Skip to main content

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْـفَجْرِۗ اِنَّ قُرْاٰنَ الْـفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا

أَقِمِ
قائم کرو
ٱلصَّلَوٰةَ
نماز کو
لِدُلُوكِ
ڈھلنے کے وقت
ٱلشَّمْسِ
سورج کے
إِلَىٰ
تک
غَسَقِ
سخت تاریکی
ٱلَّيْلِ
رات کی
وَقُرْءَانَ
اور قرآن پڑھنا
ٱلْفَجْرِۖ
فجر کا
إِنَّ
بیشک
قُرْءَانَ
قرآن پڑھنا
ٱلْفَجْرِ
فجر کا
كَانَ
ہے
مَشْهُودًا
حاضر کیا گیا/ دیکھا جانے والا

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں

احمد علی Ahmed Ali

آفتاب کے ڈھلنےسے رات کے اندھیرے تک نماز پڑھا کرو اور صبح کی نماز بھی بے شک صبح کی نماز میں مجمع ہو تا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک (١) اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا (٢)

٧٨۔١ دلوک کے معنی زوال کے اور غسق کے معنی تاریکی کے ہیں۔ آفتاب کے ڈھلنے کے بعد، ظہر اور عصر کی نماز اور رات کی تاریکی تک مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور قرآن الفجر سے مراد فجر کی نماز ہے۔ قرآن، نماز کے معنی میں ہے۔ اس کو قرآن سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں فرض نمازوں کا اجمالی ذکر آجاتا ہے۔ جن کی تفیصلات احادیث میں ملتی ہیں اور جو امت کے لئے عملی تواتر سے بھی ثابت ہیں۔
٧٨۔٢ یعنی اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں بلکہ دن کے فرشتوں اور رات کے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے (صحیح بخاری)، تفسیر بنی اسرائیل) ایک اور حدیث میں ہے کہ رات والے فرشتے جب اللہ کے پاس جاتے ہیں تو اللہ تعالٰی ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خود خوب جانتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ ' فرشتے کہتے ہیں ہم ان کے پاس گئے تھے، اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس سے آئے ہیں تو انہیں نماز پڑھتے ہوئے ہی چھوڑ کر آئے ہیں۔ البخاری ومسلم

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(اے محمدﷺ) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب، عشا کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔ کیوں صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

(اے پیغمبر(ص)) زوالِ آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرو۔ اور نمازِ صبح بھی۔ کیونکہ صبح کی نماز حضوری کا وقت ہے (اس وقت شب و روز کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں)۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

آپ زوال آفتاب سے رات کی تاریکی تک نماز قائم کریں اور نماز صبح بھی کہ نماز صبح کے لئے گواہی کا انتظام کیا گیا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

اوقات صلوۃ کی نشاندہی
نمازوں کو وقتوں کی پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہو رہا ہے دلوک سے مراد غرب ہے یا زوال ہے۔ امام ابن جریر زوال کے قول کو پسند فرماتے ہیں اور اکثر مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ کے ساتھ ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جنہیں آپ نے چاہا دعوت کی، کھانا کھا کر سورج ڈھل جانے کے بعد آپ میرے ہاں سے چلے، حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا، چلو یہی وقت دلوک شمس کا ہے۔ پس پانچوں نمازوں کا وقت اس آیت میں بیان ہوگیا۔ غسق سے۔ مراد اندھیرا ہے جو کہتے ہیں کہ دلوک سے مراد غروبي ہے، ان کے نزدیک ظہر عصر مغرب عشا کا بیان تو اس میں ہے اور فجر کا بیان وقران الفجر میں ہے۔ حدیث سے بہ تواتر اقوال و افعال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانچوں نمازوں کے اوقات ثابت ہیں اور مسلمان بحمد للہ اب تک اس پر ہیں، ہر پچھلے زمانے کے لوگ اگلے زمانے والوں سے برابر لیتے چلے آتے ہیں۔ جیسے کہ ان مسائل کے بیان کی جگہ اس کی تفصیل موجود ہے والحمد للہ۔ صبح کی تلاوت قرآن پر دن اور رات کے فرشتے آتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے تنہا شخص کی نماز پر جماعت جماعت کی نماز پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ صبح کن نماز کے وقت دن اور رات کے فرشتے اکھٹے ہوتے ہیں۔ اسے بیان فرما کر راوی حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا تم قرآن کی آیت کو پڑھ لو وقران الفجر الخ، بخاری و مسلم میں ہے کہ رات کے اور دن کے فرشتے تم میں برابر پے در پے آتے رہتے ہیں، صبح کی اور عصر کی نماز کے وقت ان کا اجتماع ہوجاتا ہے تم میں جن فرشتوں نے رات گزاری وہ جب چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے، باوجود یہ کہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں نماز میں پایا اور واپس آئے تو نماز میں چھوڑ کر آئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ یہ چوکیدار فرشتے صبح کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر یہ چڑھ جاتے ہیں اور وہ ٹھیر جاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے اور اس ارشاد فرمانے کا ذکر کیا کہ کوئی ہے ؟ جو مجھ سے استغفار کرے اور میں اسے بخشوں کوئی ہے ؟ کہ مجھ سے سوال کرے اور میں اسے دوں۔ کوئی ہے ؟ جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں۔ یہاں تک کہ صبح طلوع ہوجاتی ہے پس اس وقت پر اللہ تعالیٰ موجود ہوتا ہے اور رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تہجد کی نماز کا حکم فرماتا ہے، فرشوں کا تو حکم ہے ہی۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا رات کی نماز۔ تہجد کہتے ہیں نیند کے بعد کی نماز کو، لغت میں مفسرین کی تفسیروں میں اور حدیث میں یہ موجود ہے آپ کی عادت بھی یہی تھی کہ سو کر اٹھتے پھر تہجد پڑھتے۔ جیسے کہ اپنی جگہ بیان موجود ہے۔ ہاں حسن بصری کا قول ہے کہ جو نماز عشا کے بعد ہو۔ ممکن ہے کہ اس سے بھی مراد سو جانے کے بعد ہو۔ پھر فرمایا یہ زیادتی تیرے لئے ہے۔ بعض تو کہتے ہیں، تہجد کی نمازوں کے برخلاف صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فرض تھی۔ بعض کہتے ہیں یہ خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف تھے اور امتیوں کی اس نماز کے وجہ سے ان کے گناہ دور ہوجاتے ہیں۔ ہمارے اس حکم کی بجا آوری پر ہم تجھے اس جگہ کھڑا کریں گے کہ جہاں گھڑا ہونے پر تمام مخلوق آپ کی تعریفیں کرے گی اور خود خالق اکبر بھی۔ کہتے ہیں کہ مقام محمود پر قیامت کے دن آپ اپنی امت کی شفاعت کے لئے جائیں گے تاکہ اس دن کی گھبراہٹ سے آپ انہیں راحت دیں۔ حضرت حدیفہ (رض) فرماتے ہیں لوگ ایک ہی میدان میں جمع کئے جائیں گے پکارنے والا اپنی آواز انہیں سنائے گا، آنکھیں کھل جائیں گے، ننگے پاؤں ننگ بدن ہوں گے، جیسے کہ پیدا کئے گے تھے، سب کھڑے ہوں گے، کوئی بھی بغیر اجازت الہٰی بات نہ کرسکے گا، آواز آئے گی، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کہیں گے لبیک وسعدیک۔ اے اللہ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے۔ برائی تیری جانب سے نہیں۔ راہ یافتہ وہی ہے جسے تو ہدایت بخشے، تیرا غلام تیرے سامنے موجود ہے، وہ تیری ہی مدد سے قائم ہے، وہ تیری ہی جانب جھکنے والا ہے۔ تیری پکڑ سے سوائے تیرے دربار کے اور کوئی پناہ نہیں تو برکتوں اور بلندیوں والا ہے اے رب البیت تو پاک ہے۔
مقام محمود کا تعاف
