Skip to main content

وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِى اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَـنُبَوِّئَنَّهُمْ فِى الدُّنْيَا حَسَنَةً ۗ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَۙ

وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
هَاجَرُوا۟
جنہوں نے ہجرت کی
فِى
میں
ٱللَّهِ
اللہ کی راہ
مِنۢ
کے
بَعْدِ
بعد اس کے
مَا
جو
ظُلِمُوا۟
وہ ظلم کیے گئے
لَنُبَوِّئَنَّهُمْ
البتہ ہم ضرور ٹھکانہ دیں گے ان کو
فِى
میں
ٱلدُّنْيَا
دنیا میں
حَسَنَةًۖ
اچھا
وَلَأَجْرُ
اور البتہ اجر
ٱلْءَاخِرَةِ
آخرت کا
أَكْبَرُۚ
سب سے بڑا ہے
لَوْ
کاش
كَانُوا۟
وہ ہوتے
يَعْلَمُونَ
وہ جانتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش جان لیں وہ مظلوم

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش جان لیں وہ مظلوم

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جنہوں نے اللہ کی راہ مں ی اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہوکر ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے، ف۸۶)

احمد علی Ahmed Ali

اورجنہوں نے الله کے واسطے گھر چھوڑا اس کےبعد ان پر ظلم کیا گیا تھا تو البتہ ہم نے انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ جاتے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا ہے (١) ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے (٢) اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے، (٣) کاش کہ لوگ اس سے واقف ہوتے۔

٤١۔١ ہجرت کا مطلب ہے اللہ کے دین کے لئے اللہ کی رضا کی خاطر اپنا وطن، اپنے رشتہ دار اور دوست احباب چھوڑ کر ایسے علاقے میں چلے جانا جہاں آسانی سے اللہ کے دین پر عمل ہو سکے۔ اس آیت میں ان ہی مہاجرین کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے، یہ آیت عام ہے جو تمام مہاجرین کو شامل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان مہاجرین کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کی ایذاؤں سے تنگ آ کر حبشہ ہجرت کر گئے تھے۔ ان کی تعداد عورتوں سمیت ایک سو یا اس سے زیادہ تھی، جن میں حضرت عثمان غنی اور ان کی زوجہ۔ دختر رسول حضرت رقیہ بھی تھیں۔
٤١۔٢ اس سے رزق طیب اور بعض نے مدینہ مراد لیا ہے، جو مسلمانوں کا مرکز بنا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دونوں قولوں میں منافات نہیں ہے۔ اس لئے کہ جن لوگوں نے اپنے کاروبار اور گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی تھی، اللہ تعالٰی نے دنیا میں ہی انہیں نعم البدل عطا فرما دیا۔ رزق طیب بھی دیا اور پورے عرب پر انہیں اقتدار و تمکن عطا فرمایا۔
٤١۔ ٣ حضرت عمر نے جب مہاجرین و انصار کے وظیفے مقرر کئے تو ہر مہاجر کو وظیفہ دیتے ہوئے فرمایا۔ ھَذَا مَا وَ عَدَکَ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا ' یہ وہ ہے جس کا اللہ نے دنیا میں وعدہ کیا ہے '۔ وما ادخر لک فی الآخرۃ افضل۔ اور آخرت میں تیرے لیے جو ذخیرہ ہے وہ اس سے کہییں بہتر ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لیے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جن لوگوں نے ﻇلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راه میں ترک وطن کیا ہے ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے اور آخرت کا ﺛواب تو بہت ہی بڑا ہے، کاش کہ لوگ اس سے واقف ہوتے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جن لوگوں نے خدا کے واسطے ہجرت کی اس کے بعد کہ (ایمان لانے کی وجہ سے) ان پر ظلم کئے گئے ہم ان کو دنیا میں بھی اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے کاش یہ لوگ جان لیتے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد راہ هخدا میں ہجرت اختیار کی ہے ہم عنقریب دنیا میں بھی ان کو بہترین مقام عطا کریں گے اور آخرت کا اجر تو یقینا بہت بڑا ہے .اگر یہ لوگ اس حقیقت سے باخبر ہوں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر (طرح طرح کے) ظلم توڑے گئے تو ہم ضرور انہیں دنیا (ہی) میں بہتر ٹھکانا دیں گے، اور آخرت کا اجر تو یقیناً بہت بڑا ہے، کاش! وہ (اس راز کو) جانتے ہوتے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

دین کی پاسبانی میں ہجرت
جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کر کے، دوست، احباب، رشتے دار، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکہ میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کر کے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں۔ ان کے بہترین لوگ یہ تھے حضرت عثمان بن عفان (رض) آپ کے ساتھ آپ کی بیوی صاحبہ حضرت رقیہ (رض) بھی تھیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی تھیں اور حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد (رض) وغیرہ۔ قریب قریب اسی آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے۔ پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے۔ ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کردیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی۔ ابھی آخرت کا اجر وثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے۔ اللہ تعالیٰ حضرت فاروق اعظم (رض) سے خوش ہو کہ آپ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت وغیرہ دیتے تو فرماتے لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔ پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے۔ ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا، اسی لئے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں۔