Skip to main content

وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِيْدًاۙ وَّعَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا

وَكَأَيِّن
اور کتنی ہی
مِّن
سے
قَرْيَةٍ
بستیوں میں (سے)
عَتَتْ
انہوں نے سرکشی کی
عَنْ
سے
أَمْرِ
حکم (سے)
رَبِّهَا
اپنے رب کے
وَرُسُلِهِۦ
اور اس کے رسولوں سے
فَحَاسَبْنَٰهَا
تو حساب لیا ہم نے اس سے
حِسَابًا
حساب
شَدِيدًا
سخت
وَعَذَّبْنَٰهَا
اور عذاب دیا ہم نے اس کو
عَذَابًا
عذاب
نُّكْرًا
سخت

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا اور انہیں بری مار دی

احمد علی Ahmed Ali

اور کتنی ہی بستیاں اپنے رب اوراس کے رسولوں کے حکم سے سر کش ہوگئیں پھر ہم نے بھی ان سے سخت حساب لیا اور ان کو بری سزا دی

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی (۱) کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب۔ (۲)

۸۔۱ عَتَتُ، ای تمردت وطغت و استکبرت عن اتباع امر اللہ تعالٰی و متابعۃ رسلہ۔
۷۔۲ نکرا، منکرا فظیعا، حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم وتاخیر ہے۔ عذابا نکرا، وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف ومسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حسابا شدیدا وہ ہے جو آخرت میں ہوگا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں(ع) کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے انکا سخت محاسبہ کیا اور انہیں انوکھی (سخت) سزا دی۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے حکم خدا و رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے ان کا شدید محاسبہ کرلیا اور انہیں بدترین عذاب میں متبلا کردیا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور کتنی ہی بستیاں ایسی تھیں جن (کے رہنے والوں) نے اپنے رب کے حکم اور اُس کے رسولوں سے سرکشی و سرتابی کی تو ہم نے اُن کا سخت حساب کی صورت میں محاسبہ کیا اور انہیں ایسے سخت عذاب میں مبتلا کیا جو نہ دیکھا نہ سنا گیا تھا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

شریعت پر چلنا ہی۔۔ روشنی کا انتخاب ہے
جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ مانیں اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہوگئے جنہوں نے سرتابی سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بےپرواہی برتی آخرش انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بد کرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا اس وقت نادم ہنے لگے لیکن اب ندامت کس کام کی ؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہوجاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لئے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بےپناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والوں چاہئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے، ذکر سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا (ترجمہ) الخ، ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چناچہ ساتھ ہی فرمایا ہے رسولاً تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ کو لفظ ذکر سے یاد کیا گیا، حضرت امام ابن جریر بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں، پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیروں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں، جیسے اور جگہ ہے ( الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ ڏ بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰي صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ ۝ ۙ ) 14 ۔ ابراھیم ;1) اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے ایک اور جگہ ارشاد ہے ( اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ڛ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ\025\07ۧ) 2 ۔ البقرة ;257) ، اللہ ایمان والوں کا کار ساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چناچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے، چناچہ ارشاد باری ہے۔ (ترجمہ) یعنی ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے اور ایمان کیا ہے ؟ لیکن ہم نے اسے نور کردیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں یقینا تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے، پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گذر چکی ہے۔