بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہوگی،
English Sahih:
Indeed, those who have believed and done righteous deeds – they will have the Gardens of Paradise as a lodging,
1 Abul A'ala Maududi
البتّہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے
2 Ahmed Raza Khan
بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے
3 Ahmed Ali
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گےبے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھےکام کئےان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے
4 Ahsanul Bayan
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کئے یقیناً ان کے لئے فردوس (١) کے باغات کی مہمانی ہے
١٠٧۔١ جنت الفردوس، جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' جب بھی تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو الفردوس کا سوال کرو، اس لئے کہ وہ جنت کا اعلیٰ حصہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ' (البخاری کتاب التوحید)
5 Fateh Muhammad Jalandhry
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے
6 Muhammad Junagarhi
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے
7 Muhammad Hussain Najafi
بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے تو ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغ ہیں۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان کی منزل کے لئے جنّت الفردوس ہے
9 Tafsir Jalalayn
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے
10 Tafsir as-Saadi
یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کئے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروع سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔” جنات الفردوس“ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی مقربین، ابرار اور متوسطین ان کے حسب حال سب کو شامل ہو اور یہی معنی زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ معنی عام ہے، نیز اس لئے کہ جنت کو جمع کے لفظ کے ساتھ ” فردوس“ کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں فردوس کا اطلاق اس باغ پر ہوتا ہے جو انگور کی بیلوں اور گنجان درختوں پر مشتمل ہو تب یہ لفظ تمام جنت پر صادق آتا ہے۔ پس جنت فردوس ان لوگوں کے لئے مہمانی اور ضیافت کی جگہ ہے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد نیک عمل کئے۔ اس ضیافت سے بڑی، زیادہ عظیم اور زیادہ جلیل القدر کون سی ضیافت ہوسکتی ہے جو قلب و روح اور بدن کے لئے ہر نعمت پر مشتمل ہے۔ اس میں ہر وہ نعمت موجود ہے جس کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، مثلاً خوبصورت گھر، سرسبز باغات، پھل دار درخت، سحر انگیز گیت، گاتے ہوئے پرندے، لذیذ ماکولات و مشروبات، خوبصورت بیویاں، خدمت گزار لڑکے، بہتی ہوئی نہریں، دلکش مناظر، حسی اور معنوی حسن و جمال اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں۔ اس سے بھی افضل اور جلیل القدر نعمت، رحمٰن کا تقرب، اس کی رضا کا حصول جو کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور رؤف و رحیم کے کلام سے لطف اندوز ہونا۔۔۔. اللہ کی قسم ! یہ ضیافت کتنی جلیل القدر کتنی خوبصورت، ہمیشہ رہنے والی اور کتنی کامل ہوگی۔ یہ ضیافت اس سے بہت بڑی ہے کہ مخلوق میں سے کوئی شخص اس کا وصف بیان کرسکے، یا دلوں میں اس کے تصور کا گزر ہوسکے۔ اگر بندوں کو ان میں سے کچھ نعمتوں کا حقیقی علم حاصل ہو کر ان کے دلوں میں جاگزیں ہوجائے تو دل شوق سے اڑنے لگیں گے، جدائی کے درد سے روح لخت لخت ہوجائے گی اور بندے اکیلے اکیلے اور گروہ در گروہ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ وہ اس کے مقابلے میں دنیائے فانی اور اس کی ختم ہوجانے والی لذات کو کبھی بھی ترجیح نہیں دیں گے۔ وہ اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے کہ یہ اوقات خسارے اور ناکامی کا باعث بنیں کیونکہ اس جنت کا ایک لمحہ دنیا کی ہزاروں سال کی نعمتوں کے برابر ہے۔ مگر حقیقت حال یہ ہے کہ غفلت نے گھیر رکھا ہے، ایمان کمزور پڑگیا اور ارادہ اضمحلال کا شکار ہوگیا ہے، پس اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا چاہئے تھا فلا حول ولا قوة الا باللّٰہ العلی العظیم۔
11 Mufti Taqi Usmani
. ( doosri taraf ) jo log emaan laye hain , aur jinhon ney naik amal kiye hain , unn ki mehmani kay liye beyshak firdous kay baagh hon gay ,
12 Tafsir Ibn Kathir
جنت الفردوس کا تعارف۔ اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے ان کی باتوں پر عمل کرنے ولاے، بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت فردوس کا سوال کرو یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ یہی ان کا مہمان خانہ ہوگی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں نہ نکلنے کا خیال آئے نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے روز بروز رغبت و محبت انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لئے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور نئی نعمت ملتی ہے۔