Skip to main content

وَلَـقَدْ ذَرَأْنَا لِجَـهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۖ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۖ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۖ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۗ اُولٰۤٮِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ۗ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
ذَرَأْنَا
پیدا کیے ہم نے
لِجَهَنَّمَ
جہنم کے لیے
كَثِيرًا
بہت سے
مِّنَ
میں سے
ٱلْجِنِّ
جنوں
وَٱلْإِنسِۖ
اور انسانوں میں سے
لَهُمْ
ان کے لیے
قُلُوبٌ
دل ہیں
لَّا
نہیں
يَفْقَهُونَ
سمجھتے
بِهَا
ساتھ ان کے
وَلَهُمْ
اور ان کے لیے
أَعْيُنٌ
آنکھیں ہیں
لَّا
نہیں
يُبْصِرُونَ
وہ دیکھتے
بِهَا
ساتھ ان کے
وَلَهُمْ
اور ان کے لیے
ءَاذَانٌ
کان ہیں
لَّا
نہیں
يَسْمَعُونَ
وہ سنتے
بِهَآۚ
ساتھ ان کے
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
كَٱلْأَنْعَٰمِ
مویشیوں کی طرح ہیں
بَلْ
بلکہ
هُمْ
وہ
أَضَلُّۚ
زیادہ گمراہ ہیں
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ ہیں
هُمُ
وہ
ٱلْغَٰفِلُونَ
جو غافل ہیں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ وہی غفلت میں پڑے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور آدمی پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں کہ ان سے دیکھتے نہیں اور کان ہیں کہ ان سے سنتے نہیں وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی گمراہی میں زیادہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں (١) جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ بھی چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں۔

١٧٩۔١ اس کا تعلق تقدیر سے ہے۔ یعنی ہر انسان اور جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ دنیا میں جا کر اچھے یا برے کیا عمل کرے گا، اس کے مطابق اس نے لکھ رکھا ہے۔ یہ انہیں دوزخیوں کا ذکر ہے جنہیں اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والے ہی کام کرنے تھے۔ آگے ان کی مزید صفات بیان کرکے بتا دیا گیا ہے کہ جن لوگوں کے اندر یہ چیزیں اس انداز میں ہوں جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کا انجام برا ہے۔ (۲) یعنی دل آنکھ کان یہ چیزیں اللہ نے اس لیے دی ہیں کہ انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروردگار کو سمجھے اس کی آیات کامشاہدہ کرے اور حق کی بات کو غور سے سنے۔ لیکن جو شحص ان مشاعر سے یہ کام نہیں لیتا وہ گویا ان سے عدم انتفاع (فائدہ نہ اٹھانے) میں چوپایوں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ اس لیے کہ چوپایے تو پھر بھی اپنے نفع نقصان کا کچھ شعور رکھتے ہیں اور نفع والی چیزوں سے نفع اٹھاتے اور نقصان دینے والی چیزوں سے بچ کر رہتے ہیں لیکن اللہ تعالٰی کی ہدایت سے اعراض کرنی والے شخص کے اندر تو یہ تمیز کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے کہ اس کے لیے مفید چیز کون سی ہے اور مضر کون سی؟ اسی لیے اگلے جملے میں انہیں غافل بھی کہا گیا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کئے ہیں، جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیاده گمراه ہیں۔ یہی لوگ غافل ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور کتنے جن و انسان ایسے ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے (یعنی ان کا انجامِ کار جہنم ہے) ان کے دل و دماغ ہیں مگر سوچتے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ (اور گئے گزرے) ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو بالکل غافل و بے خبر ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہّنم کے لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں -یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور بیشک ہم نے جہنم کے لئے جِنّوں اور انسانوں میں سے بہت سے (افراد) کو پیدا فرمایا وہ دل (و دماغ) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سمجھ نہیں سکتے اور وہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) دیکھ نہیں سکتے اور وہ کان (بھی) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) زیادہ گمراہ، وہی لوگ ہی غافل ہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے
بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا ؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔ پس اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا چناچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا مبارک ہو اس کو یہ تو جنت کی چڑیا ہے نہ برائی کی نہ برائی کا وقت پایا آپ نے فرمایا کچھ اور بھی ؟ سن اللہ تعالیٰ نے جنت کو اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کردیا ہے حالانکہ ابھی تو وہ اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں انہیں اسی لئے مقرر کردیا ہے درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہوجائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں اندھے بہرے گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گذار دیتے ہیں اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہوگئے سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھین اندھی ہوگئی ہیں۔ رحمان کے ذکر سے منہ موڑ نے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔ چوپائے بھی تو اپنے حواس کو دنیا کے کام میں لاتے ہیں اسی طرح یہ بھی فکر عقبیٰ سے، ذکر رب سے، راہ مولا سے غافل، گو نگے اور اندھے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ\017\01 ) 2 ۔ البقرة ;171) یعنی ان کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو اس کے پیچھے چلا رہا ہے جو درحقیقت سنتی ونتی خاک بھی نہیں ہاں صرف شوروغل تو اس کے کان میں پڑتا ہے۔ چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا ؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کردیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو وہ اللہ کے اطاعت گذار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