Skip to main content

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ۗ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَىْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِّنْ شَىْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ

وَلَا
اور نہ
تَطْرُدِ
تم دھتکارو ان لوگوں کو۔ نہ دور کرو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
يَدْعُونَ
جو پکارتے ہیں
رَبَّهُم
اپنے رب کو
بِٱلْغَدَوٰةِ
صبح
وَٱلْعَشِىِّ
اور شام
يُرِيدُونَ
وہ چاہتے ہیں
وَجْهَهُۥۖ
اس کی ذات
مَا
نہیں
عَلَيْكَ
تیرے ذمے
مِنْ
میں سے
حِسَابِهِم
ان کے حساب
مِّن
سے
شَىْءٍ
کوئی چیز
وَمَا
اور نہیں
مِنْ
میں سے
حِسَابِكَ
تیرے حساب
عَلَيْهِم
ان پر
مِّن
کوئی
شَىْءٍ
چیز
فَتَطْرُدَهُمْ
پھر تم انہیں دور کرو گے
فَتَكُونَ
تو تم ہوجاؤ گے
مِنَ
میں سے
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالموں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں او ر اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں او ر اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ کر جو الله کی رضا چاہتے ہیں تیرے ذمہ ان کا کوئی حساب نہیں ہے اور نہ تیرا کوئی حساب ان کے ذمہ اگر تو نے انہیں دو ہٹا یا پس تو بے انصافوں میں سے ہوگا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو صبح شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اس کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ ورنہ آپ ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

٥٢۔١ یعنی یہ بےسہارا اور غریب مسلمان، جو بڑے اخلاص سے رات دن اپنے رب کو پکارتے ہیں یعنی اس کی عبادت کرتے ہیں، آپ مشرکیں کے اس طعن یا مطالبہ سے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ارد گرد تو غربا و فقرا کا ہی ہجوم رہتا ہے ذرا انھیں ہٹاؤ تو ہم بھی تمہارے پاس بیٹھیں، ان غربا کو اپنے سے دور نہ کرنا، بالخصوص جب کہ آپ کا کوئی احسان ان کے متعلق نہیں اور اگر ایسا کریں گے تو یہ ظلم ہوگا جو آپ کی شایان شان نہیں۔ مقصد امت کو سمجھانا ہے کہ بےوسائل لوگوں کو حقیر سمجھنا یا ان کی صحبت سے گریز کرنا اور وابستگی نہ رکھنا، یہ نادانوں کا کام ہے۔ اہل ایمان کا نہیں۔ اہل ایمان تو اہل ایمان سے محبت رکھتے ہیں چاہے وہ غریب اور مسکین ہی کیوں نہ ہو۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح وشام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اسی کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ ورنہ آپ ﻇلم کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) ان لوگوں کو اپنے پاس سے نہ دھتکارو۔ جو اپنے پروردگار کی رضا جوئی کی خاطر صبح و شام اسے پکارتے ہیں۔ ان کا کچھ بھی حساب کتاب آپ کے ذمہ نہیں ہے اور نہ ہی آپ کا کچھ بھی حساب کتاب ان کے ذمہ ہے اور اگر آپ نے پھر بھی انہیں دھتکار دیا تو آپ بے انصافی کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور خبردار جو لوگ صبح و شام اپنے خدا کو پکارتے ہیں اور خدا ہی کو مقصود بنائے ہوئے ہیں انہیں اپنی بزم سے الگ نہ کیجئے گا. نہ آپ کے ذمہ ان کا حساب ہے اور نہ ان کے ذمہ آپ کا حساب ہے کہ آپ انہیں دھتکار دیں اور اس طرح ظالموں میں شمارہوجائیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور آپ ان (شکستہ دل اور خستہ حال) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے رب کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے رہتے ہیں، ان کے (عمل و جزا کے) حساب میں سے آپ پر کوئی چیز (واجب) نہیں اور نہ آپ کے حساب میں سے کوئی چیز ان پر (واجب) ہے (اگر) پھر بھی آپ انہیں (اپنے لطف و کرم سے) دور کردیں تو آپ حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے (جوآپ کے شایانِ شان نہیں)،