Skip to main content
bismillah
قَدْ
تحقیق
سَمِعَ
سن لی
ٱللَّهُ
اللہ نے
قَوْلَ
بات
ٱلَّتِى
اس عورت کی
تُجَٰدِلُكَ
جو جھگڑ رہی تھی تجھ سے
فِى
بارے میں
زَوْجِهَا
اپنے شوہر کے
وَتَشْتَكِىٓ
اور شکایت کررہی تھی
إِلَى
سے
ٱللَّهِ
اللہ (سے)
وَٱللَّهُ
اور اللہ
يَسْمَعُ
سن رہا تھا
تَحَاوُرَكُمَآۚ
تم دونوں کی گفتگو کو
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
سَمِيعٌۢ
سننے والا ہے
بَصِيرٌ
دیکھنے والا ہے

اللہ نے سن لی اُس عورت کی بات جو ا پنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے

تفسير
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُظَٰهِرُونَ
جو ظہار کرتے ہیں
مِنكُم
تم میں سے
مِّن
سے
نِّسَآئِهِم
اپنی بیویوں (سے)
مَّا
نہیں
هُنَّ
وہ
أُمَّهَٰتِهِمْۖ
ان کی مائیں
إِنْ
نہیں
أُمَّهَٰتُهُمْ
ان کی مائیں
إِلَّا
مگر
ٱلَّٰٓـِٔى
وہ (عورتیں) جنہوں نے
وَلَدْنَهُمْۚ
جنم دیا ان کو
وَإِنَّهُمْ
اور بیشک وہ
لَيَقُولُونَ
البتہ وہ کہتے ہیں
مُنكَرًا
منکر۔ ناپسندیدہ
مِّنَ
سے
ٱلْقَوْلِ
بات میں (سے)
وَزُورًاۚ
اور جھوٹ
وَإِنَّ
اور بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
لَعَفُوٌّ
البتہ معاف کرنے والا ہے
غَفُورٌ
بخشش فرمانے والا ہے

تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے

تفسير
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
يُظَٰهِرُونَ
جو ظہار کرتے ہیں
مِن
سے
نِّسَآئِهِمْ
اپنی بیویوں (سے)
ثُمَّ
پھر
يَعُودُونَ
وہ لوٹنا چاہتے ہوں
لِمَا
واسطے اس کے جو
قَالُوا۟
انہوں نے کہا
فَتَحْرِيرُ
پس آزاد کرنا ہے
رَقَبَةٍ
ایک گردن کا
مِّن
سے
قَبْلِ
اس سے قبل
أَن
وہ
يَتَمَآسَّاۚ
ایک دوسرے کو چھوئیں
ذَٰلِكُمْ
یہ بات
تُوعَظُونَ
تم نصیحت کیے جاتے ہو
بِهِۦۚ
ساتھ اس کے
وَٱللَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعْمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
خَبِيرٌ
باخبر ہے

جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اُس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا اِس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

تفسير
فَمَن
تو جو کوئی
لَّمْ
نہ
يَجِدْ
پائے
فَصِيَامُ
تو روزے رکھے
شَهْرَيْنِ
دو مہینوں کے
مُتَتَابِعَيْنِ
مسلسل۔ پے درپے
مِن
سے
قَبْلِ
اس سے پہلے
أَن
کہ
يَتَمَآسَّاۖ
وہ ایک دوسرے کو چھوئیں
فَمَن
تو جو کوئی
لَّمْ
نہ
يَسْتَطِعْ
استطاعت رکھتا ہو
فَإِطْعَامُ
تو کھانا کھلانا ہے
سِتِّينَ
ساٹھ
مِسْكِينًاۚ
مسکینوں کا
ذَٰلِكَ
یہ
لِتُؤْمِنُوا۟
تاکہ تم ایمان لاؤ
بِٱللَّهِ
اللہ پر
وَرَسُولِهِۦۚ
اور اس کے رسول پر
وَتِلْكَ
اور یہ
حُدُودُ
حدود ہیں
ٱللَّهِۗ
اللہ کی
وَلِلْكَٰفِرِينَ
اور کافروں کے لیے
عَذَابٌ
عذاب ہے
أَلِيمٌ
دردناک

اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلائے یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے

تفسير
إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُحَآدُّونَ
جو مخالفت کرتے ہیں
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ کی
وَرَسُولَهُۥ
اور اس کے رسول کی
كُبِتُوا۟
ذلیل کیے گئے
كَمَا
جیسا کہ
كُبِتَ
ذلیل کیے گئے تھے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
مِن
سے
قَبْلِهِمْۚ
جو ان سے پہلے تھے
وَقَدْ
اور تحقیق
أَنزَلْنَآ
نازل کیا ہم نے
ءَايَٰتٍۭ
آیات
بَيِّنَٰتٍۚ
روشن ۔ واضح
وَلِلْكَٰفِرِينَ
اور کافروں کے لیے
عَذَابٌ
عذاب ہے
مُّهِينٌ
رسوا کرنے والا

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل و خوار کر دیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جا چکے ہیں ہم نے صاف صاف آیات نازل کر دی ہیں، اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے

تفسير
يَوْمَ
جس دن
يَبْعَثُهُمُ
اٹھائے گا ان کو
ٱللَّهُ
اللہ
جَمِيعًا
سب کو
فَيُنَبِّئُهُم
پھر وہ آگاہ کرے گا ان کو
بِمَا
ساتھ اس کے جو
عَمِلُوٓا۟ۚ
انہوں نے عمل کیے
أَحْصَىٰهُ
گن رکھا ہے اس کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَنَسُوهُۚ
اور وہ بھول چکے ہیں اس کو
وَٱللَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
عَلَىٰ
پر
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز (پر)
شَهِيدٌ
گواہ

اُس دن (یہ ذلت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کر کے اٹھائے گا اور انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان سب کا کیا دھرا گن گن کر محفوظ کر رکھا ہے اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے

تفسير
أَلَمْ
کیا نہیں
تَرَ
تم نے دیکھا
أَنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
يَعْلَمُ
جانتا ہے
مَا
جو کچھ
فِى
میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں میں ہے
وَمَا
اور جو کچھ
فِى
میں
ٱلْأَرْضِۖ
زمین میں ہے
مَا
نہیں
يَكُونُ
ہوتا
مِن
سے
نَّجْوَىٰ
سرگوشی میں (سے)
ثَلَٰثَةٍ
تین کی
إِلَّا
مگر
هُوَ
وہ
رَابِعُهُمْ
چوتھا ہے ان کا
وَلَا
اور نہ
خَمْسَةٍ
پانچ کی
إِلَّا
مگر
هُوَ
وہ
سَادِسُهُمْ
چھٹا ہے ان کا
وَلَآ
اور نہ
أَدْنَىٰ
کم تر
مِن
سے
ذَٰلِكَ
اس سے
وَلَآ
اور نہ
أَكْثَرَ
زیادہ
إِلَّا
مگر
هُوَ
وہ
مَعَهُمْ
ان کے ساتھ ہے
أَيْنَ
جہاں
مَا
کہیں
كَانُوا۟ۖ
وہ ہوں
ثُمَّ
پھر
يُنَبِّئُهُم
وہ آگاہ کرے گا ان کو
بِمَا
ساتھ اس کے جو
عَمِلُوا۟
انہوں نے عمل کیے
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِۚ
قیامت کے
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
بِكُلِّ
ساتھ ہر
شَىْءٍ
چیز کے
عَلِيمٌ
جاننے والا

کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو خفیہ بات کرنے والا خواہ اِس سے کم ہوں یا زیادہ، جہاں کہیں بھی وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

