Skip to main content

عَبَسَ وَتَوَلّٰۤىۙ

عَبَسَ
ترش رو ہوا
وَتَوَلَّىٰٓ
اور منہ موڑا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا

احمد علی Ahmed Ali

پیغمبر چین بجیں ہوئے اور منہ موڑ لیا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(ایک شخص نے) تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس نے منھ بسو رلیا اور پیٹھ پھیرلی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

ان کے چہرۂ (اقدس) پر ناگواری آئی اور رخِ (انور) موڑ لیا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑگئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہوجائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہوجائے، یہ کیا کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے ؟ وہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتیں نہ مانیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے (مسند ابو یعلی) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جلس میں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آگئے اور کہنے لگے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیرلیا اور ادھر ہی متوجہ رہے، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہوگیا اور یہ آیتیں اتریں، پھر تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو ؟ (ابن جریر وغیرہ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت (عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ ۝ ۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى ۝ۭ ) عبس اتری تھی، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے (ابن ابی حاتم) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے، واللہ اعلم، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے،
جو شخص چاہے اسے یاد کرلے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کرلے، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں، امام بخاری (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہوگا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا۔