Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

سَيَقُوْلُ السُّفَهَاۤءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰٮهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْا عَلَيْهَا ۗ قُلْ لِّـلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۗ يَهْدِىْ مَنْ يَّشَاۤءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ

سَيَقُوْلُ
عنقریب کہیں گے
السُّفَهَاۗءُ
وہ جو بیوقوف ہیں
مِنَ النَّاسِ
لوگوں میں سے
مَا
کس چیز نے
وَلّٰىهُمْ
پھیر دیا ان کو
عَنْ
سے
قِبْلَتِهِمُ
ان کے اس قبلے سے
الَّتِىْ
وہ جب، جو
كَانُوْا
تھے وہ
عَلَيْهَا ۭ
جس پر
قُلْ
کہہ دیجیے
لِّلّٰهِ
اللہ ہی کے لیے ہے
الْمَشْرِقُ
مشرق
وَالْمَغْرِبُ ۭ
اور مغرب
يَهْدِيْ
وہ ہدایت دیتا ہے
مَنْ
جسے
يَّشَاۗءُ
وہ چاہتا ہے
اِلٰى
طرف
صِرَاطٍ
راستے کے
مُّسْتَقِيْمٍ
سیدھے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

نادان لوگ ضرور کہیں گے ; اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اس سے یکایک پھر گئے؟ اے نبی، ان سے کہو; "مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے

ابوالاعلی مودودی

نادان لوگ ضرور کہیں گے : اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اس سے یکایک پھر گئے؟ اے نبی، ان سے کہو: "مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے

احمد رضا خان

اب کہیں گے بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔

احمد علی

بے وقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے کہہ دو مشرق اور مغرب الله ہی کا ہے وہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

جالندہری

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے

محمد جوناگڑھی

عنقریب نادان لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے انہیں کس چیز نے ہٹایا؟ آپ کہہ دیجیئے کہ مشرق ومغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے وه جسے چاہے سیدھی راه کی ہدایت کردے

محمد حسین نجفی

عنقریب بے وقوف لوگ کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو کس چیز نے روگردان کر دیا۔ اس قبلہ (بیت المقدس) سے، جس پر وہ پہلے تھے (اے پیغمبر(ص)) کہہ دیجئے اللہ ہی کے لیے ہے مشرق اور مغرب بھی۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرتا ہے (اس پر لگا دیتا ہے)۔

علامہ جوادی

عنقریب احمق لوگ یہ کہیں گے کہ ان مسلمانوں کو اس قبلہ سے کس نے موڑ دیا ہے جس پر پہلے قائم تھے تو اے پیغمبر کہہ دیجئے کہ مشرق و مغرب سب خدا کے ہیں وہ جسے چاہتاہے صراط مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے

طاہر القادری

اَب بیوقوف لوگ یہ کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو اپنے اس قبلہ (بیت المقدس) سے کس نے پھیر دیا جس پر وہ (پہلے سے) تھے، آپ فرما دیں: مشرق و مغرب (سب) اﷲ ہی کے لئے ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر ڈال دیتا ہے،

