Skip to main content

لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖۗ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهٗ فَلْيُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰٮهُ اللّٰهُۗ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰٮهَاۗ سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا

لِيُنفِقْ
تاکہ خرچ کرے
ذُو
والا
سَعَةٍ
وسعت (والا)
مِّن
سے
سَعَتِهِۦۖ
اپنی وسعت میں (سے)
وَمَن
اور جو کوئی
قُدِرَ
تنگ کیا گیا
عَلَيْهِ
اس پر
رِزْقُهُۥ
اس کا رزق
فَلْيُنفِقْ
پس چاہیے کہ خرچ کرے
مِمَّآ
اس میں سے جو
ءَاتَىٰهُ
عطا کیا اس کو
ٱللَّهُۚ
اللہ نے
لَا
نہیں
يُكَلِّفُ
تکلیف دیتا
ٱللَّهُ
اللہ
نَفْسًا
کسی شخص کو
إِلَّا
مگر
مَآ
جتنا
ءَاتَىٰهَاۚ
دیا اس نے اس کو
سَيَجْعَلُ
عنقریب کردے گا
ٱللَّهُ
اللہ
بَعْدَ
بعد
عُسْرٍ
تنگی کے
يُسْرًا
آسانی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

مقدور والا اپنے مقدور کے قابل نفقہ دے، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا، اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، قریب ہے اللہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا

احمد علی Ahmed Ali

مقدور والا اپنے مقدور کے موافق خرچ کرے اور اگر تنگ دست ہو تو جو کچھ الله نے اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے الله کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی قدر جو اسے دے رکھا ہے عنقریب الله تنگی کے بعد آسانی کر دے گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے (۱) اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو (۲) اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالٰی نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، (۳) اللہ تنگی کے بعد آسانی و فراغت بھی کر دے گا۔ (٤)

۷۔۱ یعنی دودھ پلانے والی عورتوں کو اجرت اپنی طاقت کے مطابق دی جائے اگر اللہ نے مال ودولت میں فراخی عطا فرمائی ہے تو اسی فراخی کے ساتھ مرضعۃ کی خدمت ضروری ہے۔
۷۔۲ یعنی مالی لحاظ سے کمزور ہو۔
۷۔۳ اس لیے وہ غریب اور کمزور کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ دودھ پلانے والی کو زیادہ اجرت ہی دے۔ مطلب ان ہدایات کا یہ ہے کہ بچے کی ماں اور بچے کا باپ دونوں ایسا مناسب رویہ اختیار کریں کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے اور بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ سنگین نہ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ( لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ) 2۔ البقرۃ;233) نہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ باپ کو۔
۷۔٤چنانچہ جو اللہ پر اعتماد وتوکل کرتے ہیں اللہ تعالٰی ان کو آسانی و کشادگی سے بھی نواز دیتا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وسعت والے کو چاہیے کہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی تنگ ہو تو جتنا اللہ نے اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے اللہ نے جتنا کسی کو دیا ہے اس سے زیادہ اسے تکلیف نہیں دیتا عنقر یب اللہ تنگی کے بعد آسانی اور کشادگی پیدا کرے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

صاحبِ وسعت کو چاہئے کہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کے رزق میں تنگی ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے جو خدا نے اسے دیا ہے کہ خدا کسی نفس کو اس سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ہے جتنا اسے عطا کیا گیا ہے عنقریب خدا تنگی کے بعد وسعت عطا کردے گا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر اُس کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ اُسی (روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو اُسے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اُس نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا،