Skip to main content

وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاۤءَهٗ بِالْخَيْرِ ۗ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا

وَيَدْعُ
اور مانگتا ہے/ دعا کرتا ہے
ٱلْإِنسَٰنُ
انسان
بِٱلشَّرِّ
شر کی
دُعَآءَهُۥ
دعا اپنی
بِٱلْخَيْرِۖ
بدلے بھلائی کے
وَكَانَ
اور ہے
ٱلْإِنسَٰنُ
انسان
عَجُولًا
جلد باز

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور انسان برائی مانگتا ہے جس طرح وہ بھلائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح، انسان ہی بڑا جلد باز ہے (١)

۱۱۔۱ انسان چونکہ جلد باز اور بےحوصلہ ہے اس لیے جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اپنی ہلاکت کے لیے اسی طرح بد دعا کرتا ہے جس طرح بھلائی کے لیے اپنے رب سے دعائیں کرتا ہے یہ تو رب کا فضل و کرم ہے کہ وہ اس کی بد دعاؤں کو قبول نہیں کرتا یہی مضمون (وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْهِمْ اَجَلُھُمْ ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ) 10۔یونس;11) میں گزر چکا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح، انسان ہے ہی بڑا جلد باز

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور انسان برائی کی دعا اسی طرح کرتا ہے جس طرح اچھائی کی دعا کرتا ہے (دراصل) انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور انسان کبھی کبھی اپنے حق میں بھلائی کی طرح برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے کہ انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور انسان (کبھی تنگ دل اور پریشان ہو کر) برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے جس طرح (اپنے لئے) بھلائی کی دعا مانگتا ہے، اور انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

بد دعا اور انسان
یعنی انسان کبھی کبھی گیر اور ناامید ہو کر اپنی سخت غلطی سے خود اپنے لئے برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے مال واولاد کے لئے بد دعا کرنے لگتا ہے کبھی موت کی، کبھی ہلاکت کی، کبھی بردباری اور لعنت کی۔ لیکن اس کا اللہ اس پر خود اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ادھر وہ دعا کرے ادھر وہ قبول فرما لے تو ابھی ہلاک ہوجائے۔ حدیث میں بھی ہے کہ اپنی جان و مال کے لئے دعا نہ کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت میں کوئی ایسا بد کلمہ زبان سے نکل جائے۔ اس کی وجہ صرف انسان کی اضطرابی حالت اور اس کی جلد بازی ہے۔ یہ ہے ہی جلد باز۔ حضرت سلمان فارسی اور حضرت ابن عباس (رض) نے اس موقعہ پر حضرت آدم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ ابھی پیروں تلے روح نہیں پہنچتی تھی کہ آپ نے کھڑے ہونے کا ارادہ کیا روح سر کی طرف سے آرہی تھی ناک تک پہنچی تو چھینک آئی آپ نے کہا الحمد للہ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یرحمک ربک یا ادم اے آدم تجھ پر تیرا رب رحم کرے جب آنکھوں تک پہنچی تو آنکھیں کھول کر دیکھنے لگے۔ جب اور نیچے کے اعضا میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے۔ جب اور نیچے کے اعضا میں پہنچی تو خوشی سے اپنے آپ کو دیکھنے لگے ابھی پیروں تک نہیں پہنچی تو چلنے کا ارادہ کیا لیکن نہ چل سکے تو دعا کرنے لگے کہ اے اللہ رات سے پہلے روح آجائے۔