Skip to main content

وَجَاۤءُوْ عَلٰى قَمِيـْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍۗ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَـكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاۗ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌۗ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ

وَجَآءُو
اور وہ لائے تھے
عَلَىٰ
پر
قَمِيصِهِۦ
اس کی قمیص
بِدَمٍ
خون
كَذِبٍۚ
جھوٹا
قَالَ
کہا
بَلْ
بلکہ
سَوَّلَتْ
آسان کردیا
لَكُمْ
تمہارے لیے
أَنفُسُكُمْ
تمہارے نفسوں نے
أَمْرًاۖ
ایک کام کو
فَصَبْرٌ
تو صبر ہی
جَمِيلٌۖ
اچھا ہے
وَٱللَّهُ
اور اللہ ہی ہے
ٱلْمُسْتَعَانُ
جس سے مدد چاہی جاسکتی ہے
عَلَىٰ
اس کے خلاف
مَا
جو
تَصِفُونَ
تم بیان کررہے ہو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اس کے کر ُتے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے تو صبر اچھا، اور اللہ ہی مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو

احمد علی Ahmed Ali

اور اسی کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے اس نے کہا نہیں بلکہ تم نے دل سے ایک بات بنائی ہے اب صبر ہی بہتر ہے اورالله ہی سے مدد مانگتا ہوں اس بات پر جو تم بیان کر تے ہو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر لائے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی میں سے ایک بات بنالی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے۔

١٨۔١ کہتے ہیں کہ ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے یوسف علیہ السلام کی قمیص خون میں لت پت کر لی اور یہ بھول گئے کہ بھیڑیا اگر یوسف علیہ السلام کو کھاتا تو قمیص کو بھی پھٹنا تھا، قمیص ثابت کی ثابت ہی تھی جس کو دیکھ کر، علاوہ ازیں حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب اور فراست نبوت سے اندازہ لگا کر حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ واقعہ اس طرح پیش نہیں آیا جو تم بیان کر رہے ہو، بلکہ تم نے اپنے دلوں سے ہی یہ بات بنا لی ہے، حضرت یعقوب اس کی تفصیل سے بےخبر تھے، اس لئے سوائے صبر کے کوئی چارہ اور اللہ کی مدد کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا۔
١٨۔١ منافقین نے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افہام وارشاد کے جواب میں فرمایا تھا۔ واللہ لا اجدلی ولالکم مثلا الا ابا یوسف (فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون) اللہ کی قسم میں اپنے اور آپ لوگوں کے لیے وہی مثال پاتی ہوں جس سے یوسف علیہ السلام کے باپ یعقوب علیہ السلام کو سابقہ پیش آیا تھا اور انہوں نے فصبر جمعیل کہہ کر صبر کا راستہ اختیار کیا تھا، یعنی میرے لیے بھی سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور ان کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا لہو بھی لگا لائے۔ یعقوب نے کہا (کہ حقیقت حال یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دل سے (یہ) بات بنا لائے ہو۔ اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں خدا ہی سے مدد مطلوب ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر ﻻئے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ اس (یوسف (ع)) کے کُرتے پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ آپ (ع) نے کہا (یہ جھوٹ ہے) بلکہ تمہارے نفسوں نے (اپنے بچاؤ کیلئے) یہ بات گھڑ کر تمہیں خوشنما دکھا دی ہے (بہرحال اس سانحہ پر) صبر کرنا ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس سلسلہ میں اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یوسف کے کرتے پر جھوٹا خون لگاکر لے آئے -یعقوب نے کہا کہ یہ بات صرف تمہارے دل نے گڑھی ہے لہذا میرا راستہ صبر جمیل کا ہے اور اللہ تمہارے بیان کے مقابلہ میں میرا مددگارہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہ اس کے قمیض پر جھوٹا خون (بھی) لگا کر لے آئے، (یعقوب علیہ السلام نے) کہا: (حقیقت یہ نہیں ہے) بلکہ تمہارے (حاسد) نفسوں نے ایک (بہت بڑا) کام تمہارے لئے آسان اور خوشگوار بنا دیا (جو تم نے کر ڈالا)، پس (اس حادثہ پر) صبر ہی بہتر ہے، اور اﷲ ہی سے مدد چاہتا ہوں اس پر جو کچھ تم بیان کر رہے ہو،