Skip to main content

يَسْـَٔـــلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰٮهَا ۗ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّىْ ۚ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ۘ ثَقُلَتْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۗ لَا تَأْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْـــَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۗ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ

يَسْـَٔلُونَكَ
وہ پوچھتے ہیں آپ سے
عَنِ
بارے میں
ٱلسَّاعَةِ
قیامت کے
أَيَّانَ
کب ہے
مُرْسَىٰهَاۖ
ٹھہرنا اس کا
قُلْ
کہہ دیجیے
إِنَّمَا
بیشک
عِلْمُهَا
علم اس کا
عِندَ
پاس ہے
رَبِّىۖ
میرے رب کے
لَا
نہ
يُجَلِّيهَا
ظاہر کرے گا اس کو
لِوَقْتِهَآ
اس کے وقت پر
إِلَّا
مگر
هُوَۚ
وہی
ثَقُلَتْ
بھاری ہوگا
فِى
میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں
وَٱلْأَرْضِۚ
اور زمین میں
لَا
نہیں
تَأْتِيكُمْ
آئے گی تمہارے پاس
إِلَّا
مگر
بَغْتَةًۗ
اچانک
يَسْـَٔلُونَكَ
پوچھتے ہیں آپ سے
كَأَنَّكَ
گویا کہ آپ
حَفِىٌّ
باخبر ہیں
عَنْهَاۖ
اس سے
قُلْ
کہہ دیجیے
إِنَّمَا
بیشک
عِلْمُهَا
علم اس کا
عِندَ
کے پاس ہے
ٱللَّهِ
اللہ
وَلَٰكِنَّ
اور لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
جانتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو "اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا" یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو کہو "اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے نا واقف ہیں"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو "اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا" یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو کہو "اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے نا واقف ہیں"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں او رزمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں

احمد علی Ahmed Ali

قیامت کے متعلق تجھ سے پوچھتے ہیں کہ اس کی آمد کا کونسا وقت ہے کہہ دو اس کی خبر تو میرے رب ہی کے ہاں ہے وہی اس کے وقت پر ظاہر کر دکھائے گا وہ آسمانو ں اور زمین میں بھاری بات ہے وہ تم پر محض اچانک آجائے گی تجھ سے پوچھتے ہیں گویا کہ تو اس کی تلاش میں لگا ہوا ہے کہہ دو اس کی خبر خاص الله ہی کے ہاں ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ لوگ آپ سے قیامت (١) کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا (٢) آپ فرما دیجئے اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے (٣) اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی ظاہر نہ کرے گا وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا (٤) وہ تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وہ آپ اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کر چکے ہیں (٥) آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

١٨٧۔١ سَاعَۃ،ُ کے معنی ہیں گھڑی (لمحہ یا پل) کے ہیں قیامت کو ساعۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اچانک اس طرح آجائے گی کہ پل بھر میں ساری کائنات درہم برہم ہو جائے گی یا سرعت حساب کے اعتبار سے قیامت کی گھڑی کو ساعۃ سے تعبیر کیا گیا۔
١٨٧۔٢ اَرْسَیٰ یُرْسِیْ کے معنی اثبات و وقوع کے ہیں، یعنی کب یہ قیامت ثابت یا واقع ہوگی۔
١٨٧۔٣ یعنی اس کا یقینی علم نہ کسی فرشتے کو ہے نہ کسی نبی کو، اللہ کے سوا اس کا علم کسی کے پاس نہیں، وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔
١٨٧۔٤ اس کے ایک دوسرے معنی ہیں۔ اس کا علم آسمان اور زمین والوں پر بھاری ہے، کیونکہ وہ پوشیدہ ہے اور پوشیدہ چیز لوگوں پر بھاری ہوتی ہے۔
١٨٧۔٥ حَفِی،ُ کہتے ہیں پیچھے پڑ کر سوال کرنے اور تحقیق کرنے کو۔ یعنی یہ آپ سے قیامت کے بارے میں اس طرح سوال کرتے ہیں کہ گویا آپ نے رب کے پیچھے پڑ کر اس کی بابت ضروری علم حاصل کر رکھا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادﺛہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول) لوگ آپ سے قیامت کی گھڑی کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار کے ہی پاس ہے اسے اس کا وقت آنے پر وہی ظاہر کرے گا۔ وہ گھڑی آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری ہے (وہ بڑا بھاری حادثہ ہے جو ان میں رونما ہوگا) وہ نہیں آئے گی تمہارے پاس مگر اچانک۔ لوگ اس طرح آپ سے پوچھتے ہیں جیسے آپ اس کی تحقیق اور کاوش میں لگے ہوئے ہیں؟ کہہ دو۔ کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ یہ حقیقت جانتے نہیں ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر !یہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا ٹھکانا کب ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے وہی اس کو بروقت ظاہر کرے گا یہ قیامت زمین و آسمان دونوں کے لئے بہت گراں ہے اور تمہارے پاس اچانک آنے والی ہے یہ لوگ آپ سے اس طرح سوال کرتے ہیں گویا آپ کو اس کی مکمل فکر ہے تو کہہ دیجئے کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگوں کو اس کا علم بھی نہیں ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

