Skip to main content

يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا ۗ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْـكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا ۚ وَمَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰٮهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيْمًا ۙ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِى الْاَرْضِ مِنْ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ

يَحْلِفُونَ
وہ قسمیں کھاتے ہیں
بِٱللَّهِ
اللہ کی
مَا
نہیں
قَالُوا۟
انہوں نے کہا
وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
قَالُوا۟
انہوں نے کہا ہے
كَلِمَةَ
کلمہ
ٱلْكُفْرِ
کفر
وَكَفَرُوا۟
اور انہوں نے کفر کیا
بَعْدَ
بعد
إِسْلَٰمِهِمْ
اپنے اسلام کے
وَهَمُّوا۟
اور انہوں نے ارادہ کیا
بِمَا
ساتھ اس کے جو
لَمْ
نہیں
يَنَالُوا۟ۚ
پہنچے وہ
وَمَا
اور نہیں
نَقَمُوٓا۟
وہ ناراض ہوئے
إِلَّآ
مگر
أَنْ
یہ کہ
أَغْنَىٰهُمُ
غنی کردیا ان کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
وَرَسُولُهُۥ
اور اس کے رسول نے
مِن
سے
فَضْلِهِۦۚ
اپنے فضل سے
فَإِن
پھر اگر
يَتُوبُوا۟
وہ توبہ کرلیں
يَكُ
ہوگا
خَيْرًا
اچھا
لَّهُمْۖ
انہی کے لیے
وَإِن
اور اگر
يَتَوَلَّوْا۟
وہ منہ موڑیں
يُعَذِّبْهُمُ
عذاب دے گا ان کو
ٱللَّهُ
اللہ
عَذَابًا
عذاب
أَلِيمًا
دردناک
فِى
میں
ٱلدُّنْيَا
دنیا میں
وَٱلْءَاخِرَةِۚ
اور آخرت میں
وَمَا
اور نہیں
لَهُمْ
ان کے لیے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
مِن
کوئی
وَلِىٍّ
دوست
وَلَا
اور نہ
نَصِيرٍ
کوئی مددگار

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے نا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا ہے! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آ جائیں تو انہی کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت درد ناک سزا دے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو اِن کا حمایتی اور مددگار ہو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے نا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا ہے! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آ جائیں تو انہی کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت درد ناک سزا دے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو اِن کا حمایتی اور مددگار ہو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آکر کافر ہوگئے اور وہ چاہا تھا جو انہیں نہ ملا اور انہیں کیا برا لگا یہی نہ کہ اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے، اور اگر منہ پھیریں تو اللہ انہیں سخت عذاب کرے گا دنیا اور آخرت میں، اور زمین میں کوئی نہ ان کا حمایتی ہوگا اور نہ مددگار

احمد علی Ahmed Ali

الله کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے نہیں کہا اوربے شک انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اورمسلمان ہونے کے بعد کافر ہوگئے اورانہوں نے قصد کیا تھا ایسی چیز کا جونہیں پا سکے اور یہ سب کچھ اسی کا بدلہ تھا کہ انہیں الله اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے دولتمند کر دیا ہے سو اگر وہ توبہ کریں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو الله انہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور انہیں روئے زمین پر کوئی دوست اور کوئی مددگار نہیں ملے گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حالانکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے (١) اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے (٢) یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دولتمند کر دیا (٣) اگر یہ بھی توبہ کرلیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ موڑے رہیں تو اللہ تعالٰی انہیں دنیا و آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا۔

٧٤۔١ مفسرین نے اس کی تفسیر میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں، جن میں منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جسے بعض مسلمانوں نے سن لیا اور انہوں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا، لیکن آپ کے استفسار پر مکر گئے بلکہ حلف تک اٹھا لیا کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کی۔ جس پر یہ آیت اتری۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔
٧٤۔٢ اس کی بابت بھی بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً تبوک کی واپسی پر منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک سازش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے کہ دس بارہ منافقین ایک گھاٹی میں آپ کے پیچھے لگ گئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی لشکر سے الگ تقریباً تنہا گزر رہے تھے ان کا منصوبہ یہ تھا کہ آپ پر حملہ کر کے آپ کا کام تمام کر دیں گے اس کی اطلاع وحی کے ذریعے سے آپ کو دے دی گئی جس سے آپ نے بچاؤ کر لیا۔
٧٥۔٣ مسلمانوں کی ہجرت کے بعد، مدینہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے وہاں تجارت اور کاروبار کو بھی فروغ ملا، اور اہل مدینہ کی معاشی حالت بہت اچھی ہوگئی تھی۔ منافقین مدینہ کو بھی اس کا خوب فائدہ حاصل ہوا اللہ تعالٰی اس آیت میں یہی فرما رہا ہے کہ کیا ان کو اس بات کی ناراضگی ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے غنی بنا دیا ہے، بلکہ ان کو تو اللہ تعالٰی کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے انہیں تنگ دستی سے نکال کر خوش حال بنا دیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پاسکے۔ اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کون سا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولت مند کر دیا ہے۔ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر منہ پھیر لیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دے گا اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حاﻻنکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے۔ یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نے دولت مند کردیا، اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے، اور اگر منھ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں دنیا وآخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہوگا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

وہ تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (وہ بات) نہیں کہی۔ حالانکہ انہوں نے یقینا کفر کا کلمہ کہا ہے۔ اور اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کیا ہے اور انہوں نے وہ کام کرنے کا قصد کیا ہے جسے وہ کر نہ سکے ان کی یہ سب خشمناکی اور عیب جوئی صرف اس وجہ سے ہے کہ خدا و رسول نے (مالِ غنیمت دے کر) ان کو تونگر کر دیا ہے۔ سو اگر وہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ انہیں دنیا و آخرت میں دردناک عذاب دے گا۔ اور تمام روئے زمین پر ان کا کوئی حامی اور یار و مددگار نہ ہوگا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ اپنی باتوں پر اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ ایسا نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کلمہ کفر کہا ہے اور اپنے اسلام کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور وہ ارادہ کیا تھا جو حاصل نہیں کرسکے اور ان کا غصہّ صرف اس بات پر ہے کہ اللہ اور رسول نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو نواز دیا ہے -بہرحال یہ اب بھی توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور منہ پھیرلیں تو اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب کرے گا اور روئے زمین پر کوئی ان کا سرپرست اور مددگار نہ ہوگا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(یہ منافقین) اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے یقیناً کلمہ کفر کہا اور وہ اپنے اسلام (کو ظاہر کرنے) کے بعد کافر ہو گئے اور انہوں نے (کئی اذیت رساں باتوں کا) ارادہ (بھی) کیا تھا جنہیں وہ نہ پا سکے اور وہ (اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں سے) اور کسی چیز کو ناپسند نہ کر سکے سوائے اس کے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے فضل سے غنی کر دیا تھا، سو اگر یہ (اب بھی) توبہ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر (اسی طرح) روگرداں رہیں تو اللہ انہیں دنیا اور آخرت (دونوں زندگیوں) میں دردناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا اور ان کے لئے زمین میں نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار،