Skip to main content

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰٮهَاۤ ۖ

كَذَّبَتْ
جھٹلایا
ثَمُودُ
ثمود نے
بِطَغْوَىٰهَآ
اپنی سرکشی کے ساتھ

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا

احمد علی Ahmed Ali

ثمود نے اپنی سرکشی سے (صالح کو) جھٹلایا تھا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کی باعث جھٹلایا۔ (۱)

۱۱۔۱طغیان، وہ سرکشی جو حد سے تجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر کو) جھٹلایا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

(قوم) ﺛمود نے اپنی سرکشی کے باعﺚ جھٹلایا

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

قومِ ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (اپنے پیغمبر(ص) کو) جھٹلایا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر رسول کی تذکیب کی

طاہر القادری Tahir ul Qadri

ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث (اپنے پیغمبر صالح علیہ السلام کو) جھٹلایا،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

آل ثمود کی تباہی کے اسباب ;
اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں بطغواھا کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے، حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہوگئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہوگیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں اسی کے بارے میں فرمان ہے فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقرثمودیوں کی آواز پر یہ آگیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابو زمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا، امام بخاری بھیا سے تفسیر میں اور امام مسلم جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیم ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داحی خون سے تربتر ہوجائے گی، اللہ کے رسول حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کرکے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہوگئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کرلیے تیار ہوگئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو حضرت صالح کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہوگیا اور ہلاکت ڈال دی۔ اور سب پر ابر سے عذاب اترا یہ اس لیے کہ احیم ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد عورت نے بیعت کرلی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے ولا یخاف کو فلا یخاف بھی پڑھا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ کہیں یہ بگڑنہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس بدکار، احیم نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے واللہ اعلم الحمد اللہ سورة الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