Skip to main content

قَدْ نَـعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِىْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰـكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ

قَدْ
تحقیق
نَعْلَمُ
ہم جانتے ہیں
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
لَيَحْزُنُكَ
البتہ غمگین کرتی ہے تجھ کو
ٱلَّذِى
وہ بات
يَقُولُونَۖ
جو وہ کہتے ہیں
فَإِنَّهُمْ
پس بیشک وہ
لَا
نہیں
يُكَذِّبُونَكَ
جھٹلاتے تجھ کو
وَلَٰكِنَّ
اور لیکن
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالم
بِـَٔايَٰتِ
آیات
ٱللَّهِ
اللہ کی
يَجْحَدُونَ
کا انکار کرتے ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں تو وہ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتیں تمہیں غم میں ڈالتی ہیں سو وہ تجھے نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم الله کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (١)۔

٣٣۔١ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی طرف سے اپنی تکذیب کی وجہ سے جو غم و ملال پہنچتا اس کے ازالے اور آپ کی تسلی کے لئے فرمایا جا رہا ہے کی یہ تکذیب آپ کی نہیں۔ (آپ کو وہ صادق و امین مانتے ہیں) اصل یہ آیات الٰہی کی تکذیب ہے اور یہ ظلم ہے۔ جس کا وہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ ترمذی وغیرہ کی ایک روایت میں ہے کہ ابو جہل نے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم تم کو نہیں بلکہ جو کچھ تم لے کر آئے ہو اس کو جھٹلاتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی ترمذی کی یہ روایت اگرچہ سندا ضعیف ہے لیکن دوسری صحیح روایات سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت و دیانت اور صداقت کے قائل تھے لیکن اس کے باوجود وہ آپ کی رسالت پر ایمان لانے سے گریزاں رہے آج بھی جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق رفعت کردار اور امانت و صداقت کو تو خوب جھوم جھوم کر بیان کرتے ہیں اور اس موضوع پر فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہیں لیکن اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ انقباض محسوس کرتےآپ کی بات کے مقابلے میں فقہ وقیاس اور اقوال ائمہ کو ترجیح دیتے ہیں انھیں سوچنا چاہئیے کہ یہ کس کا کردار ہے جسے انہوں نے اپنايا ہوا ہے؟

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ﻇالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ بے شک آپ کو رنج پہنچاتی ہیں۔ (لیکن امر واقع یہ ہے کہ) یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم لوگ (دراصل) اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ہمیں معلوم ہے کہ آپ کو ان کے اقوال سے دکھ ہوتا ہے لیکن یہ آپ کی تکذیب نہیں کررہے ہیں بلکہ یہ ظالمین آیات الٰہی کا انکار کررہے ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(اے حبیب!) بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ (بات) یقیناً آپ کو رنجیدہ کررہی ہے کہ جو یہ لوگ کہتے ہیں، پس یہ آپ کو نہیں جھٹلا رہے لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) ظالم لوگ اﷲ کی آیتوں سے ہی انکار کررہے ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں، فرماتا ہے کہ ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ ان کی اس لغویت پر ملال نہ کرو، کیا اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ لگا لیں گے ؟ کہاں تک ان کے لئے حسرت و افسوس کریں گے ؟ سمجھا دیجئے اور ان کا معاملہ سپرد الہ کیجئے۔ یہ لوگ دراصل آپ کو جھوٹا نہیں جانتے بلکہ یہ تو حق کے دشمن ہیں۔ چنانجہ ابو جہل نے صاف کہا تھا کہ ہم تجھے نہیں جھٹلاتے لیکن تو جو لے کر آیا ہے اسے نہیں مانتے، حکم کی روایت میں ہے کہ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، ابن ابی حاتم میں ہے کہ ابو جہل کو حضور سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھ کر کسی نے اس سے کہا کہ اس بےدین سے تو مصافحہ کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم مجھے خوب علم ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔ ہم صرف خاندانی بنا پر ان کی نبوت کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ہم نے آج تک نبی عبد عناف کی تابعداری نہیں کی۔ الغرض حضور کو رسول اللہ مانتے ہوئے آپ کی فرمانبرداری سے بھاگتے تھے، امام محمد بن اسحاق (رح) نے بیان فرمایا ہے کہ حضرت زہری (رح) اس قصے کو بیان کرتے ہوئے جس میں ابو جہل، ابو سفیان، صحر بن حرب، اخنس بن شریق کا رات کے وقت پوشیدہ طور پر آن کر ایک دوسرے کی بیخبر ی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زبانی قرآن سننا ہے کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے صبح تک قرآن سنا روشنی ذرا سی نمودار ہوئی تھی تو یہ واپس چلے۔ اتفاقاً ایک چوک میں ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت یہاں کہاں ؟ پھر ہر ایک دوسرے سے صاف صاف کہہ دیتا ہے کہ حضور سے قرآن سننے کے لئے چپ چاپ آگئے تھے۔ اب تینوں بیٹھ کر معاہدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہ کرنا ورنہ اگر اوروں کو خبر ہوئی اور وہ آئے تو وہ تو سچے پکے مسلمان ہوجائیں گے۔ دوسری رات کو ہر ایک نے اپنے طور یہ گمان کر کے کہ کل رات کے وعدے کے مطابق وہ دونوں تو آئیں گے نہیں میں تنہا کیوں نہ جاؤں ؟ میرے جانے کی کسے خبر ہوگی ؟ اپنے گھر سے پچھلی رات کے اندھیرے اور سوفتے میں ہر ایک چلا اور ایک کونے میں دب کر اللہ کے نبی کی زبانی تلاوت قرآن کا مزہ لیتا رہا اور صبح کے وقت واپس چلا۔ اتفاقاً آج بھی اسی جگہ تینوں کا میل ہوگیا۔ ہر ایک نے ایک دوسرے کو بڑی ملامت کی بہت طعن ملامت کی اور نئے سرے سے عہد کیا کہ اب ایسی حرکت نہیں کریں گے۔ لیکن تیسری شب پھر صبر نہ ہوسکا اور ہر ایک اسی طرح پوشیدہ طور پر پہنچا اور ہر ایک کو دوسرے کے آنے کا علم بھی ہوگیا، پھر جمع ہو کر اپنے تئیں برا بھلا کہنے لگے اور بڑی سخت قسمیں کھا کر قول قرار کئے کہ اب ایسا نہیں کریں گے۔ صبح ہوتے ہی اخنس بن شریق کپڑے پہن کر تیار ہو کر ابو سفیان بن حرب کے پاس اس کے گھر میں گیا اور کہنے لگا اے ابو حنظلہ ایمان سے بتاؤ سچ سچ کہو جو قرآن تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی سنا اس کی بابت تمہاری اپنی ذاتی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ سنو ! واللہ بہت سی آیتوں کے الفاظ معنی اور مطلب تو میں سمجھ گیا اور بہت سی آیتوں کو ان کی مراد کو میں جانتا ہی نہیں۔ اخنس نے کہا واللہ یہی حال میرا بھی ہے، اب یہاں سے اٹھ کر اخنس سیدھا ابو جہل کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ابو الحکم تم سچ بتاؤ جو کچھ تم حضور سے سنتے ہو اس میں تمہارا خیال کیا ہے ؟ اس نے کہا سن جو سنا ہے اسے تو ایک طرف رکھ دے بات یہ یہ کہ بنو عبد مناف اور ہم میں چشمک ہے وہ ہم سے اور ہم ان سے بڑھنا اور سبقت کرنا چاہتے ہیں اور مدت سے یہ رسہ کسی ہو رہی ہے، انہوں نے مہمانداریاں اور دعوتیں کیں تو ہم نے بھی کیں انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ احسان و سلوک کئے تو ہم نے بھی اپنی تھیلیوں کے منہ کھول ڈالے گویا ہم کسی معاملہ میں ان سے کم نہیں رہے، اب جبکہ برابر کی ٹکر چلی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا ہم میں ایک نبی ہے، سنو چاہے ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے نہ تو ہم اس کی تصدیق کریں گے نہ مانیں گے۔ اخنس مایوس ہوگیا اور اٹھ کر چل دیا۔ اسی آیت کی تفسیر میں ابن جریر میں ہے کہ بدر والے دن اخنس بن شریق نے قبیلہ بنو زہرہ سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری قرابت کے ہیں تم ان کی ننہیال میں ہو تمہیں چاہئیے کہ اپنے بھانجے کی مدد کرو، اگر وہ واقعی نبی ہے تو مقابلہ بےسود ہی نہیں بلکہ سراسر نقصان دہ ہے اور بالفرض نہ بھی ہو تو بھی وہ تمہارا ہے، اچھا ٹھہرو دیکھو میں ابو الحکم (یعنی ابو جہل) سے بھی ملتا ہوں سنو ! اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غالب آگئے تو وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم سلامتی کے ساتھ واپس چلے جاؤ گے اور اگر تمہاری قوم غالب آگئی تو ان میں تو تم ہی ہو، اسی دن سے اس کا نام اخنس ہوا اصل نام ابی تھا، اب خنس تنہائی میں ابو جہل سے ملا اور کہنے لگا سچ بتا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے نزدیک سچے ہیں یا جھوٹے ؟ دیکھو یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی اور نہیں دل کی بات مجھ سے نہ چھپانا، اس نے کہا جب یہی بات ہے تو سو اللہ کی قسم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بالکل سچے اور یقینا صادق ہیں عمر بھر میں کسی چھوٹی سی چھوٹی بات میں کبھی بھی آپ نے جھوٹ نہیں بولا۔ ہمارا رکنے اور مخالفت کرنے کی وجہ ایک اور صرف ایک ہی ہے وہ یہ کہ جب بنو قصی کے خاندان میں جھنڈے اور پھر یرے چلے گئے جب حج کے حاجیوں کے اور بیت اللہ شریف کے مہتمم و منتظم یہی ہوگئے پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ نبوت بھی اسی قبیلے میں چلی گئی تو اب اور قریشیوں کے لئے کون سی فضیلت باقی رہ گئی ؟ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، پس آیات اللہ سے مراد ذات حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ پھر دوبارہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اپنی قوم کی تکذیب ایذاء رسانی وغیرہ پر صبر کیجئے جیسے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا اور یقین مانئے کہ جس طرح انجام کار گزشہ نبیوں کا غلبہ رہا اور ان کے مخالفین تباہ و برباد ہوئے اسی طرح اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کرے گا اور آپ کے مخالفین مغلوب ہوں گے۔ دونوں جہان میں حقیقی بلندی آپ کی ہی ہوگی۔ رب تو یہ بات فرما چکا ہے اور اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ ) 37 ۔ الصافات ;171) یعنی ہم تو پہلے سے ہی یہ فرما چکے ہیں کہ ہمارے رسولوں کو مدد دی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا اور آیت میں فرماتا ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ) 58 ۔ المجادلہ ;21) اللہ تعالیٰ یہ لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے یقیناً اللہ تعالیٰ قوت ولا اور غلبہ والا ہے، ان نبیوں کے اکثر قصے آپ کے سامنے بیان ہوچکے ہیں ان کے حالات آپ کو پہنچ چکے ہیں، آپ خوب جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی نصرت و تائید ہوئی اور مخالفین پر انہیں کامیابی حاصل ہوئی، پھر فرماتا ہے اگر ان کی یہ بےرخی تجھ پر گراں گزرتی ہے اگر تجھ سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ کھو دلے اور جو معجزہ یہ تجھ سے مانگتے ہیں لا دے یا تیرے بس میں ہو تو کوئی زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جا اور وہاں سے ان کی چاہت کی کوئی نشانی لے آ۔ میں نے تجھے اتنی نشانیاں اس قدر معجزے دیئے ہیں کہ ایک اندھا بھی شک نہ کرسکے۔ اب ان کی طلب معجزات محض مذاق ہے اور عناد و ضد ہے کوئی ضرورت نہیں کہ تو انہیں ان کی چاہت کے معجزے ہر وقت دیکھتا پھرے، یا اگر وہ تیرے بس کے نہ ہوں تو غم کر کے رہو، اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر متفق کردیتا، تجھے نادانوں میں نہ ملنا چاہیے جیسے اور روایت میں ہے کہ اگر رب چاہتا تو روئے زمین کی مخلوق کو مومن بنا دیتا، آپ کی حرص تھی کہ سب لوگ ایماندار بن کر آپ کی تابعداری کریں تو رب نے فرما دیا کہ یہ سعادت جس کے حصے میں ہے توفیق کی اسی رفیق ہوگئی۔ پھر فرمایا کہ آپ کی دعوت پر لبیک کہنا اسے نصیب ہوگی جو کان لگا کر آپ کے کام کو سنے سمجھے یاد رکھے اور دل میں جگہ دے، جیسے اور آیت میں ہے کہ یہ اسے آگاہ کرتا ہے جو زندگی ہو، کفار پر تو کلمہ عذاب ثابت ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھا کر بٹھائے گا پھر اسی کی طرف سب کے سب لوٹائے جائیں گے۔ مردوں سے مراد یہاں کفار ہیں کیونکہ وہ مردہ دل ہیں تو انہیں مردہ جسموں سے تشبیہ دی۔ جس میں ان کی ذلت و خواری ظاہر ہوتی ہے۔