اور (یہ) وہ دن ہوگا (جب) ہم ہر امت میں انہی میں سے خود ان پر ایک گواہ اٹھائیں گے اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم آپ کو ان سب (امتوں اور پیغمبروں) پر گواہ بنا کر لائیں گے، اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے،
English Sahih:
And [mention] the Day when We will resurrect among every nation a witness over them from themselves [i.e., their prophet]. And We will bring you, [O Muhammad], as a witness over these [i.e., your nation]. And We have sent down to you the Book as clarification for all things and as guidance and mercy and good tidings for the Muslims.
1 Abul A'ala Maududi
(اے محمدؐ، اِنہیں اُس دن سے خبردار کر دو) جب کہ ہم ہر امت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اُس کے مقابلے میں شہادت دے گا، اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ) ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے
2 Ahmed Raza Khan
اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انہیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر شاہد بناکر لائیں گے، اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو،
3 Ahmed Ali
اور جس دن ہر ایک گروہ میں سے ان پر انہیں میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے اور ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدات اور رحمت اور خوشخبری ہے
4 Ahsanul Bayan
اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے (١) اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہرچیز کا شافی بیان ہے (٢) اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لئے۔
٨٩۔١ یعنی ہر نبی اپنی امت پر گواہی دے گا اور نبی اور آپ کی امت کے لوگ انبیاء کی بابت گواہی دیں گے کہ یہ سچے ہیں، انہوں نے یقیناً تیرا پیغام پہنچا دیا تھا (صحیح بخاری) ٨٩۔٢ کتاب سے مراد اللہ کی کتاب اور نبی کی تشریحات (احادیث) ہیں۔ اپنی احادیث کو بھی اللہ کے رسول نے ' کتاب اللہ ' قرار دیا ہے۔ اور ہرچیز کا مطلب ہے، ماضی اور مستقبل کی خبریں جن کا علم ضروری اور مفید ہے، اسی طرح حرام و حلال کی تفصیلات اور وہ باتیں جن کے دین و دنیا اور معاش و معاد کے معاملات میں انسان محتاج ہیں۔ قرآن و حدیث دونوں میں یہ سب چیزیں واضح کر دی گئی ہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر اُمت میں سے خود اُن پر گواہ کھڑے کریں گے۔ اور (اے پیغمبر) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے
6 Muhammad Junagarhi
اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواه کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواه بنا کر ﻻئیں گے اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لیے
7 Muhammad Hussain Najafi
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو ان کے بالمقابل گواہی دے گا اور آپ کو ان سب کے بالمقابل گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پر وہ کتاب نازل کی ہے جو ہر بات کو کھول کر بیان کرتی ہے اور سرِ تسلیم خم کرنے والوں کے لئے سراسر ہدایت، رحمت اور بشارت ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور قیامت کے دن ہم ہر گروہ کے خلاف ان ہی میں کا ایک گواہ اٹھائیں گے اور پیغمبر آپ کو ان سب کا گواہ بناکر لے آئیں گے اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب اطاعت گزاروں کے لئے ہدایت ,رحمت اور بشارت ہے
9 Tafsir Jalalayn
اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کریں گے اور (اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر امت میں ایک گواہ کھڑا کرے گا۔ ﴿فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ﴾ یہاں بھی گواہ کھڑا کرنے کا ذکر کیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گواہ ہونے کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ﴿وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ ﴾ ” اور لائیں گے ہم آپ کو ان پر گواہ“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے خیر و شر پر گواہ ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کمال عدل ہے کہ ہر رسول اپنی امت پر گواہی دے گا کیونکہ وہ اپنی امت کے اعمال کے بارے میں کسی دوسرے کی نسبت زیادہ اطلاع رکھتا ہے، وہ اتنا عادل اور اپنی امت کے بارے میں اتنا شفیق ہوتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں صرف اسی چیز کی گواہی دے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔ اس کی نظیر اللہ تبارک و تالیٰ کا یہ قول ہے : ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ﴾ (البقرۃ: 2؍143) ” اور اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہی دیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ شَهِيدًا يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ ﴾ (النساء :4؍41۔42) ” اس وقت ان کا کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر آپ کو گواہ بنائیں گے۔ اس روز کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش وہ زمین میں سما جائیں اور ان پر مٹی برابر کردی جائے۔ “ ﴿وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ﴾ ” اور اتاری ہم نے آپ پر کتاب، کھلا بیان ہر چیز کا“ دین کے اصول و فروع، دنیا و آخرت کے احکام اور ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہیں اس کتاب میں واضح الفاظ و معانی کے ساتھ مکمل طور پر بیان کردی گئی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کریم میں بڑے بڑے امور کو بتکرار بیان کرتا ہے جن کے بارے میں قلب کو ہر وقت اور ہر گھڑی تکرار اور بار بار دہرانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان امور کا مختلف عبارات اور متنوع دلائل کے ساتھ اعادہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ دلوں کی گہرائی میں اتر کر اچھی طرح جاگزیں ہوجائیں۔ پس یہ دل میں جس طرح راسخ ہوتے ہیں اس کے مطابق خیر و شر کی صورت میں اثرات حاصل ہوتے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نہایت قلیل اور واضح الفاظ میں بہت سے معانی جمع کردیتا ہے، الفاظ ان معانی کے لئے بنیاد اور اساس کا کام دیتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کے بعد آنے والی آیت اور اس میں جو اوامرو نواہی ہیں، جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا، اس پر غو ر کریں تو یہ نکتہ واضح ہوجائے گا۔ چونکہ یہ قرآن عظیم ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اس لئے تمام انسانوں پر حجت ہے۔ اس کے خلاف ظالموں کی حجت منقطع ہوگئی۔ مسلمانوں نے اس سے استفادہ کیا اور وہ ان کے لئے راہ نما بن گیا۔ وہ اپنے دینی اور دنیاوی امور میں اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ وہ ان کے لئے رحمت ہے جس کے ذریعے سے وہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے جو وہ علم نافع اور علم صالح حاصل کرتے ہیں، وہی ہدایت ہے۔ دنیا و آخرت کا جو ثواب اس پر مترتب ہوتا ہے، مثلاً اصلاح قلب، اطمینان قلب اور نیکی وغیرہ، وہی رحمت ہے۔ قرآن عظیم کے معانی کے مطابق، جو کہ بلند ترین معانی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ تربیت کے بغیر عقل کی تکمیل نہیں ہوتی۔۔۔۔ اس کے معانی کے مطابق تربیت کے بغیر اعمال کریمہ، اخلاق فاضلہ، رزق کشادہ، قول و فعل کے ذریعے سے دشمنوں پر فتح و نصرت، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی عزت و اکرام والی جنت حاصل نہیں ہوتی جس میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہیں جن کو رب رحیم کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
11 Mufti Taqi Usmani
aur woh din bhi yaad rakho jab her ummat mein aik gawah unhi mein say kharra keren gay , aur ( aey payghumber ! ) hum tumhen unn logon kay khilaf gawahi denay kay liye layen gay . aur hum ney tum per yeh kitab utaar di hai takay woh her baat khol khol ker biyan kerday , aur musalmanon kay liye hidayat , rehmat aur khushkhabri ka saman ho .
12 Tafsir Ibn Kathir
کتاب مبین اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کر کے فرما رہے ہیں کہ اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شر افت وکر امت ہونے والی ہے اس کا بھی ذکر کر۔ یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورة نساء کے شروع کی آیت فکیف اذا جئنا من کل امتہ بشھید و جئنا بک علی ھو لاء شھیدا یعنی کیو نکر گزرے گی جب کہ ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے اور ان سب پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بار حضرت عبداللہ بن مسعود سے سورة نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ نے فرمایا بس کر کافی ہے۔ ابن مسعود (رض) نے دیکھا کہ اس وقت آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ پھر فرماتا ہے اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام، ہر ایک نا فع علم، ہر بھلائی گذشتہ کی خبریں، آئندہ کے واقعات، دین دنیا، معاش معاد، سب کے ضروری احکام و احوال اس میں موجود ہیں۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے۔ امام اوزاعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ کتاب سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملا کر ہر چیز کا بیان ہے۔ اس آیت کو اوپر والی آیت سے غا لبا یہ تعلق ہے کہ جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی با بت سوال کرنے والا ہے جیسے فرمان ہے کہ امتوں اور رسولوں سے سب سے سوال ہوگا۔ واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی باز پرس کریں گے۔ رسولوں کو جمع کر کے ان سے سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے، ہمیں کوئی علم نہیں، تو علام الغیوب ہے۔ اور آیت میں ہے ان لذی فرض علیک القر ان لر ادک الی معاد یعنی جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سو نپے ہوئے فریضے کی با بت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے۔ یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ۔