Skip to main content

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَاَنْـتُمْ تَعْلَمُوْنَ

يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے ہو
لَا
نہ
تَخُونُوا۟
تم خیانت کرو
ٱللَّهَ
اللہ سے
وَٱلرَّسُولَ
اور رسول سے
وَتَخُونُوٓا۟
اور نہ تم خیانت کرو
أَمَٰنَٰتِكُمْ
آپس کی امانتوں میں
وَأَنتُمْ
اور تم
تَعْلَمُونَ
تم جانتے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے ایمان لانے والو، جانتے بُوجھتے اللہ اور اس کے رسُولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے ایمان لانے والو، جانتے بُوجھتے اللہ اور اس کے رسُولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،

احمد علی Ahmed Ali

اے ایمان والو الله اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور آپس کی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو حالانکہ تم جانتے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو (١)۔

٢٧۔١ اللہ اور رسول کے حقوق میں خیانت یہ ہے کہ جلوت میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع دار بن کر رہے اور خلوت میں اس کے برعکس معصیت کار۔ اسی طرح یہ بھی خیانت ہے کہ فرائض میں سے کسی فرض کا ترک اور نواہی میں سے کسی بات کا ارتکاب کیا جائے اور ایک شخص دوسرے کے پاس جو امانت رکھواتا ہے اس میں خیانت نہ کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی امانت کی حفاظت کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اکثر خطبوں میں یہ ضرور ارشاد فرماتے تھے ' اس کا ایمان نہیں، جس کے اندر امانت کی پاسداری نہیں اور اس کا دین نہیں، جس کے اندر دین کی پابندی کا احساس نہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاﻇت چیزوں میں خیانت مت کرو

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اے ایمان والو! سمجھتے بوجھتے ہوئے اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ایمان والو خدا و رسول اور اپنی امانتوں کے بارے میں خیانت نہ کرو جب کہ تم جانتے بھی ہو

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (ان کے حقوق کی ادائیگی میں) خیانت نہ کیا کرو اور نہ آپس کی امانتوں میں خیانت کیا کرو حالانکہ تم (سب حقیقت) جانتے ہو،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو
کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر (رض) کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کردیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتادیا کہ حضور کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب حضرت ابو لبابہ (رض) بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آگئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گرپڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کرلی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں چناچہ آپ خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کرلے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ نے ارشاد فرمایا نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان (رض) کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ابو سفیان مکہ سے چلا جبر ئیل (علیہ السلام) نے آ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی کہ ابو سفیان فلاں جگہ ہے آپ نے صحابہ سے ذکر کیا اور فرمادیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حضرت حاطب بن ابو بلتعہ (رض) کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر کردی آپ نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حضرت حاطب نے اپنے قصور کا اقرار کیا حضرت عمر نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔ سدی فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا ایک صورت اس کی حضور کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو ؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو ؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بےنفع ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف ومالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہوجانا تمام چیزوں کا فوت ہوجانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، جو محض اللہ کے لئے دوستی رکھتا ہو اور جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنا معلوم ہوتا ہو۔ بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