Skip to main content

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِىْ نَـفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۤءَ اللّٰهُ ۗ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ ۛ وَمَا مَسَّنِىَ السُّۤوْءُ ۛ اِنْ اَنَاۡ اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ

قُل
کہہ دیجیے
لَّآ
نہیں
أَمْلِكُ
میں مالک
لِنَفْسِى
اپنے نفس کے لیے
نَفْعًا
کسی نفع کا
وَلَا
اور نہ
ضَرًّا
کسی نقصان کا
إِلَّا
مگر
مَا
جو
شَآءَ
چاہے
ٱللَّهُۚ
اللہ
وَلَوْ
اور اگر
كُنتُ
ہوتا میں
أَعْلَمُ
جانتا
ٱلْغَيْبَ
غیب کو
لَٱسْتَكْثَرْتُ
البتہ میں جمع کرلیتا۔ کثرت سے حاصل کرلیتا
مِنَ
میں سے
ٱلْخَيْرِ
بھلائی
وَمَا
اور نہ
مَسَّنِىَ
چھوتی مجھ کو
ٱلسُّوٓءُۚ
کوئی تکلیف
إِنْ
مگر
أَنَا۠
میں
إِلَّا
مگر
نَذِيرٌ
ڈرانے والا
وَبَشِيرٌ
اور خوشخبری دینے والا
لِّقَوْمٍ
اس قوم کے لیے
يُؤْمِنُونَ
جو ایمان لاتی ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ، ان سے کہو "میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہو تا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ، ان سے کہو "میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہو تا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو الله چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔

١٨٨۔١ یہ آیت اس بات میں کتنی واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عالم غیب نہیں۔ عالم غیب صرف اللہ کی ذات ہے، لیکن ظلم اور جہالت کی انتہا ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب باور کراتے ہیں۔ حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کے دندان مبارک بھی شہید ہوئے، آپ کا چہرہ بھی زخمی ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ قوم کیسے فلاح یاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کردیا، کتب حدیث میں یہ واقعات بھی اور ذیل کے واقعات بھی درج ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگی تو پورا ایک مہینہ مضطرب اور نہایت پریشان رہے۔ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملادیا، جسے آپ نے تناول فرمایا اور صحابہ نے بھی، حتٰی کہ بعض صحابہ تو کھانے کے زہر سے ہلاک ہی ہوگئے اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمر بھر اس زہر کے اثرات محسوس فرماتے رہے۔ یہ اور اس قسم کے متعدد واقعات ہیں جن سے واضح ہے کہ آپ کو عدم علم کی وجہ سے یہ تکلیف پہنچی، نقصان اٹھانا پڑا، جس سے قرآن کی بیان کردہ حقیقت کا اثبات ہوتا ہے ' اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی مضرت نہ پہنچتی '

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) کہہ دو۔ کہ میں اپنے نفع و نقصان پر کوئی قدرت و اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو اللہ چاہے (وہی ہوتا ہے) اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو بہت سے فائدے حاصل کر لیتا اور (زندگی میں) مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں تو بس (نافرمانوں کو) ڈرانے والا اور ایمانداروں کو خوشخبری دینے والا ہوں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ کہہ دیجئے کہ میں خود بھی اپنے نفس کے نفع و نقصان کا اختیارنہیں رکھتا ہوں مگر جو خد اچاہے اور اگر میں غیب سے باخبر ہوتا تو بہت زیادہ خیر انجام دیتا اور کوئی برائی مجھ تک نہ آسکتی -میں تو صرف صاحبان هایمان کے لئے بشارت دینے والا اور عذاب الٰہی سے ڈرنے والا ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا خود مالک نہیں ہوں مگر (یہ کہ) جس قدر اللہ نے چاہا، اور (اسی طرح بغیر عطاءِ الٰہی کے) اگر میں خود غیب کا علم رکھتا تو میں اَز خود بہت سی بھلائی (اور فتوحات) حاصل کرلیتا اور مجھے (کسی موقع پر) کوئی سختی (اور تکلیف بھی) نہ پہنچتی، میں تو (اپنے منصبِ رسالت کے باعث) فقط ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں٭، ٭ڈر اور خوشی کی خبریں بھی اُمورِ غیب میں سے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطلع فرماتا ہے کیونکہ مِن جانبِ اللہ ایسی اِطلاع علی الغیب کے بغیر نہ تو نبوت و رسالت متحقق ہوتی ہے اور نہ ہی یہ فریضہ ادا ہو سکتا ہے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں فرمایا گیا ہے: وَمَا ھُوَ عَلَی الغَیبِ بِضَنِین ٍ(التکویر، ٨١: ٢٤) (اور یہ نیی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب بتانے میں ہر گز بخیل نہیں)۔ اس قرآنی ارشاد کے مطابق غیب بتانے میں بخیل نہ ہونا تب ہی ممکن ہو سکتا ہے اگر باری تعالیٰ نے کمال فراوانی کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علوم و اَخبارِ غیب پر مطلع فرمایا ہو، اگر سرے سے علمِ غیب عطا ہی نہ کیا گیا ہو تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غیب بتانا کیسا اور پھر اس پر بخیل نہ ہونے کا کیا مطلب؟ سو معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطلع علی الغیب ہونے کی قطعاً نفی نہیں بلکہ نفع و نقصان پر خود قادر و مالک اور بالذات عالم الغیب ہونے کی نفی ہے کیونکہ یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم غیب نہیں تھا
اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام سپرد الہ کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔ جیسے سورة جن میں ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لئے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔ مجاہد سے مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ حضور کے اعمال دائمی تھے جو نیکی ایک بار کرتے پھر اسے معمول بنالیتے۔ ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک ہی طرح کی تھی۔ گویا کہ آپ کی نگاہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف لگتی رہتی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات یوں ہوسکتی ہے کہ دوسروں کو میں ان کی موت کے وقت سے خبردار کر کے انہیں اعمال نیک کی رغبت دلاتا واللہ اعلم۔ اس سے زیادہ اچھا قول اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا ہے کہ میں مال جمع کرلیتا مجھے معلوم ہوجاتا کہ اس چیز کے خریدنے میں نفع ہے میں اسے خرید لیتا۔ جانتا کہ اس کی خریداری میں نقصان ہے نہ خریدتا۔ خشک سالی کے لئے ترسالی میں ذخیرہ جمع کرلیتا۔ ارزانی کے وقت گرانیے علم سے سودا جمع کرلیتا۔ کبھی کوئی برائی مجھے نہ پہنچتی کیونکہ میں علم غیب سے جان لیتا کہ یہ برائی ہے تو میں پہلے سے ہی اس سے جتن کرلیتا۔ لیکن میں علم غیب نہیں جانتا اس لئے فقیری بھی مجھ پر آتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے۔ مجھ میں تم یہ وصف نہ مانو۔ سنو مجھ میں وصف یہ ہے کہ میں برے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں ایمانداروں کو جنت کی خوش خبری سناتا ہوں جیسے فرمان ہے آیت ( فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا 97؀) 19 ۔ مریم ;97) ہم نے اسے تیری زبان پر آسان کردیا ہے کہ تو پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور بروں کو ڈرا دے۔