Skip to main content

قَالَ يٰمُوْسٰۤى اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِىْ وَ بِكَلَامِىْ ۖ فَخُذْ مَاۤ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ

قَالَ
فرمایا
يَٰمُوسَىٰٓ
اے موسیٰ
إِنِّى
بیشک میں نے
ٱصْطَفَيْتُكَ
میں نے چنا ہے تجھ کو
عَلَى
پر
ٱلنَّاسِ
لوگوں
بِرِسَٰلَٰتِى
اپنے پیغامات کے ساتھ
وَبِكَلَٰمِى
اور اپنے کلام کے ساتھ
فَخُذْ
پس لے لو
مَآ
جو
ءَاتَيْتُكَ
میں نے دیا تجھ کو
وَكُن
اور ہوجا
مِّنَ
میں سے
ٱلشَّٰكِرِينَ
شکر کرنے والوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،

احمد علی Ahmed Ali

فرمایا اے موسیٰ میں نے پیغمبری اور ہم کلامی سے دوسرے لوگوں پر تجھے امتیاز دیا ہے جو کچھ میں نے تجھے عطا کیا ہے اسے لے لو اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جاؤ

أحسن البيان Ahsanul Bayan

ارشاد ہوا اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو (١)۔

١٤٤۔١ یہ ہم کلامی کا دوسرا موقع تھا جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مشرف کیا گیا۔ اس سے قبل جب آگ لینے گئے تھے تو اللہ نے ہم کلامی سے نوازا تھا اور پیغمبری عطا فرمائی تھی۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(خدا نے) فرمایا موسیٰ میں نے تم کو اپنے پیغام اور اپنے کلام سے لوگوں سے ممتاز کیا ہے۔ تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو اور (میرا) شکر بجالاؤ

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

ارشاد ہوا اے موسیٰ میں نے تمہیں اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیے تمام لوگوں سے منتخب کیا ہے پس جو چیز (توراۃ) میں نے تمہیں عطا کی ہے اسے لو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ارشاد ہوا کہ موسٰی علیھ السّلامہم نے تمام انسانوں میں اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لئے تمہارا انتخاب کیا ہے لہذا اب اس کتاب کو لے لو اور اللہ کے شکر گذار بندوں میں ہوجاؤ

طاہر القادری Tahir ul Qadri

ارشاد ہوا: اے موسٰی! بیشک میں نے تمہیں لوگوں پر اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ذریعے برگزیدہ و منتخب فرما لیا۔ سو میں نے تمہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے اسے تھام لو اور شکر گزاروں میں سے ہوجاؤ،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جو کلیم اللہ تھے۔ اے موسیٰ جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لئے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں واللہ اعلم۔ الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پالینے کے بعد کا ہے۔ واللہ اعلم۔