Skip to main content

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيْسَ بِضَاۤرِّهِمْ شَيْـًٔـا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِۗ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ

إِنَّمَا
بیشک
ٱلنَّجْوَىٰ
سرگوشی
مِنَ
سے
ٱلشَّيْطَٰنِ
شیطان کی طرف (سے)
لِيَحْزُنَ
تاکہ غمگین ہوں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَلَيْسَ
حالانکہ نہیں
بِضَآرِّهِمْ
ضرر دینے والی ان کو
شَيْـًٔا
کچھ بھی۔ کوئی چیز بھی
إِلَّا
مگر
بِإِذْنِ
اذن سے
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
وَعَلَى
اور پر
ٱللَّهِ
اللہ (پر)
فَلْيَتَوَكَّلِ
کہ توکل کریں
ٱلْمُؤْمِنُونَ
مومن

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے، اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں، حالانکہ بے اذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے، اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں، حالانکہ بے اذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بے حکم خدا کے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے

احمد علی Ahmed Ali

(یہ) سرگوشی تو صرف شیطانی بات ہے تاکہ ایمان داروں کو غمناک کر دے حالانکہ بغیر حکم الله کے کچھ بھی ضرر نہیں دے سکتی اور ایمان والے تو الله ہی پربھروسہ رکھتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

سرگوشیاں (بری)، پس شیطانی کام ہے جس سے ایمانداروں کو رنج پہنچے (١) گو اللہ تعالٰی کی اجازت کے بغیر وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ (۲)

١٠۔١ یعنی اثم و عدوان اور معصیت رسول پر مبنی سرگوشیاں یہ شیطانی کام ہیں، کیونکہ شیطان ہی ان پر آمادہ کرتا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے سے مومنوں کو غم میں مبتلا کرے۔
۱۰۔۲ لیکن یہ سرگوشیاں اور شیطانی حرکتیں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں الا یہ کہ اللہ کی مشیت ہو اس لیے تم اپنے دشمنوں کی ان اوچھی حرکتوں سے پریشان نہ ہوا کرو بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اس لیے کہ تمام معاملات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہرچیز پر قادر ہے نہ کہ یہود اور منافقین جو تمہیں تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہیں سرگوشی کے سلسلے میں ہی مسلمانوں کو ایک اخلاقی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ جب تم تین آدمی اکٹھے ہو تو اپنے میں سے ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ طریقہ اس ایک آدمی کو غم ڈال دے گا۔ صحیح بخاری۔ البتہ اس کی رضامندی اور اجازت سے ایسا کرنا جا‏ئز ہے کیونکہ اس صورت میں دو آدمیوں کا سرگوشی کرنا کسی کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

(بری) سرگوشیاں، پس شیطانی کام ہے جس سے ایمان داروں کو رنج پہنچے۔ گو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وه انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور ایمان والوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(کافروں کی یہ) سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہلِ ایمان کو رنج و غم پہنچائے حالانکہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ رازداری شیطان کی طرف سے صاحبانِ ایمان کو دکھ پہنچانے کے لئے ہوتی ہے حالانکہ وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے جب تک خدا اجازت نہ د ے دے اور صاحبانِ ایمان کا بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(منفی اور تخریبی) سرگوشی محض شیطان ہی کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو پریشان کرے حالانکہ وہ (شیطان) اُن (مومنوں) کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا مگر اللہ کے حکم سے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے،