Skip to main content

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِىْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۗ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًاۢ بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ ۗ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ۗ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَـكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مَا كُنْـتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ

وَلَا
اور نہ
تَكُونُوا۟
تم ہوجاؤ
كَٱلَّتِى
اس عورت کی طرح
نَقَضَتْ
جس نے توڑ ڈالا
غَزْلَهَا
اپنا سوت
مِنۢ
کے
بَعْدِ
بعد
قُوَّةٍ
پکا کرنے ۔ مضبوطی کے بعد
أَنكَٰثًا
ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔ ریزہ ریزہ کرنا
تَتَّخِذُونَ
تم بنا لیتے ہو
أَيْمَٰنَكُمْ
اپنی قسموں کو
دَخَلًۢا
بہانہ
بَيْنَكُمْ
آپس میں
أَن
کہ
تَكُونَ
ہو
أُمَّةٌ
ایک گروہ۔ ایک امت
هِىَ
وہ
أَرْبَىٰ
بڑھی ہوئی۔ زیادہ فائدہ والی
مِنْ
سے
أُمَّةٍۚ
دوسرے گروہ سے
إِنَّمَا
بیشک
يَبْلُوكُمُ
آزماتا ہے تم کو
ٱللَّهُ
اللہ
بِهِۦۚ
ساتھ اس کے
وَلَيُبَيِّنَنَّ
اور البتہ ضرور بیان کرے گا
لَكُمْ
تمہارے لیے
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
مَا
جو
كُنتُمْ
تھے تم
فِيهِ
اس میں
تَخْتَلِفُونَ
تم اختلاف کرتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالاں کہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالاں کہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا اپنی قسمیں آپس میں ایک بے اصل بہانہ بناتے ہو کہ کہیں ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ نہ ہو اللہ تو اس سے تمہیں آزماتا ہے اور ضرور تم پر صاف ظاہر کردے گا قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے،

احمد علی Ahmed Ali

اور اس عورت جیسے نہ بنو جواپنا سوت محنت کے بعد کاٹ کر توڑ ڈالے کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنانے لگو محض اس لیے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے الله اس میں تمہاری آزمائش کرتا ہے اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو الله اسے ضرور قیامت کے دن ظاہر کردے گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا (١) کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعث ٹھہراؤ (٢) اس لئے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھا چڑھا ہو جائے (٣) بات صرف یہی ہے کی اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالٰی تمہارے لئے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے۔

٩٢۔١ یعنی مؤکد بہ حلف عہد کو توڑ دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی عورت سوت کاتنے کے بعد اسے خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ یہ تمثیل ہے۔
٩٢۔٢ یعنی دھوکہ اور فریب دینے کا ذریعہ بناؤ۔
٩٢۔٣ جب تم دیکھو کہ اب تم زیادہ ہوگئے ہو تو اپنے گمان سے حلف توڑ دو، جب کہ قسم اور معاہدے کے وقت وہ گروہ کمزور تھا، لیکن کمزوری کے باوجود وہ مطمئن تھا کہ معاہدے کی وجہ سے ہمیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ لیکن تم عذر اور نقص عہد کر کے نقصان پہنچاؤ۔ زمانہء جایلیت میں اخلاقی پستی کی وجہ سے اس قسم کی عہد شکنی عام تھی، مسلمانوں کو اس اخلاقی پستی سے روکا گیا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور اُس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا۔ پھر اس کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈاﻻ، کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعﺚ ٹھراؤ، اس لیے کہ ایک گروه دوسرے گروه سے بڑھا چڑھا ہوجائے۔ بات صرف یہی ہے کہ اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے لیے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

خبردار تم اس عورت کی مانند نہ ہو جانا جس نے بڑی مضبوطی سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکر و فریب کا ذریعہ بناتے ہو۔ تاکہ ایک گروہ دوسرے سے زیادہ فائدہ حاصل کرے اور اللہ اس بات سے تمہاری آزمائش کرتا ہے اور یقیناً قیامت کے دن وہ تمہارے لئے وہ حکمت ظاہر کر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے ہو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور خبردار اس عورت کے مانند نہ ہوجاؤ جس نے اپنے دھاگہ کو مضبوط کاتنے کے بعد پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا-کیا تم اپنے معاہدے کو اس چالاکی کا ذریعہ بناتے ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے-اللہ تمہیں ان ہی باتوں کے ذریعے آزما رہا ہے اور یقینا روزِ قیامت اس امر کی وضاحت کردے گا جس میںتم آپس میں اختلاف کررہے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کات لینے کے بعد توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، تم اپنی قَسموں کو اپنے درمیان فریب کاری کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ (اس طرح) ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ہو جائے، بات یہ ہے کہ اللہ (بھی) تمہیں اسی کے ذریعہ آزماتا ہے، اور وہ تمہارے لئے قیامت کے دن ان باتوں کو ضرور واضح فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے،