ہدایت پائی
بِهِۦ
ساتھ اس کے
فَسَيَقُولُونَ
تو عنقریب وہ کہیں گے
هَٰذَآ
یہ
إِفْكٌ
جھوٹ ہے
قَدِيمٌ
پرانا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کافروں نے مسلمانوں کو کہا اگر اس میں کچھ بھلائی ہو تو یہ ہم سے آگے اس تک نہ پہنچ جاتے اور جب انہیں اس کی ہدایت نہ ہوئی تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا بہتان ہے،

احمد علی Ahmed Ali

اور کافروں نے ایمانداروں سے کہا اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ اس پر ہم سے پہلے نہ دوڑ کر جاتے اورجب انہوں نے اس کے ذریعے سے ہدایت نہیں پائی تو کہیں گے یہ تو پرانا جھوٹ ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور کافروں نے ایمانداروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے اور چونکہ انہوں نے اس قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے (١)

١١۔١ کفار مکہ، حضرت بلال، عمار، صہیب اور خباب رضی اللہ عنہم جیسے مسلمانوں کو، جو غریب و قلاش کے لوگ تھے لیکن اسلام قبول کرنے میں انہیں سب سے پہلے شرف حاصل ہوا، دیکھ کر کہتے کہ اگر اس دین میں بہتری ہوتی تو ہم جیسے ذی عزت و ذی مرتبہ لوگ سب سے پہلے اسے قبول کرتے نہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لاتے۔ یعنی اپنے طور پر انہوں نے اپنی بابت یہ فرض کر لیا کہ اللہ کے ہاں ان کا بڑا مقام ہے۔ اس لیے اگر یہ دین بھی اللہ کی طرف سے ہوتا تو اللہ تعالٰی ہمیں اس کے قبول کرنے میں پیچھے نہ چھوڑتا اور جب ہم نے اسے نہ اپنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک پرانا جھوٹ ہے یعنی قرآن کو انہوں نے پرانا جھوٹ قرار دیا ہے جیسے وہ اسے اساطیر الاولین بھی کہتے تھے حالانکہ دنیاوی مال ودولت میں ممتاز ہونا عند اللہ مقبولیت کی دلیل نہیں (جیسے ان کو مغالظہ ہوا یا شیطان نے مغالطے میں ڈالا) عند اللہ مقبولیت کے لیے تو ایمان واخلاص کی ضرورت ہے اور اس دولت ایمان واخلاص سے وہ جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ جیسے وہ مال ودولت آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ (دین) کچھ بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ دوڑ پڑتے اور جب وہ اس سے ہدایت یاب نہ ہوئے تو اب کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور کافروں نے ایمان داروں کی نسبت کہا کہ اگر یہ (دین) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے سبقت کرنے نہ پاتے، اور چونکہ انہوں نے قرآن سے ہدایت نہیں پائی پس یہ کہہ دیں گے کہ قدیمی جھوٹ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کافر لوگ ایمان لانے والوں کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ (قرآن و اسلام) کوئی اچھی چیز ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہلے جاتے اب چونکہ انہوں نے اس (قرآن) سے ہدایت نہیں پائی تو وہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ کفار ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ اگر یہ دین بہتر ہوتا تو یہ لوگ ہم سے آگے اس کی طرف نہ دوڑ پڑتے اور جب ان لوگوں نے خود ہدایت نہیں حاصل کی تو اب کہتے ہیں کہ یہ بہت پرانا جھوٹ ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کافروں نے مومنوں سے کہا: اگر یہ (دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم سے پہلے نہ بڑھتے (ہم خود ہی سب سے پہلے اسے قبول کر لیتے)، اور جب ان (کفار) نے (خود) اس سے ہدایت نہ پائی تو اب کہتے ہیں کہ یہ تو پرانا جھوٹ (اور بہتان) ہے،