٦۔١ مسجور کے معنی ہیں بھڑکے ہوئے۔ بعض کہتے ہیں، اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت والے دن بارش نازل ہوگی، اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت والے دن آگ بھڑک اٹھے گی۔ جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے امام شوکانی نے اسی مفہوم کو اولی قرار دیا ہے اور بعض نے مسجور کے معنی مملوء بھرے ہوئے کے لیے ہیں یعنی فی الحال سمندروں میں آگ تو نہیں ہے البتہ وہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں امام طبری نے اس قول کو اختیار کیا ہے اس کے اور بھی کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔(تفسیر ابن کثیر)
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور ابلتے ہوئے دریا کی
6 Muhammad Junagarhi
اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی
7 Muhammad Hussain Najafi
اور اس سمندر کی جو موجزن ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور بھڑکتے ہوئے سمندر کی قسم
9 Tafsir Jalalayn
اور ابلتے ہوئے دریا کی والبحر المسجور مسجور، سجر سے مشتق ہے اسم مفعول کا صیغہ ہے، جو متعدد معنی میں مستعمل ہے، ایک معنی آگ بھڑکانے کے ہیں، بعض مفسرین نے اس جگہ یہنی معنی مراد لئے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت کے روز بارش نازل ہوگی اس سے مردہ جسم زندہ ہوجائیں یگ، بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت کے دن آگ بھڑک اٹھے گی، جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور بعض حضرات نے مسجور کے معنی مملوء کے لئے ہیں، امام طبری نے اور صاحب جلالین نے اسی قوم کو اختیار کیا ہے۔ ان عذاب ربک لواقع یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
﴿وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم۔ اللہ نے اسے پانی سے لبریز کردیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے مگر اللہ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر جانے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں یہ بھی کہا جاتا ہے ﴿ لْمَسْجُوْرِ ﴾ سے مراد وہ سمندر ہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہوگا۔