Skip to main content

ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّأْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَـنَاۖ فَكَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُ ۗ وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَمِيْدٌ

ذَٰلِكَ
یہ
بِأَنَّهُۥ
بوجہ اس کے کہ بیشک وہ
كَانَت
تھے
تَّأْتِيهِمْ
آتے ان کے پاس
رُسُلُهُم
ان کے رسول
بِٱلْبَيِّنَٰتِ
ساتھ واضح آیات کے
فَقَالُوٓا۟
تو وہ کہتے
أَبَشَرٌ
کیا انسان
يَهْدُونَنَا
ہدایت دیں گے ہم کو
فَكَفَرُوا۟
تو انہوں نے کفر کیا
وَتَوَلَّوا۟ۚ
اورمنہ موڑ گئے
وَّٱسْتَغْنَى
اور بےپرواہ ہوگیا
ٱللَّهُۚ
اللہ
وَٱللَّهُ
اور اللہ
غَنِىٌّ
بےنیاز ہے
حَمِيدٌ
تعریف والا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے، مگر اُنہوں نے کہا "کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟" اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے، مگر اُنہوں نے کہا "کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟" اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے تو بولے، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے تو کافر ہوئے اور پھر گئے اور اللہ نے بے نیازی کو کام فرمایا، اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،

احمد علی Ahmed Ali

یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے تھے تووہ کہا کرتے تھے کہ کیا آدمی ہم کو راہ دکھائیں گے پس انہوں نے انکار کیا اورمنہ موڑ لیا اور الله نے پروا نہ کی اور الله بے نیاز تعریف کیا ہوا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا پس انکار کر دیا (١) اور منہ پھیر لیا (٢) اور اللہ نے بےنیازی کی (٣) اور اللہ تو ہے بےنیاز (٤) سب خوبیوں والا۔ (۵)

٦۔١ چنانچہ اس بنا پر انہوں نے رسولوں کو رسول ما ننے سے اور ان پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔
٦۔٢ یعنی ان سے اعراض کیا اور جو دعوت وہ پیش کرتے تھے، اس پر انہوں نے غور و تدبر ہی نہیں کیا۔
٦۔٣ یعنی ان کے ایمان اور ان کی عبادت سے۔
٦۔٤ اس کو کسی کی عبادت سے کیا فائدہ اور اس کی عبادت سے انکار کرنے سے کیا نقصان؟
٦ ۔۵ یا محمود ہے تمام مخلوقات کی طرف سے یعنی ہر مخلوق زبان حال وقال سے اس کی حمد وتعریف میں رطب اللسان ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ہیں؟ تو انہوں نے (ان کو) نہ مانا اور منہ پھیر لیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی۔ اور خدا بےپروا (اور) سزاوار حمد (وثنا) ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دﻻئل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا؟ پس انکار کر دیا اور منھ پھیر لیا اور اللہ نے بھی بےنیازی کی، اور اللہ تو ہے ہی بہت بےنیاز سب خوبیوں واﻻ

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہ اس لئے ہوا کہ ان کے رسول(ص) کھلی ہوئی دلیلیں لے کر ان کے پاس آتے رہے تو انہوں نے کہا کیا بشر ہماری رہبری کریں گے؟ پس(اس طرح) انہوں نے کفر اختیار کیا اور رُوگردانی کی اور اللہ نے (بھی ان کی) کوئی پروا نہ کی (کیونکہ) اللہ بےنیاز (اور) سزاوارِ حمد و ثنا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ اس لئے کہ ان کے پاس رسول کِھلی ہوئی نشانیاں لے کر آتے تھے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ کیا بشر ہماری ہدایت کرے گا اور یہ کہہ کر انکار کردیا اور منہ پھیر لیا تو خدا بھی ان سے بے نیاز ہے اور وہ قابلِ تعریف غنی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یہ اس لئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول واضح نشانیاں لے کر آتے تھے تو وہ کہتے تھے: کیا (ہماری ہی مثل اور ہم جنس) بشر٭ ہمیں ہدایت کریں گے؟ سو وہ کافر ہوگئے اور انہوں نے (حق سے) رُوگردانی کی اور اللہ نے بھی (اُن کی) کچھ پرواہ نہ کی، اور اللہ بے نیاز ہے لائقِ حمد و ثنا ہے، ٭ بشر کا یہ معنی ائمہ تفاسیر کے بیان کردہ معنی کے مطابق ہے۔ حوالہ جات کے لئے دیکھیں: تفسیر طبری، الکشاف، نسفی، بغوی، خازن، جمل، مظہری اور فتح القدیر وغیرہ۔