Skip to main content

اَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَـؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُۖ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ

أَلَمْ
کیا نہیں
يَأْتِكُمْ
آئی تمہارے پاس
نَبَؤُا۟
خبر
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کی
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
مِن
سے
قَبْلُ
اس سے پہلے
فَذَاقُوا۟
تو انہوں نے چکھا
وَبَالَ
وبال
أَمْرِهِمْ
اپنے کام کا
وَلَهُمْ
اور ان کے لیے
عَذَابٌ
عذاب
أَلِيمٌ
دردناک

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کیا تمہیں اُن لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اِس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا؟ اور آگے اُن کے لیے ایک دردناک عذاب ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کیا تمہیں اُن لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اِس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا؟ اور آگے اُن کے لیے ایک دردناک عذاب ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

کیا تمہیں ان کی خبر نہ آئی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا اور اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

احمد علی Ahmed Ali

کیا تمہارے ہاں ان کی خبر نہیں پہنچی جو اس ے پہلے منکر ہوئے پس انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اوران کے لیے دردناک عذاب ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کیا تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر نہیں پہنچی؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا (۱) اور جن کے لئے دردناک عذاب ہے (۲)

٥۔١ یعنی دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔
۵۔۲ یہ اشارہ ہے اس عذاب کی طرف جو دنیا میں انہیں ملا اور آخرت میں بھی انہیں ملے گا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کیا تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر نہیں پہنچی؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور جن کے لیے دردناک عذاب ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور اپنے کئے (کفر) کا وبال چکھا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

کیا تمہارے پاس پہلے کفر اختیار کرنے والوں کی خبر نہیں آئی ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے وبال کا مزہ چکھ لیا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

کیا تمہیں اُن لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے (تم سے) پہلے کفر کیا تھا تو انہوں نے (دنیا میں) اپنے کام کی سزا چکھ لی اور ان کے لئے (آخرت میں بھی) دردناک عذاب ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

سابقہ واقعات سے سبق لو
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں ؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی ؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے یہاں بھی اپنے بد افعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل وبراہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد وثناء کے لائق بھی۔