Skip to main content

وَدَخَلَ جَنَّتَهٗ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا ۙ

وَدَخَلَ
اور وہ داخل ہوا
جَنَّتَهُۥ
اپنے باغ میں
وَهُوَ
اس حال میں کہ وہ
ظَالِمٌ
ظلم کرنے والا تھا اپنی جان پر
لِّنَفْسِهِۦ
اپنی ذات پر
قَالَ
کہنے لگا
مَآ
نہیں
أَظُنُّ
میں سمجھتا
أَن
کہ
تَبِيدَ
ہلاک ہوگا/ برباد ہوگا
هَٰذِهِۦٓ
یہ
أَبَدًا
کبھی بھی

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا "میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اپنے باغ میں گیا اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا بولا مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فنا ہو،

احمد علی Ahmed Ali

اور اپنے باغ میں داخل ہوا ایسے حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا کہا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ظلم کرنے والا۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہو جائے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ﻇلم کرنے واﻻ۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرسکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہوجائے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ (ایک دن) اپنے باغ میں داخل ہوا جبکہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا تھا (اور) کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو جائے گا۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

وہ اسی عالم میں اپنے نفس پر ظلم کررہا تھا اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ میں تو خیال بھی کرتا ہوں کہ یہ کبھی تباہ بھی نہیں ہوسکتا ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہ (اسے لے کر) اپنے باغ میں داخل ہوا (تکبّر کی صورت میں) اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے کہنے لگا: میں یہ گمان (ہی) نہیں کرتا کہ یہ باغ تباہ ہوگا،