Skip to main content

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا ۙ اَىُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِيًّا

وَإِذَا
اور جب
تُتْلَىٰ
پڑھی جاتی ہیں
عَلَيْهِمْ
ان پر
ءَايَٰتُنَا
ہماری آیات
بَيِّنَٰتٍ
واضح
قَالَ
کہتے ہیں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
ءَامَنُوٓا۟
جو ایمان لائے
أَىُّ
کونسا
ٱلْفَرِيقَيْنِ
دو گروہوں میں سے
خَيْرٌ
بہتر ہے
مَّقَامًا
مقام کے اعتبار سے۔ مرتبے کے اعتبار
وَأَحْسَنُ
اور خوب تر
نَدِيًّا
مجلس کے اعتبار سے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں کون سے گروہ کا مکان اچھا اورمجلس بہتر ہے

احمد علی Ahmed Ali

اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کافر ایمان داروں سے کہتے ہیں دونوں فریقوں میں سے کس کا مرتبہ بہتر ہے اور محفل کس کی اچھی ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیادہ ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے (١)۔

٧٣۔١ یعنی قرآنی دعوت کا مقابلہ یہ کفار مکہ فقرا مسلمین اور اغنیائے قریش اور ان کی مجلسوں اور مکانوں کے باہمی موازنے سے کرتے ہیں، کہ مسلمانوں میں عمار، بلال، صہیب رضی اللہ عنہم جیسے فقیر لوگ ہیں، انکا دار الشوریٰ دار ارقم ہے۔ جب کہ کافروں میں ابو جہل، نفر بن حارث، عتبہ، شیبہ وغیرہ جیسے رئیس اور ان کی عالی شان کوٹھیاں اور مکانات ہیں، ان کی اجتماع گاہ بہت عمدہ ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جب ان لوگوں کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریق میں سے مکان کس کے اچھے اور مجلسیں کس کی بہتر ہیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیاده ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے؟

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ (دیکھو ہم) دونوں گروہوں میں سے رہائش گاہ کس کی اچھی ہے اور محفل کس کی زیادہ شاندار ہے؟

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جب ان کے سامنے ہماری کِھلی ہوئی آیتیں پیش کی جاتی ہیں تو ان میں کے کافر صاحبان ایمان سے کہتے ہیں کہ ہم دونوں میں کس کی جگہ بہتر اور کس کی منزل زیادہ حسن ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں: (اسی دنیا میں دیکھ لو! ہم) دونوں گروہوں میں سے کس کی رہائش گاہ بہتر اور مجلس خوب تر ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

کثرت مال فریب زندگی۔
اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل وبرہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان وشوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پر تکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی اور بارونق ہیں ؟ پس ہم جو کہ مال ودولت، شان وشوکت، عزت وآبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ہم اللہ کے پیارے ہیں یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں ؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے، کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کافروں نے کہا (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ ۭ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ 11 ؀) 46 ۔ الأحقاف ;11) اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ (انومن لک واتبعک الا رزلون) تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدار بن نہیں سکتے۔ اور آیت میں ہے کہ اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے ؟ پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کردیا۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان وشوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت میں اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کردیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو انکے باغات انکی نہریں انکی کھیتاں انکے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کردیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے۔ مقام سے مراد مسکین اور نعمتیں ہیں "، ندی " سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں جیسے آیت (فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ ۭ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَاب اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 29؀) 29 ۔ العنکبوت ;29) میں ہے یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں لباس میں مال میں متاع میں صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