Skip to main content

قُلْ لَّوْ اَنْـتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۤٮِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّىْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۗ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا

قُل
کہہ دیجئے
لَّوْ
اگر
أَنتُمْ
تم
تَمْلِكُونَ
مالک ہو
خَزَآئِنَ
خزانوں کے
رَحْمَةِ
رحمت کے
رَبِّىٓ
میرے رب کی
إِذًا
تب
لَّأَمْسَكْتُمْ
البتہ روک لیتے تم
خَشْيَةَ
ڈر سے
ٱلْإِنفَاقِۚ
خرچ ہوجانے کے
وَكَانَ
اور ہے
ٱلْإِنسَٰنُ
انسان
قَتُورًا
کنجوس/ بخیل

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو انہیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں، اور آدمی بڑا کنجوس ہے،

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم انہیں خرچ ہو جانے کے ڈر سے بند ہی کر رکھتے اور انسان بڑا تنگ دل ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہہ دیجئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہو جانے (١) کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل ہے۔

١٠٠۔١ خشیۃ الانفاق کا مطلب ہے۔ خشیۃ ان ینفقوا فیفتقروا۔ اس خوف سے کہ خرچ کر کے ختم کر ڈالیں گے، اس کے بعد فقیر ہو جائیں گے۔ حالانکہ یہ خزانہ الٰہی جو ختم ہونے والا نہیں لیکن چونکہ انسان تنگ دل واقع ہوا ہے، اس لئے بخل سے کام لیتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے فرمایا (اَمْ لَھُمْ نَصِيْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا يُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِيْرًا)۔ 4۔ النساء;53)۔ یعنی ان کو اگر اللہ کی بادشاہی میں سے کچھ حصہ مل جائے تو یہ لوگوں کو کچھ نہ دیں۔ نقیر کھجور کی گٹھلی میں جو گڑھا ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں یعنی تل برابر بھی کسی کو نہ دیں یہ تو اللہ کی مہربانی اور اس کا فضل وکرم ہے کہ اس نے اپنے خزانوں کے منہ لوگوں کے لیے کھولے ہوئے ہیں جس طرح حدیث میں ہے اللہ کے ہاتھ بھرے ہوئے ہیں وہ رات دن خرچ کرتا ہے لیکن اس میں کوئی کمی نہیں آتی ذرا دیکھو تو سہی جب سے آسمان و زمین اس نے پیدا کیے ہیں کس قدر خرچ کیا ہوگا لیکن اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کمی نہیں وہ بھرے کے بھرے ہیں۔ البخاری۔ مسلم۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہہ دیجیئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہوجانے کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

کہہ دیجئے! کہ اگر تم میرے پروردگار کی رحمت کے خزانوں کے مالک بھی ہوتے تو تم ان کے خرچ ہو جانے کے خوف سے (ہاتھ) روک لیتے اور انسان بڑا بخیل ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ میرے پروردگار کے خزانوں کے مالک ہوتے تو خرچ ہوجانے کے خوف سے سب روک لیتے اور انسان تو تنگ دل ہی واقع ہوا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تب بھی (سب) خرچ ہوجانے کے خوف سے تم (اپنے ہاتھ) روکے رکھتے، اور انسان بہت ہی تنگ دل اور بخیل واقع ہوا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

انسانی فطرت کا نفسیانی تجزیہ
انسانی طبیعت کا خاصہ بیان ہو رہا ہے کہ رحمت الہٰی جیسی نہ کم ہونے والی چیزوں پر بھی اگر یہ قابض ہوجائے تو ہاں بھی اپنی بخیلی اور تنگ دلی نہ چھوڑے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اگر ملک کے کسی حصے کے یہ مالک ہوجائیں تو کسی کو ایک کوڑی پرکھنے کو نہ دیں۔ پس یہ انسانی طبیعت ہے ہاں جو اللہ کی طرف سے ہدایت کئے جائیں اور توفیق خیر دئیے جائیں وہ اس بدخصلت سے نفرت کرتے ہیں وہ سخی اور دوسروں کا بھلا کرنے والے ہوتے ہیں۔ انسان بڑا ہی جلد باز ہے تکلیف کے وقت لڑکھڑا جاتا ہے اور راحت کے وقت بھول جاتا ہے اور دوسروں کے فائدہ سے اپنے ہاتھ روکنے لگتا ہے ہاں نمازی لوگ اس سے بری ہیں الخ ایسی آیتیں قرآن میں اور بھی بہت سی ہیں۔ اس سے اللہ کے فضل و کرم اس کی بخشش و رحم کا پتہ چلتا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ دن رات کا خرچ اللہ کے ہاتھ میں ہیں اس میں کوئی کمی نہیں لاتا ابتدا سے اب تک کے خرچ نے بھی اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