تفسير
أَلَمْ
کیا نہیں
تَرَ
تم نے دیکھا
إِلَى
طرف
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کی (طرف)
نُهُوا۟
جو روکے گئے
عَنِ
سے
ٱلنَّجْوَىٰ
سرگوشی (سے)
ثُمَّ
پھر
يَعُودُونَ
وہ لوٹتے ہیں
لِمَا
واسطے اس کے جو
نُهُوا۟
وہ روکے گئے تھے
عَنْهُ
جس سے
وَيَتَنَٰجَوْنَ
اور وہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں
بِٱلْإِثْمِ
ساتھ گناہ کے
وَٱلْعُدْوَٰنِ
اور زیادتی کے
وَمَعْصِيَتِ
نافرمانی کے
ٱلرَّسُولِ
رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی
وَإِذَا
اور جب
جَآءُوكَ
وہ آتے ہیں تیرے پاس
حَيَّوْكَ
وہ سلام کرتے ہیں تجھ کو
بِمَا
ساتھ اس کے جو
لَمْ
نہیں
يُحَيِّكَ
سلام کیا تجھ کو
بِهِ
ساتھ اس کے
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
فِىٓ
میں
أَنفُسِهِمْ
اپنے نفسوں میں
لَوْلَا
کیوں نہیں
يُعَذِّبُنَا
عذاب دیتا ہم کو
ٱللَّهُ
اللہ
بِمَا
بوجہ اس کے جو
نَقُولُۚ
ہم کہتے ہیں
حَسْبُهُمْ
کافی ہے ان کو
جَهَنَّمُ
جہنم
يَصْلَوْنَهَاۖ
وہ جلیں گے اس میں
فَبِئْسَ
پس بدترین
ٱلْمَصِيرُ
ٹھکانہ ہے

کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کر دیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اُس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری اِن باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا اُن کے لیے جہنم ہی کافی ہے اُسی کا وہ ایندھن بنیں گے بڑا ہی برا انجام ہے اُن کا

تفسير
يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُوٓا۟
جو ایمان لائے ہو
إِذَا
جب
تَنَٰجَيْتُمْ
تم سرگوشیاں کرو۔ پوشیدہ بات کرو
فَلَا
پس نہ
تَتَنَٰجَوْا۟
تم سرگوشیاں کرو
بِٱلْإِثْمِ
ساتھ گناہ کے
وَٱلْعُدْوَٰنِ
اور زیادتی کے
وَمَعْصِيَتِ
اور نافرمانی
ٱلرَّسُولِ
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
وَتَنَٰجَوْا۟
اور پوشیدہ بات کرو
بِٱلْبِرِّ
ساتھ نیکی کے
وَٱلتَّقْوَىٰۖ
اور تقوی کے
وَٱتَّقُوا۟
اور ڈرو
ٱللَّهَ
اللہ سے
ٱلَّذِىٓ
وہ ذات
إِلَيْهِ
اس کی طرف
تُحْشَرُونَ
تم اکٹھے کیے جاؤ گے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے

تفسير
إِنَّمَا
بیشک
ٱلنَّجْوَىٰ
سرگوشی
مِنَ
سے
ٱلشَّيْطَٰنِ
شیطان کی طرف (سے)
لِيَحْزُنَ
تاکہ غمگین ہوں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَلَيْسَ
حالانکہ نہیں
بِضَآرِّهِمْ
ضرر دینے والی ان کو
شَيْـًٔا
کچھ بھی۔ کوئی چیز بھی
إِلَّا
مگر
بِإِذْنِ
اذن سے
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
وَعَلَى
اور پر
ٱللَّهِ
اللہ (پر)
فَلْيَتَوَكَّلِ
کہ توکل کریں
ٱلْمُؤْمِنُونَ
مومن

کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے، اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں، حالانکہ بے اذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

تفسير
کے بارے میں معلومات :
المجادلہ
القرآن الكريم:المجادلة
آية سجدہ (سجدة):-
سورۃ کا نام (latin):Al-Mujadilah
سورہ نمبر:58
کل آیات:22
کل کلمات:473
کل حروف:1792
کل رکوعات:3
مقام نزول:مدینہ منورہ
ترتیب نزولی:105
آیت سے شروع:5104