Skip to main content

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۤءَهُمُ الْعِلْمُۗ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِىْ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
بَوَّأْنَا
ٹھکانہ دیا ہم نے
بَنِىٓ
بنی
إِسْرَٰٓءِيلَ
اسرائیل کو
مُبَوَّأَ
ٹھکانہ
صِدْقٍ
سچا۔ عمدہ
وَرَزَقْنَٰهُم
اور رزق دیا ہم نے ان کو
مِّنَ
میں سے
ٱلطَّيِّبَٰتِ
پاکیزہ چیزوں
فَمَا
تو نہیں
ٱخْتَلَفُوا۟
انہوں نے اختلاف کیا
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
جَآءَهُمُ
آگیا ان کے پاس
ٱلْعِلْمُۚ
علم
إِنَّ
بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
يَقْضِى
فیصلہ کرے گا
بَيْنَهُمْ
ان کے درمیان
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
فِيمَا
اس میں جو
كَانُوا۟
تھے وہ
فِيهِ
اس میں
يَخْتَلِفُونَ
اختلاف کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کیے پھر انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگراُس وقت جبکہ علم اُن کے پاس آ چکا تھا یقیناً تیرا رب قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور نہایت عمدہ وسائل زندگی انہیں عطا کیے پھر انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگراُس وقت جبکہ علم اُن کے پاس آ چکا تھا یقیناً تیرا رب قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کی جگہ دی اور انہیں ستھری روزی عطا کی تو اختلاف میں نہ پڑے مگر علم آنے کے بعد بیشک تمہارا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑتے تھے

احمد علی Ahmed Ali

اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کی عمدہ جگہ دی اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں وہ باوجود علم ہونے کے خلاف کرتے رہے بےشک تیرا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کرے گا جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا (١) یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن پر وہ اختلاف کرتے تھے۔

۔١ یعنی ایک تو اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے، آپس میں اختلاف شروع کر دیا، پھر یہ اختلاف بھی لا علمی اور جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بلکہ علم آجانے کے بعد کیا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ اختلاف محض عناد اور تکبر کی بنیاد پر تھا۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کو عمدہ جگہ دی اور کھانے کو پاکیزہ چیزیں عطا کیں لیکن وہ باوجود علم ہونے کے اختلاف کرتے رہے۔ بےشک جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کردے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزه چیزیں کھانے کو دیں۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا۔ یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن میں وه اختلاف کرتے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور ہم نے (حسب الوعدہ) بنی اسرائیل کو (رہنے کے لئے) بہت اچھا ٹھکانا دیا اور پاکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا انتظام کیا پس جب تک ان کے پاس توراۃ وغیرہ کی شکل میں علم نہیں آگیا تب تک انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا۔ (پھر جان بوجھ کر اختلاف کیا)۔ یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہترین منزل عطا کی ہے اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے تو ان لوگوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس توریت آگئی تو اب خدا ان کے درمیان روزِ قیامت ان کے اختلافات کا فیصلہ کردے گا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور فی الواقع ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ بخشی اور ہم نے انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا تو انہوں نے کوئی اختلاف نہ کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم و دانش آپہنچی۔ بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات
اللہ نے جو نعمتیں بنی اسرائیل پر انعام فرمائیں ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ شام اور ملک مصر میں بیت المقدس کے آپس پاس انہیں جگہ دی۔ تمام و کمال ملک مصر پر ان کی حکومت ہوگئ۔ فرعون کی ہلاکت کے بعد دولت موسویہ قائم ہوگئی۔ جیسے قرآن میں بیان ہے کہ ہم نے ان کمزور بنی اسرائیلیوں کے مشرق مغرب کے ملک کا مالک کردیا۔ برکت والی زمین انکے قبضے میں دے دی اور ان پر اپنی سچی بات کی سچائی کھول دی ان کے صبر کا پھل انہیں مل گیا۔ فرعون، فرعونی اور ان کے کاریگریاں سب نیست و نابود ہوئیں اور آیتوں میں ہے کہ ہم نے فرعونیوں کو باغوں سے دشمنوں سے، خزانوں سے بہترین مقامات اور مکانات سے نکال باہر کیا۔ اور بنی اسرائیل کے قبضے میں یہ سب کچھ کردیا۔ اور آیتوں میں ہے ( كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ 25؀ۙ ) 44 ۔ الدخان ;25) باوجود اس کے خلیل الرحمن (علیہ السلام) کے شہر بیت المقدس کی محبت ان کے دل میں چٹکیاں لیتی رہی۔ وہاں عمالقہ کی قوم کا قبلہ تھا انہیوں نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) سے درخواست کی، انہیں جہاد کا حکم ہوا یہ نامردی کر گئے جس کے بدلے انہیں چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرنا پڑا۔ وہیں حضرت ہارون (علیہ السلام) کا انتقال ہوا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا۔ ان کے بعد یہ حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ساتھ نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر بیت المقدس کو فتح کیا۔ یہاں بخت نصر کے زمانے تک انہیں کا قبضہ رہا پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ انہوں نے اسے لے لیا پھر یونانی بادشاہوں نے وہاں قبضہ کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک وہاں یونانیوں کا ہی قبضہ رہا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ضد میں ان ملعون یہودیوں نے شاہ یونان سے ساز باز کی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گرفتاری کے احکام انہیں باغی قرار دے کر نکلوا دیئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ (علیہ السلام) کو تو اپنی طرف چڑھا لیا اور آپ کے کسی حواری پر آپ کی شباہت ڈال دی انہوں نے آپ کے دھوکے میں اسے قتل کردیا اور سولی پر لٹکا دیا۔ یقینا جناب روح اللہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ان کے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کرلیا۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تقریباً تین سو سال بعد قسطنطنیہ نامی یونانی بادشاہ عیسائی بن گیا۔ وہ بڑا پاجی اور مکار تھا۔ دین عیسوی میں یہ بادشاہ صرف سیاسی منصوبوں کے پورا کرنے اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دین نصاری کو بدل ڈالنے کے لیے گھسا تھا۔ حیلہ اور مکر و فریب اور چال کے طور پر یہ مسیحی بنا تھا کہ مسیحیت کی جڑیں کھوکھلی کر دے۔ نصرانی علماء اور درویشوں کو جمع کرکے ان سے قوانین شریعت کے مجموعے کے نام سے نئی نئی تراشی ہوئی باتیں لکھوا کر ان بدعتوں کو نصرانیوں میں پھیلا دیا اور اصل کتاب و سنت سے انہیں ہٹا دیا۔ اس نے کلیسا، گرجے، خانقاہیں، ہیکلیں وغیرہ بنائیں اور بیسیوں قسم کے مجاہدے اور نفس کشی کے طریقے اور طرح طرح کی عبادتیں ریاضتیں نکال کر لوگوں میں اس نئے دین کی خوب اشاعت کی اور حکومت کے زور اور زر کے لالچ سے اسے دور تک پہنچا دیا۔ جو بےچارے موحد، متبع انجیل اور سچے تابعدار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصلی دن پر قائم رہے انہیں ان ظالموں نے شہر بدر کردیا۔ یہ لوگ جنگلوں میں رہنے سہنے لگے اور یہ نئے دین والے جن کے ہاتھوں میں تبدیلی اور مسخ والا دین رہ گیا تھا اٹھ کھڑے ہوئے اور تمام جزیرہ روم پر چھا گئے۔ قسطنطنیہ کی بنیادیں اس نے رکھیں۔ بیت لحم اور بیت المقدس کے کلیسا اور حواریوں کے شہر سب اسی کے بسائے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی شاندار، دیرپا اور مضبوط عمارتیں اس نے بنائیں۔ صلیب کی پرستش، مشرق کا قبلہ، کنیسوں کی تصویریں، سور کا کھانا وغیرہ یہ سب چیزیں نصرانیت میں اسی نے داخل کیں۔ فروع اصول سب بدل کر دین مسیح کو الٹ پلٹ کردیا۔ امانت کبیرہ اسی کی ایجاد ہے اور دراصل ذلیل ترین خیانت ہے۔ لمبے چوڑے فقہی مسائل کی کتابیں اسی نے لکھوائیں۔ اب بیت المقدس انہیں کے ہاتھوں میں تھا یہاں تک کہ صحابہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے فتح کیا۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خلافت میں یہ مقدس شہر اس مقدس جماعت کے قبضے میں آیا۔ الغرض یہ پاک جگہ انہیں ملی تھی اور پاک روزی اللہ نے دے رکھی تھی جو شرعا بھی حلال اور طبعا بھی طیب۔ افسوس باوجود اللہ کی کتاب ہاتھ میں ہونے کے انہوں نے خلاف بازی اور فرقہ بندی شروع کردی۔ ایک دو نہیں بہتر \07\02 فرقے قائم ہوگئے۔ اللہ اپنے رسول پر درود سلام نازل فرمائے آپ نے ان کی اس پھوٹ کا ذکر فرما کر فرمایا کہ میری امت میں بھی یہی بیماری پھیلے گی اور ان کے تہتر فرقے ہوجائیں گے جس میں سے ایک جنتی باقی سب دوزخی ہوں گے پوچھا گیا کہ جنتی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو اس پر ہوں جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (مستدرک حاکم) اللہ فرماتا ہے ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن میں آپ ہی کروں گا