Skip to main content

فِىْ جِيْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ

فِى
میں
جِيدِهَا
اس کی گردن میں ہوگی
حَبْلٌ
رسی
مِّن
کی
مَّسَدٍۭ
مونجھ کی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسّا،

احمد علی Ahmed Ali

اس کی گردن میں موُنج کی رسیّ ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔

جید گردن۔ مسد، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہوگا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہوگا۔ مسد سے تشبیہ اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لیے دی گئی ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اس کے گلے میں مونج کی رسّی ہو گی

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اس کی گردن میں مُونج کی بٹی ہوئی رسی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اس کی گردن میں بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اس کی گردن میں کھجور کی چھال کا (وہی) رسّہ ہوگا (جس سے کانٹوں کا گٹھا باندھتی ہے)،