یہ مقام محمود جس کا ذکر اللہ عز و جل نے اس آیت میں کیا ہے۔ پس یہ مقام مقام شفاعت ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں قیامت کے دن سب سے پہلے زمین سے آپ باہر آئیں گے۔ اور سب سے پہلے شفاعت آپ ہی کریں گے۔ اہل علم کہتے ہیں کہ یہی مقام محمود ہے جس کا وعدہ اللہ کریم نے اپنے رسول مقبول سے کیا ہے۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیشک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بہت سی بزرگیاں ایسی ملیں گی جن میں کوئی آپ کی برابری کا نہیں۔ سب سے پہلے آپ ہی کی قبر کی زمین شق ہوگی اور آپ سواری پر سوار محشر کی طرف جائیں گے، آپ کا ایک جھنڈا ہوگا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ہو آئیں اور سب انکار کردیں۔ پھر آپ کے پاس آئیں گے اور آپ اس کے لئے تیار ہوں گے جیسے کہ اس کی حدیثیں مفصل آرہی ہے انشاء اللہ آپ ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جن کی بابت حکم ہوچکا ہوگا کہ انہیں جہنم کی طرف لے جائیں۔ پھر وہ آپ کی شفاعت سے واپس لوٹا دئے جائیں گے، سب سے پہلے آپ ہی جنت میں لے جانے کی پہلے سفارشی ہوں گے۔ جیسے کہ صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ تمام مومن آپ ہی کی شفاعت سے جنت میں جائیں گے۔ سب سے پہلے آپ جنت میں جائیں گے اور آپ کی امت اور امتوں سے پہلے جائے گی۔ آپ کی شفاعت سے کم درجے کے جنتی اعلی اور بلند درجے پائیں گے۔ آپ ہی صاحب وسیلہ ہیں جو جنت کی سب سے اعلی منزل ہے جو آپ کے سوا کسی اور کو نہیں ملنے کی۔ یہ صحیح ہے کہ بحکم الہٰی گنہگاروں کی شفاعت فرشتے بھی کریں گے، نبی بھی کریں گے، مومن بھی کریں گے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت جس قدر لوگوں کے بارے میں ہوگی ان کی گنتی کا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو علم نہیں اس میں کوئی آپ کی مثل اور برابر نہیں۔
کتاب السیرت کے آخر میں باب الخصائص میں میں نے اسے خوب تفصیل سے بیان کیا ہے والحمد للہ۔ اب مقام محمود کے بارے کی حدیثیں سنئے۔ اللہ ہماری مدد کرے۔ بخاری میں ہے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں لوگ قیامت کے دن گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہوگی کہ اے فلاں ہماری شفاعت کیجئے، اے فلاں ہماری شفاعت کیجئے یہاں تک کہ شفاعت کی انتہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہوگی۔ پس یہی وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔
ابن جریر میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں سورج بہت نزدیک ہوگا یہاں تک کہ پسینہ آدھے کانوں تک پہنچ جائے گا، اسی حالت میں لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) سے فریاد کریں گے، وہ صاف انکار کردیں گے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہیں گے آب یہی جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں پھر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہیں گے آپ مخلوق کی شفاعت کے لئے چلیں گے یہاں تک کہ جنت کے دروازے کا کنڈا تھام لیں، پس اس وقت آپ کی تعریفیں کریں گے۔ بخاری میں ہے جو شخص اذان سن کر دعا (اللہم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ) الخ پڑھ لے اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہے۔ مسند احمد میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں قیامت کے دن میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب اور ان کا سفارشی ہوں گا میں یہ کچھ بطور فخر کے نہیں کہتا۔ اسے ترمذی بھی لائے ہیں اور حسن صحیح کہا ہے۔
