Skip to main content

قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا

قُلِ
کہہ دیجئے
ٱدْعُوا۟
کہ پکارو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
زَعَمْتُم
تم گمان رکھتے ہو
مِّن
سے
دُونِهِۦ
اس کے سوا تو
فَلَا
نہیں
يَمْلِكُونَ
وہ مالک ہوسکتے
كَشْفَ
ہٹانے کے
ٱلضُّرِّ
تکلیف
عَنكُمْ
تم سے
وَلَا
اور نہ
تَحْوِيلًا
بدلنے کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دو کرنے اور نہ پھیر دینے کا

احمد علی Ahmed Ali

کہہ دو انہیں پکارو جنہیں تم اس کے سوا سمجھتے ہو وہ نہ تمہاری تکلیف دور کر سکیں گے اور نہ اسے بدلیں گے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انہیں پکارو لیکن نہ تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

کہہ دیجیئے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انہیں پکارو لیکن نہ تو وه تم سے کسی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے رسول(ص)) ان لوگوں سے کہہ دو کہ جنہیں تم اللہ کے سوا (کارساز) سمجھتے ہو۔ ذرا انہیں پکار کر دیکھو۔ وہ نہ تو تم سے تکلیف دور کر سکتے ہیں اور نہ ہی (اسے) بدل سکتے ہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ خدا کے علاوہ جن کا بھی خیال ہے سب کو بلالیں کوئی نہ ان کی تکلیف کو دور کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور نہ ان کے حالات کے بدلنے کا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

فرما دیجئے: تم ان سب کو بلا لو جنہیں تم اﷲ کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو وہ تم سے تکلیف دور کرنے پر قادر نہیں ہیں اور نہ (اسے دوسروں کی طرف) پھیر دینے کا (اختیار رکھتے ہیں)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

وسیلہ یا قرب الہٰی
اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آسکتے ہیں ؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کردیں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں وہ مخض بےبس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔ یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہوگئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں، اس لئے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود اللہ کی طرف جھک گئے۔ ابن مسعود (رض) کہتے ہیں یہ جن فرشتوں کی ایک قسم سے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت مریم (علیہ السلام) ، حضرت عزیر (علیہ السلام) ، سورج چاند، فرشتے سب قرب الہٰی کی تلاش میں ہیں۔ ابن جریر فرماتے ہیں ٹھیک مطلب یہ ہے کہ جن جنوں کو یہ پوجتے تھے آیت میں وہی مراد ہیں کیونکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) وغیرہ کا زمانہ تو گزر چکا تھا اور فرشتے پہلے ہی سے عابد الہٰی تھے تو مراد یہاں بھی جنات ہیں۔
وسیلہ کے معنی قربت و نزدیکی کے ہیں جیسے کہ حضرت قتادہ (رح) کا قول ہے۔ یہ سب بزرگ اسی دھن میں ہیں کہ کون اللہ سے زیادہ نزدیکی حاصل کرلے ؟ وہ اللہ کی رحمت کے خواہاں اور اس کے عذاب سے ترساں ہیں۔ حقیقت میں بغیر ان دونوں باتوں کے عبادت نا مکمل ہے۔ خوف گناہوں سے روکتا ہے اور امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے درحقیقت اس کے عذاب ڈرنے کے لائق ہیں۔ اللہ ہمیں بچائے۔