Skip to main content

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْىَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ يُّحْیِيَ الْمَوْتٰى ۗ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ‏

أَوَلَمْ
کیا نہیں
يَرَوْا۟
انہوں نے دیکھا
أَنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
خَلَقَ
جس نے پیدا کیا
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں کو
وَٱلْأَرْضَ
اور زمین کو
وَلَمْ
اور نہیں
يَعْىَ
تھکا
بِخَلْقِهِنَّ
ساتھ ان کی تخلیق کے
بِقَٰدِرٍ
قادر ہے
عَلَىٰٓ
اس بات پر
أَن
کہ
يُحْۦِىَ
وہ زندہ کرے
ٱلْمَوْتَىٰۚ
مردوں کو
بَلَىٰٓ
کیوں نہیں
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
عَلَىٰ
پر
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز (پر)
قَدِيرٌ
قدرت رکھنے والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا انہوں نے نہ جانا کہ وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور ان کے بنانے میں نہ تھکا قادر ہے کہ مردے جِلائے، کیوں نہیں بیشک وہ سب کچھ کرسکتا ہے،

احمد علی Ahmed Ali

کیا انہوں نے نہیں دیکھا جس الله نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے میں نہیں تھکا اس پر قاد رہے کہ مردوں کو زندہ کردے کیوں نہیں وہ تو ہر ایک چیز پر قادر ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وہ نہ تھکا، وہ یقیناً ہرچیز پر قادر ہے (١)

٣٣۔١ جو اللہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جن کی وسعت و بےکرانی کی انتہا نہیں ہے وہ ان کو بنا کر تھکا بھی نہیں۔ کیا وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟ یقینا کر سکتا ہے۔ اس لیے کہ وہ علی کل شیء قدیر کی صفت سے متصف ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا انہوں نے نہیں سمجھا کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں۔ وہ اس (بات) پر بھی قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے۔ ہاں ہاں وہ ہر چیز پر قادر ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا وه نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کے پیدا کرنے سے وه نہ تھکا، وه یقیناً مُردوں کو زنده کرنے پر قادر ہے؟ کیوں نہ ہو؟ وه یقیناً ہر چیز پر قادر ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں ہے وہ اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو زندہ کرے۔ ہاں بےشک وہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس خدا نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور وہ ان کی تخلیق سے عاجز نہیں تھا وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ مفِدوں کو زندہ کردے کہ یقینا وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا وہ نہیں جانتے کہ اﷲ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ فرما دے۔ کیوں نہیں! بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہوجا کے کہنے سے ہی ہوگئیں کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہوگئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مردوں کے زندہ کردینے کی سکت نہیں رکھتا ؟ چناچہ دوسری آیت میں ہے آیت ( لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40 ۔ غافر ;57) یعنی انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کردینا خواہ ابتدًا ہو خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے ؟ اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بےحجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے ؟ یہ جادو تو نہیں تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہوگئیں ؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں ؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ کی قوم نے اگر آپ کو جھٹلایا آپ کی قدر نہ کی آپ کی مخالفت کی ایذاء رسانی کے درپے ہوئے تو یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہی ہے ؟ اگلے اولوالعزم پیغمبروں کو یاد کرو کہ کیسی کیسی ایذائیں، مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں اور کن کن زبردست مخالفوں کی مخالفت کو صبر سے برداشت کیا ان رسولوں کے نام یہ ہیں نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور خاتم الانبیاء اللھم صلی علیھم اجمعین۔ انبیاء کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورة احزاب اور سورة شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر ہوں تو (من الرسل) کا (من) بیان جنس کے لئے ہوگا واللہ اعلم، ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے سے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ پھر فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ 44؀ۙ ) 68 ۔ القلم ;44) ، یعنی کافروں کو مہلت دو ، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کرلیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گذارا ہے اور آیت میں ہے آیت ( كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا 46؀ ) 79 ۔ النازعات ;46) یعنی جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گذاری تھی ( وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ ۭ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ 45؀) 10 ۔ یونس ;45) یعنی جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لئے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لئے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے واللہ اعلم۔