ابن ماجہ میں بھی یہ ہے۔ حضرت ابی بن کعب (رض) سے وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں قرآن کو سات قرأتوں پر پڑھنے کا بیان ہے اس کے آخر میں ہے کہ میں نے کہا اے اللہ میری امت کو بخش، الہٰی میری امت کو بخش، تیری دعا میں نے اس دن کے لئے اٹھا رکھی ہے، جس دن تمام مخلوق میری طرف رعبت کرے گی، یہاں تک کہ اگر ابراہیم (علیہ السلام) بھی۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن جمع ہوں گے پھر ان کے دل میں خیال ڈالا جائے گا کہ ہم کسی سے کہیں کہ وہ ہماری سفارش کر کے ہمیں اس جگہ سے آرام دے، پس سب کے سب حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کے لئے اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا آپ کو تمام چیزوں کے نام بتائے آپ اپنے رب کے پاس ہماری سفارش لے جائیے تاکہ ہمیں اس جگہ سے راحت ملے، حضرت آدم (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں آپ کو اپنا گناہ یاد آجائے گا اور اللہ تعالیٰ سے شرمانے لگیں، فرمائیں گے تم حضرت نوح (رض) کے پاس جاؤ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں، جنہیں زمین والوں کی طرف اللہ پاک نے بھیجا یہ آئیں گے یہاں سے بھی جواب پائیں گے کہ میں اس کے لائق نہیں ہوں، آپ کو بھی اپنی خطا یاد آئے گی کہ اللہ سے وہ سوال کیا تھا جس کا آپ کو علم نہ تھا۔ پس اپنے پروردگار سے شرمائیں جائیں گے اور فرمائیں گے تم ابراہیم خلیل الرحمن (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ آپ کے پاس آئیں گے، آپ فرمائیں کے، میں اس قابل نہیں تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، ان سے اللہ نے کلام کیا ہے اور انہیں تورات دی ہے لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے لیکن وہ کہیں گے مجھ میں اتنی قابلیت کہاں ؟ پھر آپ اس قتل کا ذکر کریں گے جو بغیر کسی مقتول کے معاوضے کے آپ نے کردیا تھا پس بوجہ اس کے شرمانے لگیں گے اور کہیں گے تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو اللہ کے بندے اس کا کلمہ اور اس کی روح ہے۔ وہ یہاں آئیں گے لیکن آپ فرمائیں گے میں اس جگہ کے قابل نہیں ہوں۔ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ جن کے اول آخر تمام گناہ بخش دئے گئے ہیں، پس وہ میرے پاس آئیں گے میں کھڑا ہوؤں گا۔ اپنے رب سے اجازت چاہوں گا جب اسے دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا۔ جب تک اللہ کو منظور ہوگا میں سجدے میں ہی رہوں گا پھر فرمایا جائے گا، اے محمد سر اٹھائیے، کہئے، سنا جائے گا، شفاعت کیجئے، قبول کی جائے گی، مانگئے دیا جائے گا، پس میں سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ تعریفیں کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں سفارش پیش کروں گا، میرے لئے ایک حد مقرر کردی جائے گی، میں انہیں جنت میں پہچا آؤں گا، پھر دوبارہ جناب باری میں حاضر ہو کر اپنے رب کی وہ حمد بیان کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لئے ایک حد مقرر کردی جائے گی میں انہیں بھی جنت میں پہنچا آؤں گا۔ پھر تیسری مرتبہ لوٹوں گا اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک وہ چاہے اسی حالت میں پڑا رہوں گا پھر فرمایا جائے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سر اٹھا، بات کر، سنی جائے گی۔ سوال کر، عطا فرمایا جائے گا۔ سفارش کر، قبول کی جائے۔ چناچہ میں سر اٹھا کر وہ حمد بیان کر کے جو مجھے وہی سکھائے گا سفارش کروں گا۔ پھر چوتھی بار واپس آؤں گا اور کہوں گا باری تعالیٰ اب تو صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک لیا ہے۔ فرماتے ہیں جہنم میں سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو اور ان کے دل میں ایک ذرے جتنا ایمان ہو۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں میری امت پل صراط سے گزر رہی ہوگی میں وہیں کھڑا دیکھ رہا ہوں گا جو میرے پاس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئیں اور فرمائیں گے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انبیا کی جماعت آپ سے کچھ مانگتی ہے وہ سب آپ کے لئے جمع ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ تمام امتوں کو جہاں بھی چاہے، الگ الگ کر دے، اس وقت وہ سخت غم میں ہیں، تمام مخلوق پسینوں میں گویا لگام چڑھا دی گئی ہے۔ مومن پر تو وہ مثل زکام کے ہے لیکن کافر پر تو موت کا ڈھانپ لینا ہے۔ آپ فرمائیں گے کہ ٹھیرو میں آتا ہوں پس آپ جائیں گے عرش تلے کھڑے رہیں گے اور وہ عزت و آبرو ملے گی کہ کسی برگزیدہ فرشتے اور کسی بھیجے ہوئے نبی رسول کو نہ ملی ہو پھر اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف وحی کرے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور کہو کہ آپ سر اٹھائیے، مانگئے، ملے گا، سفارش کیجئے، قبول ہوگی، پس مجھے اپنی امت کی شفاعت ملے گی کہ ہر ننانوے میں سے ایک نکال لاؤں میں بار بار اپنے رب عز و جل کی طرف آتا جاتا رہوں گا اور ہر بار سفاش کروں گا یہاں تک کہ جناب باری مجھ سے ارشاد فرمائے گا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاؤ مخلوق الہٰی میں سے جس نے ایک دن بھی خلوص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دی ہو اور اسی پر مرا ہو، اسے بھی جنت میں پہنچا آؤ۔ مسند احمد میں ہے حضرت بریدہ (رض) حضرت معاویہ سے (رض) کے پاس گئے اس وقت ایک شخص کچھ کہہ رہا تھا، انہوں نے بھی کچھ کہنے کی اجازت مانگی، حضرت معاویہ (رض) نے اجازت دی۔ آپ کا خیال یہ تھا کہ جو کچھ یہ پہلا شخص کہہ رہا ہے وہی بریدہ (رض) بھی کہیں گے۔ حضرت بریدہ (رض) نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ زمین پر جتنے درخت اور کنکر ہیں، ان کی گنتی کے برابر لوگوں کی شفاعت میں کروں گا، پس اے معاویہ (رض) آپ کو تو اس کی امید ہو اور حضرت علی (رض) اس سے ناامید ہوں ؟ مسند احمد میں ہے کہ ملیکہ کے دونوں لڑکے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری ماں ہمارے والد کی بڑی ہی عزت کرتی تھیں، بچوں پر بڑی مہربانی اور شفقت کرتی تھیں، مہمانداری میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتی تھیں۔ ہاں انہوں نے جاہلیت کے زمانے میں اپنی زندہ لڑکیاں درگور کردی تھیں، آپ نے فرمایا پھر وہ جہنم میں پہنچی۔ وہ دونوں ملول خاطر ہو کر لوٹے تو آپ نے حکم دیا کہ انہیں واپس بلا لاؤ وہ لوٹے اور ان کے چہروں پر خوشی تھی کہ اب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی اچھی بات سنائیں گے۔ آپ نے فرمایا سنو میری ماں اور تمہاری ماں دونوں ایک ساتھ ہی ہیں، ایک منافق یہ سن کر کہنگ لگا کہ اس سے اس کی ماں کو کیا فائدہ ؟ ہم اس کے پیچھے جاتے ہیں ایک انصاری جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سب سے زیادہ سوالات کرنے کا عادی تھا، کہنے لگا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا اس کے یا ان دونوں کے بارے میں آپ سے اللہ تعالیٰ نے کوئی وعدہ کیا ہے ؟ آپ سمجھ گئے کہ اس نے کچھ سنا ہے، فرمانے لگے نہ میرے رب نے چاہا نہ مجھے اس بارے میں کوئی طمع دی۔ سنو میں قیامت کے دن مقام محمود پر پہنچایا جاؤں گا انصاری نے کہا وہ کیا مقام ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ اس وقت جب کہ تمہیں ننگے بدن بےختنہ لایا جائے گا۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے خلیل کو کپڑے پہناؤ۔ پس دو چادریں سفید رنگ کی پہنائی جائیں گی اور آپ عرش کی طرف منہ کئے بیٹھ جائیں گے پھر میرا لباس لایا جائے گا میں ان کی دائیں طرف اس جگہ کھڑا ہوؤں گا کہ تمام اگلے پچھلے لوگ رشک کریں گے اور کوثر سے لگ کر حوض تک ان کے لئے کھول دیا جائے گا، منافق کہنے لگے پانی کے جاری ہونے کے لئے تو مٹی اور کنکر لازمی ہیں آپ نے فرمایا اس کی مٹی مشک ہے اور کنکر موتی ہیں۔ اس نے کہا، ہم نے تو کبھی ایسا نہیں سنا۔ اچھا پانی کے کنارے درخت بھی ہونے چاہیئں، انصاری نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا وہاں درخت بھی ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں سونے کی شاخوں والے۔ منافق نے کہا آج جیسی بات تو ہم نے کبھی نہیں سنی۔ اچھا درختوں میں پتے اور پھل بھی ہونے چاہئیں۔ انصاری نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ کیا ان درختوں میں پھل بھی ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں رنگا رنگ کے جواہر اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہوگا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔ ایک گھونٹ بھی جس نم اس میں سے پی لیا، وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا اور جو اس سے محروم رہ گیا وہ پھر کبھی آسودہ نہ ہوگا۔
ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ عز و جل شفاعت کی اجازت دے گا، پس روح القدس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کھڑے ہوں گے، پھر حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کھڑے ہوں گے آپ سے زیادہ کسی کی شفاعت نہ ہوگی یہی مقام محمود ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے، میں اپنی امت سمیت ایک ٹیلے پر کھڑا ہوؤں گا، مجھے اللہ تعالیٰ سبز رنگ حلہ پہنائے گا، پھر مجھے اجازت دی جائے گی اور جو کچھ کہنا چاہوں گا، کہوں گا یہی مقام محمود ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھ کر اپنی امت کو اور امتوں میں پہچان لوں گا، کسی نے پوچھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ساری امتیں جو حضرت نوح کے وقت تک کی ہوں گی ان سب میں سے آپ خاص اپنی امت کیسے پہچان لیں گے ؟ آپ نے فرمایا وضو کے اثر سے ان کے ہاتھ پاؤں منہ چمک رہے ہوں گے ان کے سوا اور کوئی ایسا نہ ہوگا اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے اور نشان یہ ہے کہ ان کی اولادیں ان کے آگے آگے چل پھر رہی ہوں گی۔ مسند احمد میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گوشت لایا گیا اور شانے کا گوشت چونکہ آپ کو زیادہ مرغوب تھا، وہی آپ کو دیا گیا آپ اس میں سے گوشت توڑ توڑ کر کھانے لگے اور فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا انہیں سنائے گا۔ نگاہیں اوپر کو چڑھ جائیں گی سورج بالکل نزدیک ہوجائے گا اور لوگ ایسی سختی اور رنج و غم میں مبتلا ہوجائیں گے جو ناقابل برداشت ہے۔ اس وقت وہ آپس میں کہیں گے کہ دیکھو تو سہی ہم سب کس مصیبت میں مبتلا ہیں، چلو کسی سے کہہ کر اسے سفارشی بنا کر اللہ تعالیٰ کے پاس بھیجیں۔
چنانچہ مشورہ سے طے ہوگا اور لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ تمام انسانوں کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، آپ میں اپنی روح پھونکی ہے، اپنے فرشتوں کو آپ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دے کر ان سے سجدہ کرایا ہے۔ آپ کیا ہماری خستہ حالی ملاحظہ نہیں فرما رہے ؟ آپ پروردگار سے شفاعت کی دعا کیجئے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غضبناک ہو رہا ہے کہ کبھی اس سے پہلے ایسا غضبناک نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک درخت سے روکا تھا، لیکن مجھ سے نافرمانی ہوگئی۔ آج تو مجھے خود اپنا خیال لگا ہوا ہے۔ نفسا نفسی لگی ہوئی ہے۔ تم کسی اور کے پاس جاؤ نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ وہاں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے نوح (علیہ السلام) آپ کو زمین والوں کی طرف سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا۔ آپ کا نام اس نے شکر گزار بندہ رکھا۔ آپ ہمارے لئے اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے، دیکھئے تو ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ آج تو میرا پروردگار اس قدر غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا غصے میں ہوا نہ اسے کے بعد کبھی ایسا غصے ہوگا۔ میرے لئے ایک دعا تھی جو میں نے اپنے قوم کے خلاف مانگ لی مجھے تو آج اپنی پڑی ہے، نفسا نفسی لگ رہی ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور کہیں کے، آپ نبی اللہ ہیں، آپ خلیل اللہ ہیں، کیا آپ ہماری یہ بپتا نہیں دیکھتے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غضبناک ہے کہ کبھی اس سے پہلے ایسا ناراض ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی اس سے زیادہ غصے میں آئے گا پھر آپ آپنے جھوٹ یاد کر کے نفسی نفسی کرنے لگیں گے اور فرمائیں گے میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہماری شفاعت لے جائیے دیکھئے تو کیسی سخت آفت میں ہیں ؟ آپ فرمائیں گے آج تو میرا رب اس قدر نارض ہے ایسا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا ناراض نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا ناراض ہوگا، میں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر ایک انسان کو مار ڈالا تھا۔ نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کسی اور سے کہو تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے عیسیٰ (علیہ السلام) آپ رسول اللہ کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں جو مریم (علیہ السلام) کی طرف بھیجی گئی بچپن میں گہوارے میں ہی آپ نے بولنا شروع کردیا تھا چاہے ہمارے رب سے ہماری شفاعت کیجئے خیال تو فرمائیے کہ ہم کس قدر بےچین ہیں ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ آج جیسا غصہ تو نہ پہلے تھا، نہ بعد میں ہوگا، نفسی نفسی نفسی، آپ اپنے کسی گناہ کا ذکر نہ کریں گے۔ فرمائیں گے تم کسی اور ہی کے پاس جاؤ۔ دیکھو میں بتاؤں تم سب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ چناچہ وہ سب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں گے اور کہیں گے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ رسول اللہ ہیں، آپ خاتم الانبیاء ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئے ہیں۔ آپ ہماری شفاعت کیجئے دیکھئے تو ہم کیسی سخت بلاؤں میں گھرے ہوئے ہیں،
پھر میں کھڑا ہوؤں گأ اور عرش تلے آ کر اپنے رب عز و جل کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد و ثنا کے وہ الفاظ کھولے گا جو مجھ سے پہلے کسی اور پر نہیں کھلے تھے۔
پھر مجھ سے فرمایا جائے گا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا سر اٹھاؤ، مانگو، تمہیں ملے گا، شفاعت کرو، منظور ہوگی۔ میں اپنا سر سجدے سے اٹھاؤں گا اور کہوں گا میرے پروردگار میری امت، میرے رب میری امت، اے اللہ میری امت، پس مجھ سے فرمایا جائے گا، جاؤ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں، جنت میں لے جاؤ انہیں جنت کے داہنی طرف کے دروازے سے پہنچاؤ لیکن اور تمام دروازوں سے بھی روک نہیں۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، جنت کی دو چوکھٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ ور حمیر میں یا مکہ اور بصری میں۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔
مسلم شریف میں ہے قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار میں ہوں اس دن سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی، میں ہی پہلا شفیع ہوں اور پہلا شفاعت قبول کیا گیا۔ ابن جریر میں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ شفاعت ہے۔ مسند احمد میں ہے مقام محمود وہ مقام ہے، جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔ عبد الرزاق میں ہے کہ قیامت کے دن کھال کی طرح اللہ تعالیٰ زمین کو کھینچ لے گا یہاں تک کہ ہر شخص کے لئے صرف اپنے دونوں قدم ٹکانے کی جگہ ہی رہے گی سب سے پہلے اسے اس نے نہیں دیکھا۔ میں کہوں گا کہ باری تعالیٰ اس فرشتے نے مجھ سے کہا تھا کہ اسے تو میری طرف بھیج رہا تھا اللہ تعالیٰ عز و جل فرمائے گا اس نے سچ کہا اب میں یہ کہہ کر شفاعت کروں گا کہ اے اللہ تیرے بندوں نے زمین کے مختلف حصوں میں تیری عبادت کی ہے، آپ فرماتے ہیں یہی مقام محمود ہے۔ یہ حدیث مرسل ہے۔