Skip to main content

قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِىْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِىْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلٰـكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِىْ يَتَوَفّٰٮكُمْ ۖ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَۙ

قُلْ
کہہ دیجیے
يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّاسُ
لوگو
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
فِى
میں
شَكٍّ
کسی شک
مِّن
سے
دِينِى
میرے دین
فَلَآ
تو نہیں
أَعْبُدُ
میں عبادت کرتا
ٱلَّذِينَ
ان ہستیوں کی
تَعْبُدُونَ
جن کی تم عبادت کر رہے ہو
مِن
کے
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ
وَلَٰكِنْ
لیکن میں
أَعْبُدُ
عبادت کرتا ہوں
ٱللَّهَ
اللہ کی
ٱلَّذِى
وہ جو
يَتَوَفَّىٰكُمْۖ
فوت کرے گا تم کو
وَأُمِرْتُ
اور مجھ کو حکم دیا گیا
أَنْ
کہ میں
أَكُونَ
ہوجاؤں
مِنَ
میں سے
ٱلْمُؤْمِنِينَ
ایمان لانے والوں

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے نبیؐ! کہہ دو کہ لوگو، اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں ان کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اسی خدا کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے نبیؐ! کہہ دو کہ لوگو، اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں ان کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اسی خدا کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ، اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے کسی شبہ میں ہو تو میں تو اسے نہ پوجوں کا جسے تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ہاں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تمہاری جان نکالے گا اور مجھے حکم ہے کہ ایمان والوں میں ہوں،

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو اے لوگو اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو الله کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں الله کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں وفات دیتا ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ ایمانداروں میں رہوں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

آپ کہہ دیجئے (١) کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (٢) لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے (٣) اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے رہوں۔

١٠٤۔١ اس آیت میں اللہ تعالٰی اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرما رہا ہے کہ آپ تمام لوگوں پر واضح کر دیں کہ میرا طریقہ اور مشرکین کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
١٠٤۔٢ یعنی اگر تم میرے دین کے بارے میں شک کرتے ہو، جس میں صرف ایک اللہ کی عبادت ہے اور یہی دین حق ہے نہ کہ کوئی اور تو یاد رکھو میں ان معبودوں کی کبھی اور کسی حال میں عبادت نہیں کرونگا جن کی تم کرتے ہو۔
١٠٤۔٣ یعنی موت و حیات اسی کے ہاتھ میں ہے، اسی لئے جب وہ چاہے تمہیں ہلاک کر سکتا ہے کیونکہ انسانوں کی جانیں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو اگر تم کو میرے دین میں کسی طرح کا شک ہو تو (سن رکھو کہ) جن لوگوں کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔ بلکہ میں خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تمھاری روحیں قبض کرلیتا ہے اور مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ ایمان لانے والوں میں ہوں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! اگر تم مرے دین کی طرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے۔ اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان ﻻنے والوں میں سے ہوں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہیے! اے لوگو اگر تمہیں میرے دین (اسلام) کے بارے میں کچھ شک ہے تو (سن لو) میں ان (بتوں) کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روح قبض کرتا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اہلِ ایمان کے زمرہ میں سے ہوں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگوں کو میرے دین میں شک ہے تو میں ان کی پرستش نہیں کرسکتا جنہیں تم لوگ خدا کو چھوڑ کر پوج رہے ہو -میں تو صرف اس خدا کی عبادت کرتا ہوں جو تم سب کو موت دینے والا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صاحبان هایمان میں شامل رہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: اے لوگو! اگر تم میرے دین (کی حقانیت کے بارے) میں ذرا بھی شک میں ہو تو (سن لو) کہ میں ان (بتوں) کی پرستش نہیں کرسکتا جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو لیکن میں تو اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں موت سے ہمکنار کرتا ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (ہمیشہ) اہلِ ایمان میں سے رہوں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

دین حنیف کی وضاحت
یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہوجاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت وقدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بےبس ہیں، بےنفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھر پور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو۔ پھر فرماتا ہے کہ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے۔