تفسير ابن كثير

تحویل کعبہ ایک امتحان بھی تھا۔ اور تقرر جہت بھی
بیوقوفوں سے مراد یہاں مشرکین عرب اور علماء یہود اور منافقین وغیرہ ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن خود آپ کی چاہت یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ شریف ہو۔ چناچہ اب حکم آگیا اور آپ نے عصر کی نماز اس کی طرف ادا کی۔ آپ کے ساتھ کے نمازیوں میں سے ایک شخص کسی اور مسجد میں پہنچا، وہاں جماعت رکوع میں تھی اس نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھ کر ابھی آ رہا ہوں۔ جب ان لوگوں نے سنا تو اسی حالت میں وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے، اب بعض لوگوں نے یہ کہا کہ جو لوگ اگلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے شہید ہوچکے ہیں ان کی نمازوں کا کیا حال ہے۔ تب یہ فرمان نازل ہوا کہ (وما کان اللہ) الخ یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ " جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت (قدنری) الخ یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ " حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت جس پر فرمان ( ماکان اللہ) الخ نازل ہوا اور ان کی نمازوں کی طرف سے اطمینان ہوا۔ اب بعض بیوقوف اہل کتاب نے قبلہ کے بدلے جانے پر اعتراض کیا، جس پر یہ آیتیں (سَیَقُوْلُ السُّفَہَآءُ ) الخ نازل ہوئیں " شروع ہجرت کے وقت مدینہ شریف میں آپ کو بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا تھا۔ یہود اس سے خوش تھے لیکن آپ کی چاہت اور دعا قبلہ ابراہیمی کی تھی۔ آخر جب یہ حکم نازل ہوا تو یہودیوں نے جھٹ سے اعتراض جڑ دیا۔ جس کا جواب ملا کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایتیں ہیں خلاصہ یہ ہے کہ مکہ شریف میں آپ دونوں رکن کے درمیان نماز پڑھتے تھے تو آپ کے سامنے کعبہ ہوتا تھا اور بیت المقدس کے صخرہ کی طرف آپ کا منہ ہوتا تھا، لیکن مدینہ جا کر یہ معاملہ مشکل ہوگیا۔ دونوں جمع نہیں ہوسکتے تھے تو وہاں آپ کو بیت المقدس کی طرف نماز ادا کرنے کا حکم قرآن میں نازل ہوا تھا یا دوسری وحی کے ذریعہ یہ حکم ملا تھا۔ بعض بزرگ تو کہتے ہیں یہ صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجتہادی امر تھا اور مدینہ آنے کے بعد کئی ماہ تک اسی طرف آپ نمازیں پڑھتے رہے گو چاہت اور تھی۔ یہاں تک کہ پروردگار نے بیت العتیق کی طرف منہ پھیرنے کو فرمایا اور آپ نے اس طرف منہ کر کے پہلے نماز عصر پڑھی اور پھر لوگوں کو اپنے خطبہ میں اس امر سے آگاہ کیا۔ بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ ظہر کی نماز تھی۔ حضرت ابو سعید بن معلی فرماتے ہیں " میں نے اور میرے ساتھی نے اول اول کعبہ کی طرف نماز پڑھی ہے اور ظہر کی نماز تھی " بعض مفسرین وغیرہ کا بیان ہے کہ " نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب قبلہ بدلنے کی آیت نازل ہوئی۔ اس وقت آپ مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے، دو رکعت ادا کرچکے تھے پھر باقی کی دو رکعتیں آپ نے بیت اللہ شریف کی طرف پڑھیں، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام ہی مسجد ذو قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد ہے۔ حضرت نویلہ بنت مسلم فرماتی ہیں کہ ہم ظہر کی نماز میں تھے جب ہمیں یہ خبر ملی اور ہم نماز میں ہی گھوم گئے۔ مرد عورتوں کی جگہ آگئے اور عورتیں مردوں کی جگہ جا پہنچیں۔ ہاں اہل قبا کو دوسرے دن صبح کی نماز کے وقت یہ خبر پہنچی بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قبا میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اچانک کسی آنے والے نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رات کو حکم قرآنی نازل ہوا اور کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم ہوگیا۔ چناچہ ہم لوگ بھی شام کی طرف سے منہ ہٹا کر کعبہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ناسخ کے حکم کا لزوم اسی وقت ہوتا ہے۔ جب اس کا علم ہوجائے گو وہ پہلے ہی پہنچ چکا ہو۔ اس لئے کہ ان حضرات کو عصر مغرب اور عشا کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔ واللہ اعلم۔ اب باطل پرست کمزور عقیدے والے باتیں بنانے لگے کہ اس کی کیا وجہ ہے کبھی اسے قبلہ کہتا ہے کبھی اسے قبلہ قرار دیتا ہے۔ انہیں جواب ملا کہ حکم اور تصرف اور امر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جدھر منہ کرو۔ اسی طرف اس کا منہ ہے بھلائی اسی میں نہیں آگئی بلکہ اصلیت تو ایمان کی مضبوطی ہے جو ہر حکم کے ماننے پر مجبور کردیتی ہے اور اس میں گویا مومنوں کو ادب سکھایا گیا ہے کہ ان کا کام صرف حکم کی بجا آوری ہے جدھر انہیں متوجہ ہونے کا حکم دیا جائے یہ متوجہ ہوجاتے ہیں اطاعت کے معنی اس کے حکم کی تعمیل کے ہیں اگر وہ ایک دن میں سو مرتبہ ہر طرف گھمائے تو ہم بخوشی گھوم جائیں گے ہم اس کے غلام ہیں ہم اس کے ماتحت ہیں اس کے فرمانبردار ہیں اور اس کے خادم ہیں جدھر وہ حکم دے گا پھیر لیں گے۔ امت محمدیہ پر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے کہ انہیں خلیل الرحمن (علیہ السلام) کے قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا جو اسی اللہ لا شریک کے نام پر بنایا گیا ہے اور تمام تر فضیلتیں جسے حاصل ہیں۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث ہے کہ یہودیوں کو ہم سے اس بات پر بہت حسد ہے کہ اللہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی توفیق دی اور یہ اس سے بھٹک گئے اور اس پر کہ ہمارا قبلہ یہ ہے اور وہ اس سے گمراہ ہوگئے اور بڑا حسد ان کو ہماری آمین کہنے پر بھی ہے جو ہم امام کے پیچھے کہتے ہیں