یہ (کفار) آپ سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں کہ اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے؟ فرما دیں کہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے، اسے اپنے (مقررہ) وقت پر اس (اللہ) کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا۔ وہ آسمانوں اور زمین (کے رہنے والوں) پر (شدائد و مصائب کے خوف کے باعث) بوجھل (لگ رہی) ہے۔ وہ تم پر اچانک (حادثاتی طور پر) آجائے گی، یہ لوگ آپ سے (اس طرح) سوال کرتے ہیں گویا آپ اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں، فرما دیں کہ اس کا علم تو محض اللہ کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

قیامت کب اور کس وقت ؟
یہ دریافت کرنے والے قریشی بھی تھے اور یہودی بھی لیکن چونکہ یہ آیت مکی ہے اس لئے ٹھیک یہی ہے کہ قریشیوں کا سوال تھا چونکہ وہ قیامت کے قائل ہی نہ تھے اس لئے اس قسم کے سوال کیا کرتے تھے کہ اگر سچے ہو تو اس کا ٹھیک وقت بتادو۔ ادھر بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں۔ ادھر ایماندار اسے حق جان کر اس سے ڈر رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جنہیں اس میں بھی شک ہے دو روز کی گمراہی میں تو وہی ہیں۔ پوچھا کرتے تھے کہ قیامت واقع کب ہوگی ؟ جواب سکھایا گیا کہ اس کے صحیح وقت کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں وہی اس کے صحیح وقت سے واقف ہے بجز اس کے کسی کو اس کے واقع ہونے کا وقت معلوم نہیں۔ اس کا علم زمین و آسمان پر بھی بھاری ہے، ان کے رہنے والی ساری مخلوق اس علم سے خالی ہے۔ وہ جب آئے گی سب پر ایک ہی دقت واقع ہوگی، سب کو ضرر پہنچے گا۔ آسمان پھٹ جائے گا ستارے جھڑ جائیں گے سورج بےنور ہوجائیں گے پہاڑ اڑنے لگیں گے اسی لئے وہ ساری مخلوق پر گراں گذر رہی ہے۔ اس کے واقع ہونے کے صحیح وقت کا علم ساری مخلوق پر بھاری ہے۔ زمین و آسمان والے سب اس سے عاجز اور بیخبر ہیں۔ وہ تو اچانک سب کی بیخبر ی میں ہی آئے گی۔ کوئی بزرگ سے بزرگ فرشتہ، کوئی بڑے سے بڑا پیغمبر بھی اس کے آنے کے وقت کا عالم نہیں۔ وہ تو سب کی بیخبر ی میں ہی آجائے گی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں دنیا کے کل کام حسب دستور ہو رہے ہوں گے، جانوروں والے اپنے جانوروں کے پانی پلانے کے حوض درست کر رہے ہوں گے، تجارت والے تول تال میں مشغول ہوں گے جو قیامت آجائے گی۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قیامت قائم ہونے سے پہلے سورج مغرب کی طرف سے نکلے گا اسے دیکھتے ہی سب لوگ ایمان قبول کرلیں گے لیکن اس وقت کا ایمان ان کے لئے بےسود ہوگا۔ جو اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں اور جنہوں نے اس سے پہلے نیکیاں نہ کی ہوں۔ قیامت اس طرح دفعتاً آجائے گی کہ ایک شخص کپڑا پھیلائے دوسرے کو دکھا رہا ہوگا اور دوسرا دیکھ رہا ہوگا بھاؤ تاؤ ہو رہا ہوگا کہ قیامت ہوجائے گی نہ یہ خریدو فروخت کرسکیں گے نہ کپڑے کی تہہ کرسکیں گے کوئی دودھ دوہ کرلے آ رہا ہوگا پی نہ سکے گا کہ قیامت آجائے گی کوئی حوض درست کر رہا ہوگا ابھی جانوروں کو پانی نہ پلا چکا ہوگا کہ قیامت آجائے گی کوئی لقمہ اٹھائے ہوئے ہوگا ابھی منہ میں نہ ڈالا ہوگا کہ قیامت آجائے گی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے آدمی دودھ کا کٹورا اٹھا کر پینا چاہتا ہی ہوگا ابھی منہ سے نہ لگ پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی کپڑے کے خریدار بھی سود نہ کرچکے ہوں گے کہ قیامت آجائے گی حوض والے بھی لیپاپوتی کر رہے ہوں گے کہ قیامت برپا ہوجائے گی۔ تجھ سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تو ان کا سجا رفیق ہے یہ تیرے پکے دوست ہیں۔ اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تجھے اس کا حال معلوم ہے حالانکہ کسی مقرب فرشتے یا نبی یا رسول کو اس کا علم ہرگز نہیں۔ قریشیوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حضور ہم تو آپ کے قرابتدار ہیں ہمیں تو بتا دیجئے کہ قیامت کب اور کس دن کس سال آئے گی ؟ اس طرح پوچھا کہ گویا آپ کو معلوم ہے حالانکہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہی ہے جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 34؀ ) 31 ۔ لقمان ;34) قیامت کا علم صرف اللہ کو ہی ہے یہی معنی زیادہ ترجیح والے ہیں واللہ اعلم۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بھی جب اعرابی کا روپ دھار کر سائل کی وضع میں آپ کے پاس بیٹھ کر آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے صاف جواب دیا کہ اس کا علم نہ مجھے ہے نہ تجھے۔ اس سے پہلے کے سوالات آپ بتا چکے تھے اس سوال کے جواب میں اپنی لا علمی ظاہر کر کے پوری سورة لقمان کی آخری آیت پڑھی کہ ان پانچ چیزوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی علم قیامت، بارش کا آنا، مادہ کے پیٹ کے بچے کا حال، کل کے حالات، موت کی جگہ۔ ہاں جب آپ نے اس کی علامتیں پوچھیں تو حضور نے بتادیں۔ پھر اسی آیت کو تلاوت فرمایا جبرائیل آپ کے ہر جواب پر یہی فرماتے جاتے تھے کہ آپ نے سچ فرمایا ان کے چلے جانے کے بعد صحابہ نے تعجب سے پوچھا کہ حضور یہ کون صاحب تھے ؟ آپ نے فرمایا جبرائیل تھے تمہیں دین سکھانے آئے تھے۔ جب کبھی وہ میرے پاس جس ہیئت میں آئے میں نے انہیں پہچان لیا لیکن اب کی مرتبہ تو میں خود اب تک نہ پہچان سکا تھا۔ الحمد اللہ میں نے اس کے تمام طریقے کل سندوں کے ساتھ پوری بحث کر کے بخاری شریف کی شرح کے اول میں ہی ذکر کردیئے ہیں۔ ایک اعرابی نے آ کر با آواز بلند آپ کا نام لے کر آپ کو پکارا آپ نے اسی طرح جواب دیا۔ اس نے کہا قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا وہ آنے والی تو قطعاً ہے، تو بتا تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ روزے نماز تو میرے پاس زیادہ نہیں البتہ میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے اپنے دل کو پر پاتا ہوں آپ نے فرمایا انسان اسی کے ہمراہ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہو، مومن اس حدیث کو سن کر بہت ہی خوش ہوئے کہ اس قدر خوشی انہیں اور کسی چیز پر نہیں ہوئی تھی۔ آپ کی عادت مبارک ہی تھی کہ جب کوئی آپ سے ایسا سوال کرے جس کی ضرورت نہ ہو تو آپ اسے وہ بات بتاتے جو اس سے کہیں زیادہ مفید ہو۔ اسی لئے اس سائل کو بھی فرمایا کہ وقت کا علم کیا فائدہ دے گا ؟ ہو سکے تو تیاری کرلو۔ صحیح مسلم میں ہے کہ اعراب لوگ حضور سے جب کبھی قیامت کے بارے سوال کرتے تو آپ جو ان میں سب سے کم عمر ہوتا اسے دیکھ کر فرماتے کہ اگر یہ اپنی طبعی عمر تک پہنچا تو اس کے بڑھاپے تک ہی تم اپنی قیامت کو پالو گے۔ اس سے مراد ان کی موت ہے جو آخرت کے برزخ میں پہنچا دیتی ہے بعض روایتوں میں ان کے اس قسم کے سوال پر آنحضرت کا علی الا طلاق یہی فرمانا بھی مروی ہے کہ اس نوعمر کے بڑھاپے تک قیامت آجائے گی یہ اطلاق بھی اسی تقلید پر مجمول ہوگا یعنی مراد اس سے ان لوگوں کی موت کا وقت ہے، وفات سے ایک ماہ قبل آپ نے فرمایا تم مجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہو اس کے صحیح وقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، میں قسمیہ بیان کرتا ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر جتنے متنفس ہیں ان میں سے ایک بھی سو سال تک باقی نہ رہے گاـ (مسلم) مطلب اس سے یہ ہے کہ سو سال تک اس زمانے کے موجود لوگوں سے یہ دنیا خالی ہوجائے گی۔ آپ فرماتے ہیں معراج والی شب میری ملاقات حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) سے ہوئی وہاں قیامت کے وقت کا ذکر چلا تو حضرت ابراہیم کی طرف سب نے بات کو جھکا دیا۔ آپ نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کا علم نہیں سب حضرت موسیٰ کی طرف متوجہ ہوئے یہی جواب وہاں سے ملا پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا اس کے واقع ہونے کا وقت تو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ ہاں مجھ سے میرے رب نے فرما رکھا ہے کہ دجال نکلنے والا ہے میرے ساتھ دو شاخیں ہوں گی وہ مجھے دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا آخر اللہ اسے میرے ہاتھوں ہلاک کرے گا یہاں تک کہ درخت اور پتھر بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے نیچے ایک کافر چھپا ہوا ہے آ اور اسے قتل کر ڈال جب اللہ تعالیٰ ان سب کو ہلاک کر دے گا تب لوگ اپنے شہروں اور وطنوں کو لوٹیں گے۔ اس وقت یاجوج ماجود نکلیں گے جو کودتے پھلانگتے چاروں طرف پھیل جائیں گے جہاں سے گذریں گے تباہی پھیلا دیں گے جس پانی سے گذریں گے سب پی جائیں گے۔ آخر لوگ تنگ آ کر مجھ سے شکایت کریں گے میں اللہ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ سب کو ہلاک کر دے گا ان کی لاشوں کا سڑاند پھیلے گی جس سے لوگ تنگ آجائیں گے اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جو ان کی لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال آئے گی پھر تو پہاڑ اڑنے لگیں گے اور زمین سکڑنے لگے گی۔ جب یہ سب کچھ ظاہر ہوگا اس وقت قیامت ایسی قریب ہوگی جیسی پورے دن والی حاملہ عورت کے بچہ ہونے کا زمانہ قریب ہوتا ہے کہ گھر کے لوگ ہوشیار رہتے ہیں کہ نہ جانیں دن کو ہوجائے یا رات کو۔ ـ (ابن ماجہ مسند وغیرہ) اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا علم کسی رسول کو بھی نہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اس کی علامات بیان فرماتے ہیں نہ کہ مقررہ وقت۔ اس لئے کہ آپ احکام رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاری کرنے اور دجال کو قتل کرنے اور اپنی دعا کی برکت سے یاجوج ماجوج کو ہلاک کرنے کیلئے اس امت کے آخر زمانے میں نازل ہوں گے جس کا علم اللہ نے آپ کو دے دیا ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیامت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا اس کا علم اللہ کے پاس ہی ہے سوائے اس کے اسے اور کوئی نہیں جانتا ہاں میں تمہیں اس کی شرطیں بتلاتا ہوں اس سے پہلے بڑے بڑے فتنے اور لڑائیاں ہوں گی لوگوں کے خون ایسے سفید ہوجائیں گے کہ گویا کوئی کسی کو جانتا پہچانتا ہی نہیں (مسند) آپ اس آیت کے اترنے سے پہلے بھی اکثر قیامت کا ذکر فرماتے رہا کرتے تھے پس غور کرلو کہ یہ نبی امی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو سید الرسل ہیں خاتم الانبیاء ہیں نبی الرحمہ ہیں نبی اللہ ہیں الملحمہ ہیں عاقب ہیں مقفی ہیں ہاشر ہیں جن کے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا جن کا فرمان ہے کہ میں اور قیامت اس طرح آئے ہیں اور آپ نے اپنی دونوں انگلیاں جوڑ کر بتائیں یعنی شہادت کی انگلی اور اس کے پاس کی انگلی لیکن باوجود اس کے قیامت کا علم آپ کو نہ تھا۔ آپ سے جب سوال ہوا تو یہی حکم ملا جواب دو کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں۔